<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:36:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال آئی ایم ایف مذاکرات پر اثر انداز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283836/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے جاری تیسرے لازمی جائزے میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ عالمی اور ملکی سطح پر فنڈ کے تمام سابقہ معاشی تخمینوں  پر نظرِثانی کی ضرورت ہے تاہم ڈیٹا کی درست ری کیلیبریشن کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ تنازع کس حد تک اور کتنے عرصے تک جاری رہتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فنڈ (آئی ایم ایف) نے تنازع شروع ہونے کے تین دن بعد، 3 مارچ کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں مزید کہا کہ اب تک ہم نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں خلل، توانائی  قیمتوں میں اضافے اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے، یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو عالمی سطح کے ساتھ پاکستان میں بھی محسوس کیا گیا ہے جہاں برآمد کنندگان اپنی کھیپ کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی تعاون کا مطالبہ کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس موقف کی تائید آئی ایم ایف کی ٹیم (جس کی سربراہی پیٹرووا کر رہی تھیں) کی جانب سے 11 مارچ کو جاری کردہ اس بیان سے ہوتی ہے جو 25 فروری سے 11 مارچ تک حکام کے ساتھ ہونے والے ورچوئل مذاکرات کے بعد سامنے آیا: اگرچہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن یہ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہیں گے، تاکہ پاکستان کی معیشت اور ای ایف ایف کے تحت جاری پروگرام پر حالیہ عالمی حالات کے اثرات کا مزید مکمل طور پر جائزہ لیا جاسکے۔ تاہم پریس ریلیز کا اختتام اس نوٹ پر ہوا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور حکام ان مذاکرات کو آنے والے دنوں میں حتمی شکل دینے کے مقصد کے ساتھ جاری رکھیں گے جو کہ متن میں پہلے کیے گئے بیان کا ایک واضح حوالہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس ریلیز میں ای ایف ایف پروگرام پر عملدرآمد میں پیشرفت کی نشاندہی کی گئی، خاص طور پر پبلک فنانس  کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے،  مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کی ہدف کردہ حد کے اندر رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی کے تسلسل اور توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ساختی اصلاحات  کو مزید گہرا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی کیونکہ حکام کی جانب سے ترقی کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے اور ساتھ ہی سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے اخراجات میں اضافے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اس بات کی نشاندہی ہوسکتی ہے کہ تیسرے جائزے پر مزید بات چیت متوقع ہے، کیونکہ ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی میں نرمی یعنی پالیسی ریٹ میں کمی کی ضرورت ہوتی ہے (جسے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 9 مارچ کے فیصلے میں مستحکم رکھا جو شاید فنڈ کے ساتھ کسی معاہدے کی عکاسی کرتا ہے)۔ اس کے علاوہ یوٹیلٹیز (بجلی و گیس) کی قیمتوں کی مکمل وصولی کے اصول پر سختی سے عمل درآمد اور مالیاتی پالیسی کو سخت رکھنا بھی شامل ہے (جس کے تحت شاید وزیراعظم کے مراعاتی پیکیج پر بھی بحث ہوسکتی ہے جس میں بجلی  نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی اور ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ کو 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی تھی)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم پاکستان میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) تک پہنچنے میں ناکامی جس سے اگلی قسط کے اجرا میں تاخیر ہوسکتی ہے، ادائیگیوں کے توازن کا سنگین بحران پیدا کرسکتی ہے جو کہ ملک کے آئی ایم ایف پیکیج لینے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی: (1) رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ چکا تھا جو جولائی تا فروری 2025 کے 20.04 ارب ڈالر سے بڑھ کر رواں سال اسی مدت میں 25.04 ارب ڈالر تک پہنچ گیا؛ (2) اگرچہ ترسیلاتِ زر پچھلے ماہ تک بڑھ رہی تھیں، لیکن خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیوں کے تعطل کے باعث تنازع کے خاتمے تک ان کی آمد میں کمی متوقع ہے؛ اور (3) موجودہ حالات میں خلیجی ممالک سے طے شدہ (ایم او یوز کے تحت) براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی پاکستان آمد کے امکانات بھی کم نظر آ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر آئی ایم ایف کی ٹیم نے بعض طے شدہ وقتی پابندیوں اور ساختی اہداف پر عمل درآمد میں ناکامی پر تحفظات کا اظہار کیا تو حکومت کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ ان خدشات کو فوری طور پر دور کرے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پروگرام میں تاخیر کی وجہ ہماری جانب سے بروقت اقدامات کی کمی نہ بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>رپورٹس کے مطابق بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے 7 ارب ڈالر کے توسیع شدہ فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے جاری تیسرے لازمی جائزے میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے تاخیر ہوئی ہے۔ اس تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ عالمی اور ملکی سطح پر فنڈ کے تمام سابقہ معاشی تخمینوں  پر نظرِثانی کی ضرورت ہے تاہم ڈیٹا کی درست ری کیلیبریشن کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ یہ تنازع کس حد تک اور کتنے عرصے تک جاری رہتا ہے۔</strong></p>
