<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آر ڈی اے: ذمہ داریوں پر مبنی ڈالرائزیشن؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283846/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ستمبر 2020 میں کمرشل بینکوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کا آغاز کیا۔ اسے ایک ساختیاتی جدت کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے تحت غیر مقیم پاکستانیوں (این آر پیز) کو آن لائن بینک اکاؤنٹس کھولنے، مقامی مالیاتی انسٹرومنٹس میں سرمایہ کاری کرنے اور جسمانی طور پر پاکستان آئے بغیر ملکی مالیاتی منڈیوں میں حصہ لینے کی سہولت فراہم کی گئی۔اس کا بیانیہ خاصا دلکش تھا، ٹیکنالوجی اور وفاداری کا امتزاج؛ ڈائیسپورا کیپیٹل اور قومی بحالی کا سنگم۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرخیوں میں آنے والے اعداد و شمار بظاہر خاصے متاثر کن ہیں۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک 901,764 اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور جنوری 2026 تک مجموعی رقوم 11.92 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے حکام اس پیش رفت کو بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسلسل اعتماد کی علامت اور زرمبادلہ کے استحکام میں مددگار عنصر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اصل توجہ سرخیوں میں نظر آنے والی رقوم پر نہیں بلکہ بنیادی بیلنس شیٹ کے ڈھانچے پر ہونی چاہیے: خطرہ آخرکار کون اٹھاتا ہے، منافع کس کے حصے میں آتا ہے، اور کیا ریاست واقعی پیداواری سرمائے کی بنیاد کو وسیع کر رہی ہے یا صرف قلیل مدتی بیرونی کمزوری کو دوبارہ فنانس کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی ایک حالیہ تحقیق اس موضوع کو جشن مناتی پریس ریلیز سے آگے لے جاتی ہے۔ پرائم کے مطابق موصول ہونے والے 11.92 ارب امریکی ڈالر میں سے 1.96 ارب ڈالر پہلے ہی بیرونِ ملک واپس جا چکے ہیں، جبکہ 7.6 ارب ڈالر مقامی معیشت میں استعمال ہو چکے ہیں۔ اس طرح خالص طور پر 2.3 ارب ڈالر کی ایسی ذمہ داری باقی رہتی ہے جو بوقتِ ضرورت واپس بھیجی جا سکتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، تقریباً 80 فیصد رقوم یا تو باہر جا چکی ہیں یا ملک کے اندر جذب ہو چکی ہیں، جبکہ صرف تقریباً 20 فیصد ہی ایسا حصہ ہے جو پائیدار انداز میں زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کوئی معمولی حسابی ردوبدل نہیں بلکہ اس سے پروگرام کی اصل نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) درحقیقت بیرونی بچتوں کا مستقل ذخیرہ نہیں بلکہ ایک رولنگ فارن کرنسی لائیبلٹی ہے۔ جب ترسیلات کی واپسی اور مقامی استعمال کو منہا کیا جاتا ہے تو جو رقم باقی رہتی ہے وہ پاکستان کے پہلے ہی نازک زرمبادلہ ذخائر پر ایک ممکنہ دعویٰ بن جاتی ہے—ایسے ذخائر جو ایران کے خلاف مسلط امریکی۔اسرائیلی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تیل کے ممکنہ جھٹکے کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی اور مانیٹری آلات کی کارکردگی کو محض فوری لیکویڈیٹی کے اثر سے پرکھا نہیں جاتا۔ انہیں اس بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ وہ ریاست کی بین وقتی مالی حدود  یعنی ریاست کی طویل المدتی مالی حد( انٹر ٹیمپورل کنسٹرینٹ) کو کس طرح بدلتے ہیں۔ کیا کوئی اقدام ساختی کمزوری کو کم کرتا ہے، یا محض کمزور بیلنس شیٹ پر نئے فرائض کا بوجھ ڈال کر ایڈجسٹمنٹ کو ملتوی کرتا ہے؟ موجودہ ڈھانچے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) زیادہ تر آخری صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2.3 ارب امریکی ڈالر کی خالص واپسی کے قابل ذمہ داری میں سے 1.58 ارب ڈالر روایتی اور اسلامی نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس (این پی سیز) میں پارک کیے گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایکویٹی سرمایہ کاری محض 113.9 ملین ڈالر پر محیط ہے۔ اس تقسیم کی اہمیت بڑی ہے: قرض نما آلات غالب ہیں جبکہ خطرہ بانٹنے والا سرمایہ تقریباً نہ کے برابر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب ڈائیسپورا کی رقوم زیادہ تر ہائی ییلڈ سرکاری آلات میں جاتی ہیں، تو ریاست عملاً اپنے ہی بیرونِ ملک شہریوں سے غیر ملکی کرنسی میں قرض لے رہی ہے۔ وطن پرستی کی اخلاقی اپیل معاشی حقیقت کو چھپا نہیں سکتی: یہ دراصل بیرونی قرض ہے، اگرچہ ریٹیل ڈائیسپورا چینلز کے ذریعے۔ حکومت پرکشش منافع کی ضمانت دیتی ہے اور ڈائیسپورا کو اصل رقم اور منافع کی واپسی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ زرمبادلہ کا خطرہ مکمل طور پر ریاست پر رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے پرائم نے جو اصطلاح استعمال کی ہے، ” نیٹ ریپیٹری ایبلیبلٹی“، وہ تصوری طور پر فیصلہ کن ہے۔ آمدنی کا مطلب فائدہ نہیں، بلکہ ذمہ داری، نہ کہ لیکویڈیٹی، طویل مدت کے بوجھ کو متعین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ڈی اے کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ حتیٰ کہ وقتی آمدنی بھی مارکیٹ کو مستحکم کرتی ہے۔ اور یہی بات ہے…&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ڈی اے کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ حتیٰ کہ وقتی آمد بھی مارکیٹ کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ جزوی طور پر درست ہے۔ بیرونی دباؤ کے شدید ادوار میں، جیسے کہ 2022–23 میں، آر ڈی اے نے ایک بفر کا کردار ادا کیا۔ اس نے رسمی ترسیلات کے چینلز کو وسعت دی، اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو ڈیجیٹل بنایا اور غیر رسمی حوالہ نیٹ ورک پر انحصار کم کیا۔ یہ سب ادارتی فوائد ہیں۔ تاہم، ڈیجیٹلائزیشن خود ترقی نہیں ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی مالی شمولیت اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن یہ خود بخود سرمایہ تشکیل میں تبدیل نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل سوال یہ ہے کہ آیا آر ڈی اے ریاست کو ترقی سے منسلک مالیات کی طرف مائل کرتا ہے یا صرف آسان منافع حاصل کرنے والی مالی پالیسی( رینٹ سیکنگ فسکل بییئور) کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر آمدنی کا تقریباً 80 فیصد حصہ یا تو ملک سے نکل جاتا ہے یا مقامی طور پر خرچ ہو جاتا ہے، تو میکرو اکنامک اثرات مختصر مدت کے پورٹ فولیو فلو کی طرح بنتے ہیں۔ یہ رقوم واپسی کے قابل اور سود حساس ہوتی ہیں۔ ریاست کے لیے کشش واضح ہے: پرکشش منافع دیں، ڈالر لائیں اور ساختی اصلاحات کو ملتوی کریں۔ لیکن اس ماڈل میں تین بڑے خطرات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا، شرح مبادلہ کا خطرہ۔ این پی سیز اور دیگر آر ڈی اے سے منسلک آلات غیر ملکی کرنسی میں ہیں۔ اگر روپے کی قدر شدید طور پر کم ہو جائے—جیسا کہ پچھلے دہائی میں ہوا—تو ادائیگی کا حقیقی بوجھ مقامی کرنسی میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ریاست کی مالی گنجائش سکڑ جاتی ہے اور ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، میچورٹی کا خطرہ۔ قلیل سے درمیانے عرصے کے آلات رول اوور دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ اگر عالمی حالات سخت ہوں یا ڈائیسپورا کا رویہ بدل جائے، تو نکلوانا دیگر بیرونی جھٹکوں کے ساتھ ہم وقت ہو سکتا ہے۔ ایک لیکویڈیٹی آلہ اسٹریس ایمپلیفائر میں بدل جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، تخصیص کا خطرہ۔ جب ڈائیسپورا کی بچتیں سرکاری کاغذ کی طرف زیادہ مائل ہوں بجائے پیداواری ایکوئٹی کے، تو کیپٹل مارکیٹ سطحی رہ جاتی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے آر ڈی اے فنڈز میں سرمایہ کاری، 113.9 ملین امریکی ڈالر، علامتی ہے اور مجموعی آمدنی کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔ یہ نہ صرف حکمرانی پر اعتماد کی کمی ظاہر کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور طویل مدتی ترقی کے امکانات میں بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ساختی عدم توازن کی تصویر واضح ہے: ڈائیسپورا کے ڈالر حکومت کی صارفیت یا ری فنانسنگ پر خرچ ہوتے ہیں، نہ کہ صنعتی تبدیلی یا پیداوار بڑھانے پر۔ ریاست نے ایک عارضی توازن اختیار کیا ہے۔ یہ بیرونی ریٹیل بچتیں متحرک کرتی ہے بغیر اس کے کہ وہ رسک شیئرنگ سرمایہ کو متوجہ کرنے کے لیے ضروری ادارتی اصلاحات کرے۔ اس انتخاب کی سیاسی معیشت کافی کچھ بتاتی ہے: قرض نما آلات انتظامی طور پر آسان اور سیاسی طور پر پرکشش ہیں، جبکہ ایکویٹی اصلاحات—کارپوریٹ گورننس، عدالتی کارکردگی، اقلیتی شیئر ہولڈرز کا تحفظ—سیاسی طور پر مہنگی اور سست ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی وجہ سے آر ڈی اے ایک مالیاتی بفرنگ کا آلہ بن جاتا ہے بجائے کہ معاشی ڈھانچے کو دوبارہ ترتیب دینے کے۔ انصاف کے لیے کہنا ہو تو، اس پروگرام کے کچھ ادارتی فوائد بھی ہیں: اس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے ایک رسمی چینل قائم کیا، لین دین میں رکاوٹیں کم کیں اور ترسیلات کی شفافیت کو بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائم (پی آر آئی ایم ای) درست طور پر زور دیتا ہے کہ آر ڈی اے ایک اضافی رسمی چینل کے طور پر ابھرا ہے جو اوور دی کاؤنٹر ترسیلات کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تاریخی طور پر غیر دستاویزی آمدنی کا مسئلہ رہا ہے، یہ واقعی اہم ہے۔ یہاں فرق کو سمجھنا ضروری ہے: چینل اور مقصد الگ چیزیں ہیں۔ صرف ترسیلات کو سرکاری ذمہ داریوں میں منتقل کرنے والا چینل، ڈائیسپورا کی قیادت میں ترقی کے مترادف نہیں ہو سکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موازناتی تجربات پر غور کریں۔ کامیاب ڈائیسپورا انگیجمنٹ ماڈلز—چاہے مشرقی ایشیا میں ہوں یا افریقہ کے کچھ حصوں میں—بتدریج بانڈ-مرکوز آلات سے ترقی سے منسلک سرمایہ کاری کے وسائل کی طرف منتقل ہوئے: انفراسٹرکچر فنڈز، ایس ایم ای ایکویٹی پلیٹ فارمز، ٹیکنالوجی وینچر پولز وغیرہ۔ کلید یہ تھی کہ منافع کو پیداواریت کے ساتھ جوڑا جائے، نہ کہ صرف سرکاری پیداوار کے ساتھ۔ پاکستان کا آر ڈی اے ڈھانچہ ابھی بھی ییلڈ-سینٹرک ہے: این پی سیز پر زیادہ منافع جمع کرتا ہے، ریاست قرض لیتی ہے، اور یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ییلڈ-سینٹرک ڈیزائن کچھ معیاری (نارمیٹو) خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔ این آر پیز کو ترجیحی منافع فراہم کر کے، ریاست بالواسطہ اپنے شہریوں کو طبقاتی طور پر تقسیم کر دیتی ہے۔ مقامی بچت کرنے والے، جو روپے کے آلات اور کم حقیقی منافع کے تحت محدود ہیں، بیرونی سرمایہ کاروں کی سبسڈی دیتے ہیں جو ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آئینی نقطہ نظر سے، ایسی تقسیم عوامی فائدے سے ثابت ہونی چاہیے۔ اگر خالص زرمبادلہ پر اثر صرف 20 فیصد ہے تو تقسیم کا حساب و کتاب مشکوک ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائیسپورا سے قرض لینے پر انحصار اخلاقی خطرے (مورل ہیزرڈ) کا سبب بن سکتا ہے۔ پالیسی ساز ساختی مالی اصلاحات—جیسے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پانا، توانائی سبسڈی کو منظم کرنا—ملتوی کر سکتے ہیں کیونکہ ڈائیسپورا ڈالر وقتی طور پر دباؤ کو کم کر دیتے ہیں۔ اس طرح، آر ڈی اے موخر کرنے والی سیاسی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائم کے مطالعے کی یہ نشاندہی درست ہے کہ ڈائیسپورا انگیجمنٹ کے حجم اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے مزید وضاحت درکار ہے۔ حجم بغیر ساختی اصلاح کے صرف ذمہ داری کو گہرا کرتا ہے۔ دائرہ کار کو صارفیت سے منسلک آلات سے ترقی سے منسلک سرمایہ کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="سفارشات" href="#سفارشات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;سفارشات:&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;پہلا، سرکاری سرٹیفیکیٹس پر انحصار کو بتدریج کم کیا جائے اور ڈائیسپورا انفرااسٹرکچر بانڈز کو وسیع کیا جائے جو مخصوص آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں، جیسے توانائی کی ترسیل، لاجسٹکس کوریڈرز، برآمدی زونز، سے منسلک ہوں، اور شفاف رپورٹنگ کے ساتھ رنگ-فینسڈ کیش فلو فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا، ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور برآمدی صنعتوں میں ڈائیسپورا کی ایکویٹی میں شرکت کے لیے ٹیکس اور ریگولیٹری مراعات دی جائیں۔ اگر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایکویٹی سرمایہ کاری معمولی ہے، تو مسئلہ صرف ڈائیسپورا کی غیر دلچسپی نہیں؛ بلکہ یہ مقامی ادارتی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا، جزوی غیر واپسی والے ( نان ری پیٹری ایبل) حصے شامل کیے جائیں، رضاکارانہ لیکن مراعات یافتہ، جہاں فنڈز کا ایک حصہ طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں میں بند کیا جائے اور منافع مشترکہ اوپریحد پر ہو نہ کہ مقررہ ییلڈ پر۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا، میکرو شفافیت یقینی بنائی جائے۔ ایس بی پی کو چاہیے کہ آر ڈی اے سے منسلک واجبات کے مچورٹی پروفائلز، شعبہ وار استعمال اور اسٹریس ٹیسٹ منظرنامے شائع کرے۔ ڈیٹا پر مبنی اعتماد تقریر پر مبنی اعتماد سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کی علامتی کامیابی کوکم نہیں کرتا۔ یہ انتظامی جدیدیت کی نمائندگی کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ادارے ڈیجیٹل فنانشل پلیٹ فارمز بڑے پیمانے پر ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ تاہم، جدیدیت بغیر میکرو پروڈنس ( مجموعی معاشی استحکام) کے ناکافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آر ڈی اے پر بحث بنیادی طور پر پاکستانی ریاست کی نوعیت کے گرد گھومتی ہے۔ کیا یہ ایک قرض لینے والی ریاست ہے جو ہمیشہ تخلیقی آلات کے ذریعے بیرونی خساروں کی ری فنانسنگ کرتی ہے؟ یا یہ ایک پیداوار پر مرکوز ریاست میں تبدیل ہو سکتی ہے جو ڈائیسپورا کے سرمایے کو ساختی تبدیلی کے لیے استعمال کرے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی آلات غیر جانبدار نہیں ہوتے۔ یہ خطرے کی تقسیم اور نسلی یا بین النسلی بوجھ کے بارے میں سیاسی فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے فنڈز زیادہ تر سرکاری ذمہ داریوں میں بدل دی جاتی ہیں، تو آج کی لیکویڈیٹی کل کی مالی تنگی میں بدل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرائم کے ڈیٹا نے مستقل ذخائر کے حصول کا وہم ختم کر دیا ہے۔ صرف 20 فیصد آمدنی دیرپا ذخائر میں شامل ہوتی ہے، اس لیے آر ڈی اے کو کامل حل کے طور پر منانا درست نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایک ضمنی لیکویڈیٹی چینل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیلنج اب معیاری تبدیلی ہے۔ اگر آر ڈی اے محض ترسیلات اور لیکویڈیٹی کے لیے ایک اور آلہ رہے، تو اس کا میکرو اقتصادی کردار حد تک ہی برقرار رہے گا۔ لیکن اگر یہ ایک طویل مدتی، غیر واپسی والے، ترقی سے منسلک سرمایہ کاری کے لیے پلیٹ فارم بن جائے، تو یہ پاکستان کے ترقیاتی مالی ڈھانچے کو بدل سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ادارتی نوعیت کا ہے، تکنیکی نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی بیرونی نازک صورتحال صرف واجبات کے بوجھ ڈال کر حل نہیں کی جا سکتی، چاہے وہ کتنا ہی ڈیجیٹل کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے پیداواری صلاحیت کی تعمیر، قانون کی حکمرانی کی مضبوطی اور ملکی و بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنا ضروری ہے۔ ڈائیسپورا کا سرمایہ اس سفر میں شریک ہو سکتا ہے—لیکن صرف اگر اسے رسک شیئرنگ میں شامل کیا جائے، نہ کہ محض سرکاری قرض میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ایک آئینہ ہے۔ یہ ہماری جدت اور ساختی ہچکچاہٹ دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اعداد و شمار حقیقت پسندی پر مجبور کرتے ہیں: 11.92 ارب امریکی ڈالر کی آمد متاثر کن ہے، جبکہ 2.3 ارب امریکی ڈالر کی خالص واپسی کے قابل ذمہ داری حقیقت بیان کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعتماد صرف جمع شدہ رقوم سے نہیں ماپا جاتا؛ یہ طویل مدتی ترقی میں سرمایہ لگانے کی آمادگی سے ماپا جاتا ہے۔ جب تک آر ڈی اے ذمہ داری پر مبنی ڈالرزم سے ڈائیسپورا کے تعاون سے ترقی میں تبدیل نہیں ہوتا، اس کا وعدہ صرف جزوی طور پر پورا ہوا سمجھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے ستمبر 2020 میں کمرشل بینکوں کے ساتھ مشترکہ منصوبے کے طور پر روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کا آغاز کیا۔ اسے ایک ساختیاتی جدت کے طور پر پیش کیا گیا، جس کے تحت غیر مقیم پاکستانیوں (این آر پیز) کو آن لائن بینک اکاؤنٹس کھولنے، مقامی مالیاتی انسٹرومنٹس میں سرمایہ کاری کرنے اور جسمانی طور پر پاکستان آئے بغیر ملکی مالیاتی منڈیوں میں حصہ لینے کی سہولت فراہم کی گئی۔اس کا بیانیہ خاصا دلکش تھا، ٹیکنالوجی اور وفاداری کا امتزاج؛ ڈائیسپورا کیپیٹل اور قومی بحالی کا سنگم۔</strong></p>
<p>سرخیوں میں آنے والے اعداد و شمار بظاہر خاصے متاثر کن ہیں۔ پروگرام کے آغاز سے اب تک 901,764 اکاؤنٹس کھولے جا چکے ہیں اور جنوری 2026 تک مجموعی رقوم 11.92 ارب امریکی ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے حکام اس پیش رفت کو بیرونِ ملک پاکستانیوں کے مسلسل اعتماد کی علامت اور زرمبادلہ کے استحکام میں مددگار عنصر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>تاہم اصل توجہ سرخیوں میں نظر آنے والی رقوم پر نہیں بلکہ بنیادی بیلنس شیٹ کے ڈھانچے پر ہونی چاہیے: خطرہ آخرکار کون اٹھاتا ہے، منافع کس کے حصے میں آتا ہے، اور کیا ریاست واقعی پیداواری سرمائے کی بنیاد کو وسیع کر رہی ہے یا صرف قلیل مدتی بیرونی کمزوری کو دوبارہ فنانس کر رہی ہے۔</p>
<p>پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کی ایک حالیہ تحقیق اس موضوع کو جشن مناتی پریس ریلیز سے آگے لے جاتی ہے۔ پرائم کے مطابق موصول ہونے والے 11.92 ارب امریکی ڈالر میں سے 1.96 ارب ڈالر پہلے ہی بیرونِ ملک واپس جا چکے ہیں، جبکہ 7.6 ارب ڈالر مقامی معیشت میں استعمال ہو چکے ہیں۔ اس طرح خالص طور پر 2.3 ارب ڈالر کی ایسی ذمہ داری باقی رہتی ہے جو بوقتِ ضرورت واپس بھیجی جا سکتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، تقریباً 80 فیصد رقوم یا تو باہر جا چکی ہیں یا ملک کے اندر جذب ہو چکی ہیں، جبکہ صرف تقریباً 20 فیصد ہی ایسا حصہ ہے جو پائیدار انداز میں زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت دیتا ہے۔</p>
<p>یہ کوئی معمولی حسابی ردوبدل نہیں بلکہ اس سے پروگرام کی اصل نوعیت واضح ہو جاتی ہے۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) درحقیقت بیرونی بچتوں کا مستقل ذخیرہ نہیں بلکہ ایک رولنگ فارن کرنسی لائیبلٹی ہے۔ جب ترسیلات کی واپسی اور مقامی استعمال کو منہا کیا جاتا ہے تو جو رقم باقی رہتی ہے وہ پاکستان کے پہلے ہی نازک زرمبادلہ ذخائر پر ایک ممکنہ دعویٰ بن جاتی ہے—ایسے ذخائر جو ایران کے خلاف مسلط امریکی۔اسرائیلی جنگ کے بعد پیدا ہونے والے تیل کے ممکنہ جھٹکے کے باعث پہلے ہی دباؤ کا شکار ہیں۔</p>
<p>مالی اور مانیٹری آلات کی کارکردگی کو محض فوری لیکویڈیٹی کے اثر سے پرکھا نہیں جاتا۔ انہیں اس بنیاد پر جانچا جاتا ہے کہ وہ ریاست کی بین وقتی مالی حدود  یعنی ریاست کی طویل المدتی مالی حد( انٹر ٹیمپورل کنسٹرینٹ) کو کس طرح بدلتے ہیں۔ کیا کوئی اقدام ساختی کمزوری کو کم کرتا ہے، یا محض کمزور بیلنس شیٹ پر نئے فرائض کا بوجھ ڈال کر ایڈجسٹمنٹ کو ملتوی کرتا ہے؟ موجودہ ڈھانچے میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) زیادہ تر آخری صورت سے مشابہت رکھتا ہے۔</p>
