<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، 100 انڈیکس 555 پوائنٹس گر گیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283829/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو ایک بار پھر اتار چڑھاؤ کا رجحان دیکھا گیا جہاں بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 555 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 155,002 پوائنٹس پر جاپہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث انڈیکس بتدریج مندی کی جانب مائل ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صبح کے آخری اوقات تک بینچ مارک انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ آئی اور یہ 152,780 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا جو بڑے پیمانے پر منافع کے حصول اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس شدید مندی کے بعد مارکیٹ میں جزوی بحالی دیکھی گئی، تاہم مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور سیشن کے آخری حصے میں معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ایک محدود حد میں رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 555.27 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کی کمی سے 153,866.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا  ہے کہ ”یہ دباؤ سرمایہ کاروں کے اس خوف کے سبب ہے کہ موجودہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ہفتے کے آخر میں کوئی منفی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں تیل کی قیمتیں پہلے ہی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے ارد گرد ہیں“۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی اثرحبکو ،لک، ایف ایف سی، اینگرو ہولڈنگ اور ایم ای بی ایل سے آیا، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 649 پوائنٹس کی کمی کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار رہا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا، جس کی وجہ سے زیادہ تر شعبوں میں محتاط لین دین دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,437.05 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کی کمی سے 154,421.43 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی، اور یہ مسلسل دوسری ہفتہ وار مندی کی جانب گامزن رہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے حل کی امیدیں تیزی سے ختم ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں جس نے عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب کیے اور مہنگائی کے خدشات کو جنم دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہیجان خیزی کے دوران امریکی ڈالر محفوظ ترین پناہ گاہ کے طور پر پہلی پسند بن کر ابھرا ہے جس کی وجہ سے دیگر زیادہ تر کرنسیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈالر مسلسل دوسرے ہفتے بھی فائدے میں رہا اور فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس کی قدر میں 2 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب برقرار رہیں جس پر ماہرین کی گہری نظر ہے۔ تاہم جمعہ کو ابتدائی تجارت کے دوران قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ نے ان ممالک کے لیے 30 دن کا لائسنس جاری کر دیا ہے جو سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل اور پٹرولیم مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ فیوچرز کی قیمت 99.85 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 95.05 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا میں، ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر انڈیکس میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ مجموعی طور پر ہفتے کے دوران 1.5 فیصد خسارے کی جانب گامزن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گرگیا جب کہ ٹیکنالوجی شعبے پر منحصر جنوبی کوریا کے حصص میں تقریباً 2 فیصد اور تائیوان کی ایکویٹیز میں ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے حملوں میں تیزی اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس عزم کے بعد کہ وہ آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کو بند رکھیں گے، سرمایہ کار ایک طویل تنازع اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے لیے خود کو تیار کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سائے میں مارکیٹوں نے مرکزی بینکوں سے وابستہ اپنی توقعات کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ ڈیلرز اب فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرح سود میں صرف 20 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ یہ توقع 50 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی تک تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، پاکستانی روپیہ کی قدر میں جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔  کاروبار کے اختتام  پر مقامی کرنسی 279.31 