<p>فنڈ (آئی ایم ایف) نے تنازع شروع ہونے کے تین دن بعد، 3 مارچ کو جاری کردہ اپنی پریس ریلیز میں مزید کہا کہ اب تک ہم نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں خلل، توانائی  قیمتوں میں اضافے اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے، یہ ایک ایسا مشاہدہ ہے جو عالمی سطح کے ساتھ پاکستان میں بھی محسوس کیا گیا ہے جہاں برآمد کنندگان اپنی کھیپ کو منزلِ مقصود تک پہنچانے کو یقینی بنانے کے لیے حکومتی تعاون کا مطالبہ کررہے ہیں۔</p>
<p>اس موقف کی تائید آئی ایم ایف کی ٹیم (جس کی سربراہی پیٹرووا کر رہی تھیں) کی جانب سے 11 مارچ کو جاری کردہ اس بیان سے ہوتی ہے جو 25 فروری سے 11 مارچ تک حکام کے ساتھ ہونے والے ورچوئل مذاکرات کے بعد سامنے آیا: اگرچہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، لیکن یہ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہیں گے، تاکہ پاکستان کی معیشت اور ای ایف ایف کے تحت جاری پروگرام پر حالیہ عالمی حالات کے اثرات کا مزید مکمل طور پر جائزہ لیا جاسکے۔ تاہم پریس ریلیز کا اختتام اس نوٹ پر ہوا کہ آئی ایم ایف کی ٹیم اور حکام ان مذاکرات کو آنے والے دنوں میں حتمی شکل دینے کے مقصد کے ساتھ جاری رکھیں گے جو کہ متن میں پہلے کیے گئے بیان کا ایک واضح حوالہ ہے۔</p>
<p>پریس ریلیز میں ای ایف ایف پروگرام پر عملدرآمد میں پیشرفت کی نشاندہی کی گئی، خاص طور پر پبلک فنانس  کو مضبوط بنانے کے لیے مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے،  مہنگائی کو اسٹیٹ بینک کی ہدف کردہ حد کے اندر رکھنے کے لیے مناسب حد تک سخت مانیٹری پالیسی کے تسلسل اور توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے اصلاحات کو آگے بڑھانے کے حوالے سے۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ ساختی اصلاحات  کو مزید گہرا کرنے پر خصوصی توجہ دی گئی کیونکہ حکام کی جانب سے ترقی کی رفتار تیز کرنے پر زور دیا گیا ہے اور ساتھ ہی سماجی تحفظ کو مضبوط بنانے اور صحت و تعلیم کے اخراجات میں اضافے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ یہ مذاکرات ابھی جاری ہیں۔</p>
<p>یہ اس بات کی نشاندہی ہوسکتی ہے کہ تیسرے جائزے پر مزید بات چیت متوقع ہے، کیونکہ ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے مانیٹری پالیسی میں نرمی یعنی پالیسی ریٹ میں کمی کی ضرورت ہوتی ہے (جسے مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 9 مارچ کے فیصلے میں مستحکم رکھا جو شاید فنڈ کے ساتھ کسی معاہدے کی عکاسی کرتا ہے)۔ اس کے علاوہ یوٹیلٹیز (بجلی و گیس) کی قیمتوں کی مکمل وصولی کے اصول پر سختی سے عمل درآمد اور مالیاتی پالیسی کو سخت رکھنا بھی شامل ہے (جس کے تحت شاید وزیراعظم کے مراعاتی پیکیج پر بھی بحث ہوسکتی ہے جس میں بجلی  نرخوں میں 4.04 روپے فی یونٹ کمی اور ایکسپورٹ ری فنانس ریٹ کو 7.5 فیصد سے کم کر کے 4.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی تھی)۔</p>
<p>تاہم پاکستان میں اس حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے کہ اسٹاف لیول معاہدے (ایس ایل اے) تک پہنچنے میں ناکامی جس سے اگلی قسط کے اجرا میں تاخیر ہوسکتی ہے، ادائیگیوں کے توازن کا سنگین بحران پیدا کرسکتی ہے جو کہ ملک کے آئی ایم ایف پیکیج لینے کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ تشویش اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ تنازع شروع ہونے سے پہلے ہی: (1) رواں مالی سال کے پہلے آٹھ مہینوں کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ چکا تھا جو جولائی تا فروری 2025 کے 20.04 ارب ڈالر سے بڑھ کر رواں سال اسی مدت میں 25.04 ارب ڈالر تک پہنچ گیا؛ (2) اگرچہ ترسیلاتِ زر پچھلے ماہ تک بڑھ رہی تھیں، لیکن خلیجی ممالک میں معاشی سرگرمیوں کے تعطل کے باعث تنازع کے خاتمے تک ان کی آمد میں کمی متوقع ہے؛ اور (3) موجودہ حالات میں خلیجی ممالک سے طے شدہ (ایم او یوز کے تحت) براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری  کی پاکستان آمد کے امکانات بھی کم نظر آ رہے ہیں۔</p>
<p>اگر آئی ایم ایف کی ٹیم نے بعض طے شدہ وقتی پابندیوں اور ساختی اہداف پر عمل درآمد میں ناکامی پر تحفظات کا اظہار کیا تو حکومت کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ ان خدشات کو فوری طور پر دور کرے، تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ پروگرام میں تاخیر کی وجہ ہماری جانب سے بروقت اقدامات کی کمی نہ بنے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283836</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 12:15:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/131210503549670.gif" type="image/gif" medium="image">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/131210503549670.gif"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