<p>2.3 ارب امریکی ڈالر کی خالص واپسی کے قابل ذمہ داری میں سے 1.58 ارب ڈالر روایتی اور اسلامی نیا پاکستان سرٹیفیکیٹس (این پی سیز) میں پارک کیے گئے ہیں۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایکویٹی سرمایہ کاری محض 113.9 ملین ڈالر پر محیط ہے۔ اس تقسیم کی اہمیت بڑی ہے: قرض نما آلات غالب ہیں جبکہ خطرہ بانٹنے والا سرمایہ تقریباً نہ کے برابر ہے۔</p>
<p>جب ڈائیسپورا کی رقوم زیادہ تر ہائی ییلڈ سرکاری آلات میں جاتی ہیں، تو ریاست عملاً اپنے ہی بیرونِ ملک شہریوں سے غیر ملکی کرنسی میں قرض لے رہی ہے۔ وطن پرستی کی اخلاقی اپیل معاشی حقیقت کو چھپا نہیں سکتی: یہ دراصل بیرونی قرض ہے، اگرچہ ریٹیل ڈائیسپورا چینلز کے ذریعے۔ حکومت پرکشش منافع کی ضمانت دیتی ہے اور ڈائیسپورا کو اصل رقم اور منافع کی واپسی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ زرمبادلہ کا خطرہ مکمل طور پر ریاست پر رہتا ہے۔</p>
<p>اسی وجہ سے پرائم نے جو اصطلاح استعمال کی ہے، ” نیٹ ریپیٹری ایبلیبلٹی“، وہ تصوری طور پر فیصلہ کن ہے۔ آمدنی کا مطلب فائدہ نہیں، بلکہ ذمہ داری، نہ کہ لیکویڈیٹی، طویل مدت کے بوجھ کو متعین کرتی ہے۔</p>
<p>آر ڈی اے کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ حتیٰ کہ وقتی آمدنی بھی مارکیٹ کو مستحکم کرتی ہے۔ اور یہی بات ہے…</p>
<p>آر ڈی اے کے حامی دلیل دیتے ہیں کہ حتیٰ کہ وقتی آمد بھی مارکیٹ کو مستحکم کرتی ہے۔ یہ جزوی طور پر درست ہے۔ بیرونی دباؤ کے شدید ادوار میں، جیسے کہ 2022–23 میں، آر ڈی اے نے ایک بفر کا کردار ادا کیا۔ اس نے رسمی ترسیلات کے چینلز کو وسعت دی، اکاؤنٹ کھولنے کے عمل کو ڈیجیٹل بنایا اور غیر رسمی حوالہ نیٹ ورک پر انحصار کم کیا۔ یہ سب ادارتی فوائد ہیں۔ تاہم، ڈیجیٹلائزیشن خود ترقی نہیں ہے۔ بیرونِ ملک پاکستانیوں کی مالی شمولیت اگرچہ خوش آئند ہے، لیکن یہ خود بخود سرمایہ تشکیل میں تبدیل نہیں ہوتی۔</p>
<p>اصل سوال یہ ہے کہ آیا آر ڈی اے ریاست کو ترقی سے منسلک مالیات کی طرف مائل کرتا ہے یا صرف آسان منافع حاصل کرنے والی مالی پالیسی( رینٹ سیکنگ فسکل بییئور) کو برقرار رکھتا ہے۔ اگر آمدنی کا تقریباً 80 فیصد حصہ یا تو ملک سے نکل جاتا ہے یا مقامی طور پر خرچ ہو جاتا ہے، تو میکرو اکنامک اثرات مختصر مدت کے پورٹ فولیو فلو کی طرح بنتے ہیں۔ یہ رقوم واپسی کے قابل اور سود حساس ہوتی ہیں۔ ریاست کے لیے کشش واضح ہے: پرکشش منافع دیں، ڈالر لائیں اور ساختی اصلاحات کو ملتوی کریں۔ لیکن اس ماڈل میں تین بڑے خطرات موجود ہیں۔</p>
<p>پہلا، شرح مبادلہ کا خطرہ۔ این پی سیز اور دیگر آر ڈی اے سے منسلک آلات غیر ملکی کرنسی میں ہیں۔ اگر روپے کی قدر شدید طور پر کم ہو جائے—جیسا کہ پچھلے دہائی میں ہوا—تو ادائیگی کا حقیقی بوجھ مقامی کرنسی میں کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ ریاست کی مالی گنجائش سکڑ جاتی ہے اور ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ بالآخر ٹیکس دہندگان پر آتا ہے۔</p>
<p>دوسرا، میچورٹی کا خطرہ۔ قلیل سے درمیانے عرصے کے آلات رول اوور دباؤ پیدا کرتے ہیں۔ اگر عالمی حالات سخت ہوں یا ڈائیسپورا کا رویہ بدل جائے، تو نکلوانا دیگر بیرونی جھٹکوں کے ساتھ ہم وقت ہو سکتا ہے۔ ایک لیکویڈیٹی آلہ اسٹریس ایمپلیفائر میں بدل جاتا ہے۔</p>
<p>تیسرا، تخصیص کا خطرہ۔ جب ڈائیسپورا کی بچتیں سرکاری کاغذ کی طرف زیادہ مائل ہوں بجائے پیداواری ایکوئٹی کے، تو کیپٹل مارکیٹ سطحی رہ جاتی ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے آر ڈی اے فنڈز میں سرمایہ کاری، 113.9 ملین امریکی ڈالر، علامتی ہے اور مجموعی آمدنی کے مقابلے میں بہت چھوٹی ہے۔ یہ نہ صرف حکمرانی پر اعتماد کی کمی ظاہر کرتا ہے بلکہ کارپوریٹ شفافیت اور طویل مدتی ترقی کے امکانات میں بھی شکوک پیدا کرتا ہے۔</p>
<p>اس ساختی عدم توازن کی تصویر واضح ہے: ڈائیسپورا کے ڈالر حکومت کی صارفیت یا ری فنانسنگ پر خرچ ہوتے ہیں، نہ کہ صنعتی تبدیلی یا پیداوار بڑھانے پر۔ ریاست نے ایک عارضی توازن اختیار کیا ہے۔ یہ بیرونی ریٹیل بچتیں متحرک کرتی ہے بغیر اس کے کہ وہ رسک شیئرنگ سرمایہ کو متوجہ کرنے کے لیے ضروری ادارتی اصلاحات کرے۔ اس انتخاب کی سیاسی معیشت کافی کچھ بتاتی ہے: قرض نما آلات انتظامی طور پر آسان اور سیاسی طور پر پرکشش ہیں، جبکہ ایکویٹی اصلاحات—کارپوریٹ گورننس، عدالتی کارکردگی، اقلیتی شیئر ہولڈرز کا تحفظ—سیاسی طور پر مہنگی اور سست ہوتی ہیں۔</p>
