<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور سیکٹر میں آر ایل این جی کی کھپت، حکومت نے آپریشنل پلان کی تیاری کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283864/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے استعمال کے موجودہ انتظامات کا جائزہ لینے اور اس کے لیے ایک مربوط آپریشنل منصوبہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں، انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی اس ایم او) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد زکریا نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ برسوں میں نیشنل گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ چھتوں پر سولر پینلز  کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دیگر عوامل ہیں۔ ساتھ ہی، پاکستان قطر انرجی کے ساتھ کیے گئے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آر ایل این جی کے کارگو وصول کرنے کا پابند بھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، میرٹ آرڈر (بجلی کی پیداواری لاگت کی ترتیب) میں آر ایل این جی پر مبنی بجلی کی پیداوار نسبتاً مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں آر ایل این جی سے چلنے والے پلانٹس کو چلانے کے لیے اکثر سستے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو کم یا بند کرنا پڑتا ہے تاکہ آر ایل این جی کے لازمی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نے مزید کہا ہے کہ یہ صورتحال سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے زیرِ انتظام گیس سسٹم کے آپریشنز اور سسٹم آپریٹر کی جانب سے بجلی کی تقسیم کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھرتے ہوئے آپریشنل چیلنجز اور گیس و بجلی کے شعبوں کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت کے پیش نظر، حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی آئی ایس ایم او بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں ایس این جی پی ایل  کے جنرل منیجر جواد نسیم، ایس ایس جی سی ایل کے سعید ریاض، سرفراز شاہ، ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو، اور آئی ایس ایم او کے پلاننگ کنسلٹنٹ عمر فاروق، عبدالکبیر، نبیل علی اور موضوع کے ماہر عاصم ریاض شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس  میں درج ذیل نکات شامل ہیں:(i) تاریخی اور موجودہ چیلنجز بشمول معاہدوں کی پاسداری، پاور سسٹم ڈیسپیچ کی رکاوٹوں اور گیس سپلائی چین کی حدود کے جامع جائزے کے ذریعے آر ایل این جی  کے کم استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنا؛ (ii) میرٹ آرڈر ڈیسپیچ اور موجودہ معاہداتی یا آپریشنل پابندیوں میں نرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاور سیکٹر میں آر ایل این جی کی کھپت کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ لگانا؛ (iii) زائد آر ایل این جی کے استعمال کو بڑھانے کے لیے ایک قابلِ عمل حکمت عملی تیار کرنا، جس میں آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر چلانا، گیس کی معاہداتی دوبارہ تقسیم اور گیس و بجلی کے شعبوں میں آپریشنل بہتری شامل ہو؛ (iv) پاور سیکٹر میں آر ایل این جی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے وابستہ مالیاتی اور ٹیرف (بجلی کی قیمتوں) پر اثرات کا جائزہ لینا؛ اور (v) مستقبل میں آر ایل این جی کے موثر اور مربوط استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک دور اندیش فریم ورک تجویز کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئی ایس ایم او  نے تقریباً 10 آر ایل این جی کارگو میں مزید کمی کی درخواست کی ہے، جو کہ پہلے سے کم کیے گئے حجم کے علاوہ ہے اور مبینہ طور پر انٹیگریٹڈ جنریشن کپیسٹی ایکسپینشن پلان  کی خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر 2025 میں، آئی ایس ایم او نے کیلنڈر سال 2026 کے لیے پاور سیکٹر کی آر ایل این جی طلب کے حوالے سے پٹرولیم ڈویژن کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں طلب میں ایک بار پھر کمی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطر ایل این جی سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹس  کے تحت، ایل این جی کارگو کی شیڈولنگ کے لیے سالانہ ڈلیوری پلان اگلے کیلنڈر سال کے لیے 15 اکتوبر تک حتمی شکل دے دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی مناسبت سے پاور ڈویژن کے وزیر سردار اویس احمد خان لغاری اور پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران، سال 2026 کے لیے آر ایل این جی  کی طلب کی تصدیق آئی جی سی ای پی  کی ضروریات کے مطابق کی گئی تھی۔ ان اعداد و شمار کو ’ووڈ میکنزی‘کی اس تحقیق کا حصہ بھی بنایا گیا تھا جو نیٹ پروسیڈ ڈفرینشل کارگو کے حجم کا تعین کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ نتیجے کے طور پر، قطر انرجی کے ساتھ سال 2026 کے لیے سالانہ ڈیلیوری پلان کو 30 نومبر 2025 کو حتمی شکل دے دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، 13 دسمبر 2025 کو لکھے گئے اپنے خط کے ذریعے، آئی ایس ایم اونے ایک بار پھر پاور سیکٹر کے لیے آر ایل این جی کی طلب پر نظرثانی کی۔ پیٹرولیم ڈویژن کا موقف ہے کہ اب مزید کارگو کی منسوخی یا شیڈول میں تبدیلی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آئی جی سی ای پی کی ضروریات اور طلب کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے درمیان تضاد پیدا ہو جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجوزہ آئی ایس ایم او پلان پاور سیکٹر میں آر ایل این جی  کی ماہانہ طلب میں نمایاں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر تقریباً 10 ایل این جی کارگو ضرورت سے زائد ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کا ماننا ہے کہ قطر انرجی کے ساتھ سالانہ ڈیلیوری پلان کو حتمی شکل دینے کے بعد طلب میں کی جانے والی ان تبدیلیوں نے پہلے ہی سنگین آپریشنل چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن میں پائپ لائنوں میں گیس کا بہت زیادہ دباؤ  اور سسٹم کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی گیس کی پیداوار میں تقریباً 200 ایم ایم سی ایف ڈی  تک کی کٹوتی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم نے بیان دیا کہ گیس کی فراہمی میں کٹوتی اور گیس فیلڈز کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے جس کے نتیجے میں آئل اینڈ گیس کمپنیوں کو آمدنی کا نقصان اور حکومت کے نان ٹیکس ریونیو میں کمی ہو سکتی ہے، پاور ڈویژن کو آئی جی سی ای پی کے تحت طے شدہ حجم کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے پاور ڈویژن کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ گیس کی طلب میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اتار چڑھاؤ  کو 5 سے 10 فیصد تک کی حد کے اندر منظم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ حکومت نے پاور سیکٹر میں ری گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کے استعمال کے موجودہ انتظامات کا جائزہ لینے اور اس کے لیے ایک مربوط آپریشنل منصوبہ تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے۔</strong></p>
<p>پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری کو لکھے گئے ایک خط میں، انڈیپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر (آئی اس ایم او) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد زکریا نے نشاندہی کی ہے کہ حالیہ برسوں میں نیشنل گرڈ سے بجلی کی طلب میں کمی کا رجحان دیکھا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ چھتوں پر سولر پینلز  کی بڑھتی ہوئی تعداد اور دیگر عوامل ہیں۔ ساتھ ہی، پاکستان قطر انرجی کے ساتھ کیے گئے طویل مدتی معاہدوں کے تحت آر ایل این جی کے کارگو وصول کرنے کا پابند بھی ہے۔</p>
<p>تاہم، میرٹ آرڈر (بجلی کی پیداواری لاگت کی ترتیب) میں آر ایل این جی پر مبنی بجلی کی پیداوار نسبتاً مہنگی ہے۔ اس کے نتیجے میں آر ایل این جی سے چلنے والے پلانٹس کو چلانے کے لیے اکثر سستے ذرائع سے پیدا ہونے والی بجلی کو کم یا بند کرنا پڑتا ہے تاکہ آر ایل این جی کے لازمی استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔</p>
<p>انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر نے مزید کہا ہے کہ یہ صورتحال سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے زیرِ انتظام گیس سسٹم کے آپریشنز اور سسٹم آپریٹر کی جانب سے بجلی کی تقسیم کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے۔</p>
<p>ابھرتے ہوئے آپریشنل چیلنجز اور گیس و بجلی کے شعبوں کے درمیان مربوط منصوبہ بندی کی ضرورت کے پیش نظر، حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ اس کمیٹی کی سربراہی آئی ایس ایم او بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر فیاض احمد چوہدری کریں گے جبکہ دیگر اراکین میں ایس این جی پی ایل  کے جنرل منیجر جواد نسیم، ایس ایس جی سی ایل کے سعید ریاض، سرفراز شاہ، ڈی جی گیس عبدالرشید جوکھیو، اور آئی ایس ایم او کے پلاننگ کنسلٹنٹ عمر فاروق، عبدالکبیر، نبیل علی اور موضوع کے ماہر عاصم ریاض شامل ہیں۔</p>
