<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جزیرہ خارک پر امریکی بمباری، تمام فوجی اہداف تباہ کردیے، ڈونلڈ ٹرمپ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283876/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے  کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ خارک پر واقع فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا جاری رکھا تو جزیرے پر موجود تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے جائیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے لیکن انہوں نے فی الحال تیل کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل کی ترسیل کے 90 فیصد حصے کے لیے ایکسپورٹ ٹرمینل کے طور پر کام کرتا ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 300 میل  شمال مغرب میں واقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران یا کسی اور نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کروں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے مزید کہا کہ ایران میں امریکی حملوں کے خلاف دفاع کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج اور اس دہشت گرد حکومت کے ساتھ شامل دیگر تمام افراد کے لیے یہی دانشمندی ہوگی کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور اپنے ملک کا جو کچھ حصہ باقی بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ اب ویسے بھی زیادہ نہیں ہے!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں ٹرمپ کے بدلتے بیانات کی وجہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اس صورتحال نے ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کیلئے اکسایا ہے جو کہ تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو جب رپورٹرز نے پوچھا کہ امریکی بحریہ کب آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی حفاظت  شروع کرے گی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ جلد ہی ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے  کہا کہ امریکی فوج نے ایران کے جزیرہ خارک پر واقع فوجی ٹھکانوں پر بمباری کی ہے۔ یہ جزیرہ ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز کے طور پر جانا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے شپنگ کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنا جاری رکھا تو جزیرے پر موجود تیل کے بنیادی ڈھانچے پر مزید حملے کیے جائیں گے۔</strong></p>
<p>ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ امریکی فوج نے جزیرے پر موجود تمام فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا ہے لیکن انہوں نے فی الحال تیل کی تنصیبات کو نقصان نہ پہنچانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ جزیرہ ایران کی تیل کی ترسیل کے 90 فیصد حصے کے لیے ایکسپورٹ ٹرمینل کے طور پر کام کرتا ہے اور آبنائے ہرمز سے تقریباً 300 میل  شمال مغرب میں واقع ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایران یا کسی اور نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آزادانہ اور محفوظ نقل و حمل میں مداخلت کی کوشش کی تو میں فوری طور پر اس فیصلے پر نظرثانی کروں گا۔</p>
<p>صدر نے مزید کہا کہ ایران میں امریکی حملوں کے خلاف دفاع کی کوئی صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی فوج اور اس دہشت گرد حکومت کے ساتھ شامل دیگر تمام افراد کے لیے یہی دانشمندی ہوگی کہ وہ اپنے ہتھیار ڈال دیں اور اپنے ملک کا جو کچھ حصہ باقی بچا ہے اسے بچا لیں، جو کہ اب ویسے بھی زیادہ نہیں ہے!</p>
<p>یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا جب تیل کی قیمتیں ایران جنگ کے ممکنہ دورانیے کے بارے میں ٹرمپ کے بدلتے بیانات کی وجہ سے اتار چڑھاؤ کا شکار ہیں، اس صورتحال نے ایران کو آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملوں کیلئے اکسایا ہے جو کہ تیل کی ترسیل کی اہم گزرگاہ ہے۔</p>
<p>جمعہ کو جب رپورٹرز نے پوچھا کہ امریکی بحریہ کب آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی حفاظت  شروع کرے گی، تو ٹرمپ نے جواب دیا کہ یہ جلد ہی ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283876</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Mar 2026 13:04:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/14125631e5cc79a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/14125631e5cc79a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