<p>اسی وجہ سے آر ڈی اے ایک مالیاتی بفرنگ کا آلہ بن جاتا ہے بجائے کہ معاشی ڈھانچے کو دوبارہ ترتیب دینے کے۔ انصاف کے لیے کہنا ہو تو، اس پروگرام کے کچھ ادارتی فوائد بھی ہیں: اس نے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے ایک رسمی چینل قائم کیا، لین دین میں رکاوٹیں کم کیں اور ترسیلات کی شفافیت کو بڑھایا۔</p>
<p>پرائم (پی آر آئی ایم ای) درست طور پر زور دیتا ہے کہ آر ڈی اے ایک اضافی رسمی چینل کے طور پر ابھرا ہے جو اوور دی کاؤنٹر ترسیلات کو سپورٹ کرتا ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں تاریخی طور پر غیر دستاویزی آمدنی کا مسئلہ رہا ہے، یہ واقعی اہم ہے۔ یہاں فرق کو سمجھنا ضروری ہے: چینل اور مقصد الگ چیزیں ہیں۔ صرف ترسیلات کو سرکاری ذمہ داریوں میں منتقل کرنے والا چینل، ڈائیسپورا کی قیادت میں ترقی کے مترادف نہیں ہو سکتا۔</p>
<p>موازناتی تجربات پر غور کریں۔ کامیاب ڈائیسپورا انگیجمنٹ ماڈلز—چاہے مشرقی ایشیا میں ہوں یا افریقہ کے کچھ حصوں میں—بتدریج بانڈ-مرکوز آلات سے ترقی سے منسلک سرمایہ کاری کے وسائل کی طرف منتقل ہوئے: انفراسٹرکچر فنڈز، ایس ایم ای ایکویٹی پلیٹ فارمز، ٹیکنالوجی وینچر پولز وغیرہ۔ کلید یہ تھی کہ منافع کو پیداواریت کے ساتھ جوڑا جائے، نہ کہ صرف سرکاری پیداوار کے ساتھ۔ پاکستان کا آر ڈی اے ڈھانچہ ابھی بھی ییلڈ-سینٹرک ہے: این پی سیز پر زیادہ منافع جمع کرتا ہے، ریاست قرض لیتی ہے، اور یہ سلسلہ بار بار دہرایا جاتا ہے۔</p>
<p>یہ ییلڈ-سینٹرک ڈیزائن کچھ معیاری (نارمیٹو) خدشات بھی پیدا کرتا ہے۔ این آر پیز کو ترجیحی منافع فراہم کر کے، ریاست بالواسطہ اپنے شہریوں کو طبقاتی طور پر تقسیم کر دیتی ہے۔ مقامی بچت کرنے والے، جو روپے کے آلات اور کم حقیقی منافع کے تحت محدود ہیں، بیرونی سرمایہ کاروں کی سبسڈی دیتے ہیں جو ڈالر میں محفوظ سرمایہ کاری سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ آئینی نقطہ نظر سے، ایسی تقسیم عوامی فائدے سے ثابت ہونی چاہیے۔ اگر خالص زرمبادلہ پر اثر صرف 20 فیصد ہے تو تقسیم کا حساب و کتاب مشکوک ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ڈائیسپورا سے قرض لینے پر انحصار اخلاقی خطرے (مورل ہیزرڈ) کا سبب بن سکتا ہے۔ پالیسی ساز ساختی مالی اصلاحات—جیسے ٹیکس بیس کو وسیع کرنا، غیر ترقیاتی اخراجات پر قابو پانا، توانائی سبسڈی کو منظم کرنا—ملتوی کر سکتے ہیں کیونکہ ڈائیسپورا ڈالر وقتی طور پر دباؤ کو کم کر دیتے ہیں۔ اس طرح، آر ڈی اے موخر کرنے والی سیاسی معیشت کا حصہ بن جاتا ہے۔</p>
<p>پرائم کے مطالعے کی یہ نشاندہی درست ہے کہ ڈائیسپورا انگیجمنٹ کے حجم اور دائرہ کار دونوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، لیکن اس کے لیے مزید وضاحت درکار ہے۔ حجم بغیر ساختی اصلاح کے صرف ذمہ داری کو گہرا کرتا ہے۔ دائرہ کار کو صارفیت سے منسلک آلات سے ترقی سے منسلک سرمایہ کی طرف منتقل کرنا ہوگا۔</p>
<h3><a id="سفارشات" href="#سفارشات" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>سفارشات:</h3>
<p>پہلا، سرکاری سرٹیفیکیٹس پر انحصار کو بتدریج کم کیا جائے اور ڈائیسپورا انفرااسٹرکچر بانڈز کو وسیع کیا جائے جو مخصوص آمدنی پیدا کرنے والے منصوبوں، جیسے توانائی کی ترسیل، لاجسٹکس کوریڈرز، برآمدی زونز، سے منسلک ہوں، اور شفاف رپورٹنگ کے ساتھ رنگ-فینسڈ کیش فلو فراہم کریں۔</p>
