<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایندھن نرخوں کے جھٹکے نے ملک میں ہائبرڈ اور بڑھتی رینج والی گاڑیوں کی اہمیت دوبارہ اجاگر کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283859/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں تیل کی قیمتوں کے بدترین جھٹکے سے لرز اٹھی ہے، جس نے عالمی توانائی کے بحران کے سامنے ملک کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے اور متبادل گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا، جس سے پٹرول 321 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا، جو حالیہ برسوں کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ قدم مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے سپلائی کی معطلی کے باعث عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد اٹھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسی معیشت کے لیے  جو درآمدی توانائی پر بہت زیادہ منحصر ہے اس کے اثرات فوری اور دور رس ہیں۔ ایندھن کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، زراعت اور مینوفیکچرنگ کو متاثر کرتی ہیں، جس سے مہنگائی اور گھریلو بجٹ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ بحران روایتی پٹرول گاڑیوں، جدید الیکٹرک ٹیکنالوجی  خاص طور پر رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آرای ای ویز) اور پلگ ان ہائبرڈ وہیکلز (پی ایچ وی ویز) کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کر رہا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں گاڑی مالکان مکمل طور پر پٹرول یا ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست شکار ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد کے مطابق روایتی ہائبرڈ کے برعکس پی ایچ ای ویز  ڈرائیوروں کو یہ سہولت حاصل ہے  کہ وہ ایندھن پر منتقل ہونے سے پہلے ایک طویل فاصلہ خالصتاً بجلی پر طے کر لیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں یہ گاڑیاں صرف بجلی پر 50 سے 170 کلومیٹر تک چل سکتی ہیں، جو مالکان کو روزمرہ کے سفر میں ایندھن کی قیمتوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی پر گاڑی چلانے کی لاگت پٹرول کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ آٹو اینالسٹ محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی مارکیٹ میں الیکٹرک کاروں اور موٹر سائیکلوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب میں بھی تیزی آئی ہے۔ ان کے بقول الیکٹرک گاڑیاں پٹرول کے مقابلے میں 80 فیصد اور ہائبرڈ گاڑیاں 50 فیصد تک اخراجات بچاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز کی حوصلہ افزائی نہ صرف ماحول بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے، تاکہ درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔ موجودہ ایندھن کا بحران ایک یاد دہانی ہے کہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو پٹرول پر منحصر ممالک فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی معیشت حالیہ برسوں میں تیل کی قیمتوں کے بدترین جھٹکے سے لرز اٹھی ہے، جس نے عالمی توانائی کے بحران کے سامنے ملک کی کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے اور متبادل گاڑیوں کی ٹیکنالوجی پر بحث دوبارہ چھیڑ دی ہے۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے وفاقی حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا، جس سے پٹرول 321 روپے فی لیٹر تک جا پہنچا، جو حالیہ برسوں کا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ یہ قدم مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے تنازع اور اسٹریٹجک اہمیت کی حامل آبنائے ہرمز سے سپلائی کی معطلی کے باعث عالمی قیمتوں میں ہونے والے اضافے کے بعد اٹھایا گیا۔</p>
<p>پاکستان جیسی معیشت کے لیے  جو درآمدی توانائی پر بہت زیادہ منحصر ہے اس کے اثرات فوری اور دور رس ہیں۔ ایندھن کی قیمتیں براہِ راست ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس، زراعت اور مینوفیکچرنگ کو متاثر کرتی ہیں، جس سے مہنگائی اور گھریلو بجٹ پر گہرا اثر پڑتا ہے۔</p>
<p>حالیہ بحران روایتی پٹرول گاڑیوں، جدید الیکٹرک ٹیکنالوجی  خاص طور پر رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (آرای ای ویز) اور پلگ ان ہائبرڈ وہیکلز (پی ایچ وی ویز) کے درمیان واضح فرق کو نمایاں کر رہا ہے۔ پاکستان میں لاکھوں گاڑی مالکان مکمل طور پر پٹرول یا ڈیزل پر انحصار کرتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ عالمی منڈی کے اتار چڑھاؤ کا براہِ راست شکار ہوتے ہیں۔</p>
<p>چیری ماسٹر پاکستان کے ڈائریکٹر سیلز اینڈ مارکیٹنگ سید آصف احمد کے مطابق روایتی ہائبرڈ کے برعکس پی ایچ ای ویز  ڈرائیوروں کو یہ سہولت حاصل ہے  کہ وہ ایندھن پر منتقل ہونے سے پہلے ایک طویل فاصلہ خالصتاً بجلی پر طے کر لیں۔ کراچی، لاہور اور اسلام آباد جیسے شہروں میں یہ گاڑیاں صرف بجلی پر 50 سے 170 کلومیٹر تک چل سکتی ہیں، جو مالکان کو روزمرہ کے سفر میں ایندھن کی قیمتوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔</p>
<p>بجلی پر گاڑی چلانے کی لاگت پٹرول کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ آٹو اینالسٹ محمد صابر شیخ کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافے کے بعد مقامی مارکیٹ میں الیکٹرک کاروں اور موٹر سائیکلوں کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کی طلب میں بھی تیزی آئی ہے۔ ان کے بقول الیکٹرک گاڑیاں پٹرول کے مقابلے میں 80 فیصد اور ہائبرڈ گاڑیاں 50 فیصد تک اخراجات بچاتی ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا ماننا ہے کہ ایسی ٹیکنالوجیز کی حوصلہ افزائی نہ صرف ماحول بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی ضروری ہے، تاکہ درآمدی بل میں کمی لائی جا سکے۔ موجودہ ایندھن کا بحران ایک یاد دہانی ہے کہ جب تیل مہنگا ہوتا ہے تو پٹرول پر منحصر ممالک فوری طور پر متاثر ہوتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283859</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 20:45:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (گوہر علی خان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/13203402d4b10fa.webp" type="image/webp" medium="image" height="464" width="620">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/13203402d4b10fa.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