<p>کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس  میں درج ذیل نکات شامل ہیں:(i) تاریخی اور موجودہ چیلنجز بشمول معاہدوں کی پاسداری، پاور سسٹم ڈیسپیچ کی رکاوٹوں اور گیس سپلائی چین کی حدود کے جامع جائزے کے ذریعے آر ایل این جی  کے کم استعمال کی بنیادی وجوہات کی نشاندہی کرنا؛ (ii) میرٹ آرڈر ڈیسپیچ اور موجودہ معاہداتی یا آپریشنل پابندیوں میں نرمی کو مدنظر رکھتے ہوئے پاور سیکٹر میں آر ایل این جی کی کھپت کی حقیقی صلاحیت کا اندازہ لگانا؛ (iii) زائد آر ایل این جی کے استعمال کو بڑھانے کے لیے ایک قابلِ عمل حکمت عملی تیار کرنا، جس میں آر ایل این جی سے چلنے والے پاور پلانٹس کو ترجیحی بنیادوں پر چلانا، گیس کی معاہداتی دوبارہ تقسیم اور گیس و بجلی کے شعبوں میں آپریشنل بہتری شامل ہو؛ (iv) پاور سیکٹر میں آر ایل این جی کے بڑھتے ہوئے استعمال سے وابستہ مالیاتی اور ٹیرف (بجلی کی قیمتوں) پر اثرات کا جائزہ لینا؛ اور (v) مستقبل میں آر ایل این جی کے موثر اور مربوط استعمال کو یقینی بنانے کے لیے ایک دور اندیش فریم ورک تجویز کرنا۔</p>
<p>یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پٹرولیم ڈویژن کی جانب سے ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ آئی ایس ایم او  نے تقریباً 10 آر ایل این جی کارگو میں مزید کمی کی درخواست کی ہے، جو کہ پہلے سے کم کیے گئے حجم کے علاوہ ہے اور مبینہ طور پر انٹیگریٹڈ جنریشن کپیسٹی ایکسپینشن پلان  کی خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>دسمبر 2025 میں، آئی ایس ایم او نے کیلنڈر سال 2026 کے لیے پاور سیکٹر کی آر ایل این جی طلب کے حوالے سے پٹرولیم ڈویژن کو ایک خط بھی لکھا تھا، جس میں طلب میں ایک بار پھر کمی کی گئی تھی۔</p>
<p>اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم ڈویژن کے مطابق قطر ایل این جی سیل اینڈ پرچیز ایگریمنٹس  کے تحت، ایل این جی کارگو کی شیڈولنگ کے لیے سالانہ ڈلیوری پلان اگلے کیلنڈر سال کے لیے 15 اکتوبر تک حتمی شکل دے دی جاتی ہے۔</p>
<p>اسی مناسبت سے پاور ڈویژن کے وزیر سردار اویس احمد خان لغاری اور پیٹرولیم کے وزیر علی پرویز ملک کی مشترکہ صدارت میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران، سال 2026 کے لیے آر ایل این جی  کی طلب کی تصدیق آئی جی سی ای پی  کی ضروریات کے مطابق کی گئی تھی۔ ان اعداد و شمار کو ’ووڈ میکنزی‘کی اس تحقیق کا حصہ بھی بنایا گیا تھا جو نیٹ پروسیڈ ڈفرینشل کارگو کے حجم کا تعین کرنے کے لیے استعمال کی گئی تھی۔ نتیجے کے طور پر، قطر انرجی کے ساتھ سال 2026 کے لیے سالانہ ڈیلیوری پلان کو 30 نومبر 2025 کو حتمی شکل دے دی گئی تھی۔</p>
<p>تاہم، 13 دسمبر 2025 کو لکھے گئے اپنے خط کے ذریعے، آئی ایس ایم اونے ایک بار پھر پاور سیکٹر کے لیے آر ایل این جی کی طلب پر نظرثانی کی۔ پیٹرولیم ڈویژن کا موقف ہے کہ اب مزید کارگو کی منسوخی یا شیڈول میں تبدیلی کی کوئی گنجائش باقی نہیں ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے آئی جی سی ای پی کی ضروریات اور طلب کے نظرثانی شدہ تخمینوں کے درمیان تضاد پیدا ہو جائے گا۔</p>
<p>مجوزہ آئی ایس ایم او پلان پاور سیکٹر میں آر ایل این جی  کی ماہانہ طلب میں نمایاں تبدیلیوں کی عکاسی کرتا ہے جس کے نتیجے میں ممکنہ طور پر تقریباً 10 ایل این جی کارگو ضرورت سے زائد ہوسکتے ہیں۔</p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کا ماننا ہے کہ قطر انرجی کے ساتھ سالانہ ڈیلیوری پلان کو حتمی شکل دینے کے بعد طلب میں کی جانے والی ان تبدیلیوں نے پہلے ہی سنگین آپریشنل چیلنجز پیدا کر دیے ہیں جن میں پائپ لائنوں میں گیس کا بہت زیادہ دباؤ  اور سسٹم کی سالمیت کو برقرار رکھنے کے لیے مقامی گیس کی پیداوار میں تقریباً 200 ایم ایم سی ایف ڈی  تک کی کٹوتی شامل ہے۔</p>
<p>اسپیشل سیکرٹری پٹرولیم نے بیان دیا کہ گیس کی فراہمی میں کٹوتی اور گیس فیلڈز کو پہنچنے والے ممکنہ نقصان سے بچنے کے لیے جس کے نتیجے میں آئل اینڈ گیس کمپنیوں کو آمدنی کا نقصان اور حکومت کے نان ٹیکس ریونیو میں کمی ہو سکتی ہے، پاور ڈویژن کو آئی جی سی ای پی کے تحت طے شدہ حجم کی پابندی کرنی چاہیے۔ انہوں نے پاور ڈویژن کو یہ مشورہ بھی دیا کہ وہ گیس کی طلب میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے اتار چڑھاؤ  کو 5 سے 10 فیصد تک کی حد کے اندر منظم کرے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283864</guid>
      <pubDate>Sat, 14 Mar 2026 14:07:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/141046033d9ff47.webp" type="image/webp" medium="image" height="476" width="737">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/141046033d9ff47.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