<p>دوسرا، ایس ایم ایز، اسٹارٹ اپس اور برآمدی صنعتوں میں ڈائیسپورا کی ایکویٹی میں شرکت کے لیے ٹیکس اور ریگولیٹری مراعات دی جائیں۔ اگر پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے ذریعے ایکویٹی سرمایہ کاری معمولی ہے، تو مسئلہ صرف ڈائیسپورا کی غیر دلچسپی نہیں؛ بلکہ یہ مقامی ادارتی کمزوری کو بھی ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>تیسرا، جزوی غیر واپسی والے ( نان ری پیٹری ایبل) حصے شامل کیے جائیں، رضاکارانہ لیکن مراعات یافتہ، جہاں فنڈز کا ایک حصہ طویل مدتی ترقیاتی منصوبوں میں بند کیا جائے اور منافع مشترکہ اوپریحد پر ہو نہ کہ مقررہ ییلڈ پر۔</p>
<p>چوتھا، میکرو شفافیت یقینی بنائی جائے۔ ایس بی پی کو چاہیے کہ آر ڈی اے سے منسلک واجبات کے مچورٹی پروفائلز، شعبہ وار استعمال اور اسٹریس ٹیسٹ منظرنامے شائع کرے۔ ڈیٹا پر مبنی اعتماد تقریر پر مبنی اعتماد سے زیادہ دیرپا ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ سب کچھ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ (آر ڈی اے) کی علامتی کامیابی کوکم نہیں کرتا۔ یہ انتظامی جدیدیت کی نمائندگی کرتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ پاکستانی ادارے ڈیجیٹل فنانشل پلیٹ فارمز بڑے پیمانے پر ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ تاہم، جدیدیت بغیر میکرو پروڈنس ( مجموعی معاشی استحکام) کے ناکافی ہے۔</p>
<p>آر ڈی اے پر بحث بنیادی طور پر پاکستانی ریاست کی نوعیت کے گرد گھومتی ہے۔ کیا یہ ایک قرض لینے والی ریاست ہے جو ہمیشہ تخلیقی آلات کے ذریعے بیرونی خساروں کی ری فنانسنگ کرتی ہے؟ یا یہ ایک پیداوار پر مرکوز ریاست میں تبدیل ہو سکتی ہے جو ڈائیسپورا کے سرمایے کو ساختی تبدیلی کے لیے استعمال کرے؟</p>
<p>مالیاتی آلات غیر جانبدار نہیں ہوتے۔ یہ خطرے کی تقسیم اور نسلی یا بین النسلی بوجھ کے بارے میں سیاسی فیصلوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے فنڈز زیادہ تر سرکاری ذمہ داریوں میں بدل دی جاتی ہیں، تو آج کی لیکویڈیٹی کل کی مالی تنگی میں بدل سکتی ہے۔</p>
<p>پرائم کے ڈیٹا نے مستقل ذخائر کے حصول کا وہم ختم کر دیا ہے۔ صرف 20 فیصد آمدنی دیرپا ذخائر میں شامل ہوتی ہے، اس لیے آر ڈی اے کو کامل حل کے طور پر منانا درست نہیں۔ یہ زیادہ سے زیادہ ایک ضمنی لیکویڈیٹی چینل ہے۔</p>
<p>چیلنج اب معیاری تبدیلی ہے۔ اگر آر ڈی اے محض ترسیلات اور لیکویڈیٹی کے لیے ایک اور آلہ رہے، تو اس کا میکرو اقتصادی کردار حد تک ہی برقرار رہے گا۔ لیکن اگر یہ ایک طویل مدتی، غیر واپسی والے، ترقی سے منسلک سرمایہ کاری کے لیے پلیٹ فارم بن جائے، تو یہ پاکستان کے ترقیاتی مالی ڈھانچے کو بدل سکتا ہے۔ یہ فیصلہ ادارتی نوعیت کا ہے، تکنیکی نہیں۔</p>
<p>پاکستان کی بیرونی نازک صورتحال صرف واجبات کے بوجھ ڈال کر حل نہیں کی جا سکتی، چاہے وہ کتنا ہی ڈیجیٹل کیوں نہ ہو۔ اس کے لیے پیداواری صلاحیت کی تعمیر، قانون کی حکمرانی کی مضبوطی اور ملکی و بیرونی سرمایہ کاروں کا اعتماد دوبارہ قائم کرنا ضروری ہے۔ ڈائیسپورا کا سرمایہ اس سفر میں شریک ہو سکتا ہے—لیکن صرف اگر اسے رسک شیئرنگ میں شامل کیا جائے، نہ کہ محض سرکاری قرض میں۔</p>
<p>آخر میں، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ ایک آئینہ ہے۔ یہ ہماری جدت اور ساختی ہچکچاہٹ دونوں کی عکاسی کرتا ہے۔ اعداد و شمار حقیقت پسندی پر مجبور کرتے ہیں: 11.92 ارب امریکی ڈالر کی آمد متاثر کن ہے، جبکہ 2.3 ارب امریکی ڈالر کی خالص واپسی کے قابل ذمہ داری حقیقت بیان کرتی ہے۔</p>
<p>اعتماد صرف جمع شدہ رقوم سے نہیں ماپا جاتا؛ یہ طویل مدتی ترقی میں سرمایہ لگانے کی آمادگی سے ماپا جاتا ہے۔ جب تک آر ڈی اے ذمہ داری پر مبنی ڈالرزم سے ڈائیسپورا کے تعاون سے ترقی میں تبدیل نہیں ہوتا، اس کا وعدہ صرف جزوی طور پر پورا ہوا سمجھا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283846</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 15:52:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (حزیمہ بخاریڈاکٹر اکرام الحق)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/13143635ac25bab.webp" type="image/webp" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/13143635ac25bab.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
