<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، وزیر اطلاعات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283857/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے بتایا ہے کہ اس نے 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست نشانہ بنانے والے (پریسجن) حملے کیے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان حملوں میں افغان سرزمیں سے پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر جاری کردہ تفصیلات میں عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اس آپریشن کا ہدف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی تنصیبات، تربیتی کیمپ اور لاجسٹک مراکز تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی افواج نے کابل، پکتیا اور قندھار کے متعدد مقامات پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور معاونتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد خاص طور پر ان جگہوں کو تباہ کرنا تھا جو براہِ راست یا بالواسطہ پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی تھیں اور اس دوران کسی بھی شہری آبادی یا سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افغان حکام اور بعض میڈیا اداروں کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو شواہد ثابت کرتے ہیں کہ آپریشن میں صرف دہشت گردوں کی تنصیبات کو ہی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپریشنل اپ ڈیٹ کے مطابق اس مہم میں اب تک دہشت گردوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جس میں 663 ہلاک اور 887 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی 249 چوکیاں تباہ، 44 پر قبضہ، جبکہ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کی گنز تباہ کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 70 مقامات اور معاونتی مراکز کو فضائی حملوں کے ذریعے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اپناتا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور اس نے بارہا افغان حکام سے ایسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے بتایا ہے کہ اس نے 12 اور 13 مارچ کی درمیانی شب آپریشن غضب للحق کے تحت افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر درست نشانہ بنانے والے (پریسجن) حملے کیے ہیں۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق ان حملوں میں افغان سرزمیں سے پاکستان پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر جاری کردہ تفصیلات میں عطا اللہ تارڑ نے بتایا کہ اس آپریشن کا ہدف فتنہ الخوارج اور افغان طالبان سے وابستہ دہشت گرد عناصر کی تنصیبات، تربیتی کیمپ اور لاجسٹک مراکز تھے۔</p>
<p>پاکستانی افواج نے کابل، پکتیا اور قندھار کے متعدد مقامات پر فضائی کارروائی کرتے ہوئے عسکریت پسندوں کے کیمپوں اور معاونتی ڈھانچے کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ ان حملوں کا مقصد خاص طور پر ان جگہوں کو تباہ کرنا تھا جو براہِ راست یا بالواسطہ پاکستان میں دہشت گردی کی سہولت کاری کر رہی تھیں اور اس دوران کسی بھی شہری آبادی یا سویلین انفرااسٹرکچر کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔</p>
<p>انہوں نے افغان حکام اور بعض میڈیا اداروں کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو شواہد ثابت کرتے ہیں کہ آپریشن میں صرف دہشت گردوں کی تنصیبات کو ہی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>آپریشنل اپ ڈیٹ کے مطابق اس مہم میں اب تک دہشت گردوں کا بھاری جانی و مالی نقصان ہوا ہے، جس میں 663 ہلاک اور 887 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>عطا اللہ تارڑ نے مزید بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کی 249 چوکیاں تباہ، 44 پر قبضہ، جبکہ 224 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کی گنز تباہ کی گئیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں بیان میں کہا گیا کہ افغانستان بھر میں دہشت گردوں کے 70 مقامات اور معاونتی مراکز کو فضائی حملوں کے ذریعے مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔ پاکستان مسلسل یہ موقف اپناتا رہا ہے کہ دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں اور اس نے بارہا افغان حکام سے ایسی سرگرمیاں روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283857</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 20:21:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/13201527f15c962.webp" type="image/webp" medium="image" height="354" width="588">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/13201527f15c962.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