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں صرف  ایک پیسے کا اضافہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو آل شیئر انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 404.25 ملین سے کم ہو کر 303.02 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 24.67 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 14.69 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو دوست اسٹیلز لمیٹڈ 27.79 ملین حصص کے ساتھ تجارتی حجم میں پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد حیسکول پٹرول 25.43 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 16.33 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 472 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 190 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 205 میں کمی اور 77 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/13140913337ed0b.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/13140913337ed0b.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعہ کو ایک بار پھر اتار چڑھاؤ کا رجحان دیکھا گیا جہاں بینچ مارک 100 انڈیکس ہفتے کے اختتام پر 555 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق کے ایس ای 100 انڈیکس کا آغاز مثبت انداز میں ہوا، ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی بلند ترین سطح 155,002 پوائنٹس پر جاپہنچا۔</p>
<p>تاہم یہ تیزی زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی اور مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ بڑھنے کے باعث انڈیکس بتدریج مندی کی جانب مائل ہوگیا۔</p>
<p>صبح کے آخری اوقات تک بینچ مارک انڈیکس میں تیزی سے گراوٹ آئی اور یہ 152,780 پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گرگیا جو بڑے پیمانے پر منافع کے حصول اور سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کی عکاسی کرتا ہے۔</p>
<p>اس شدید مندی کے بعد مارکیٹ میں جزوی بحالی دیکھی گئی، تاہم مارکیٹ مسلسل دباؤ کا شکار رہی اور سیشن کے آخری حصے میں معمولی اتار چڑھاؤ کے ساتھ ایک محدود حد میں رہی۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 555.27 پوائنٹس یا 0.36 فیصد کی کمی سے 153,866.16 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے کہا  ہے کہ ”یہ دباؤ سرمایہ کاروں کے اس خوف کے سبب ہے کہ موجودہ مشرق وسطیٰ کے تنازع کے باعث ہفتے کے آخر میں کوئی منفی پیش رفت ہو سکتی ہے، جہاں تیل کی قیمتیں پہلے ہی تقریباً 100 ڈالر فی بیرل کے ارد گرد ہیں“۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ انڈیکس میں سب سے زیادہ منفی اثرحبکو ،لک، ایف ایف سی، اینگرو ہولڈنگ اور ایم ای بی ایل سے آیا، جنہوں نے مجموعی طور پر کے ایس ای 100 انڈیکس میں 649 پوائنٹس کی کمی کی۔</p>
<p>جمعرات کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار رہا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا، جس کی وجہ سے زیادہ تر شعبوں میں محتاط لین دین دیکھا گیا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس 1,437.05 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کی کمی سے 154,421.43 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر جمعہ کو ایشیائی حصص کی قیمتوں میں بڑی گراوٹ دیکھی گئی، اور یہ مسلسل دوسری ہفتہ وار مندی کی جانب گامزن رہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے حل کی امیدیں تیزی سے ختم ہونے کی وجہ سے تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار رہیں جس نے عالمی منڈیوں پر منفی اثرات مرتب کیے اور مہنگائی کے خدشات کو جنم دیا۔</p>
<p>اس ہیجان خیزی کے دوران امریکی ڈالر محفوظ ترین پناہ گاہ کے طور پر پہلی پسند بن کر ابھرا ہے جس کی وجہ سے دیگر زیادہ تر کرنسیوں پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔</p>
<p>ڈالر مسلسل دوسرے ہفتے بھی فائدے میں رہا اور فروری کے اختتام پر جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک اس کی قدر میں 2 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل کی سطح کے قریب برقرار رہیں جس پر ماہرین کی گہری نظر ہے۔ تاہم جمعہ کو ابتدائی تجارت کے دوران قیمتوں میں کچھ کمی دیکھی گئی کیونکہ امریکہ نے ان ممالک کے لیے 30 دن کا لائسنس جاری کر دیا ہے جو سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل اور پٹرولیم مصنوعات خریدنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>برینٹ فیوچرز کی قیمت 99.85 ڈالر فی بیرل رہی جبکہ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل کی قیمت 95.05 ڈالر فی بیرل ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>ایشیا میں، ایم ایس سی آئی ایشیا پیسیفک حصص کے وسیع تر انڈیکس میں 0.5 فیصد کی کمی دیکھی گئی اور یہ مجموعی طور پر ہفتے کے دوران 1.5 فیصد خسارے کی جانب گامزن ہے۔</p>
<p>جاپان کا نکی انڈیکس 1.3 فیصد گرگیا جب کہ ٹیکنالوجی شعبے پر منحصر جنوبی کوریا کے حصص میں تقریباً 2 فیصد اور تائیوان کی ایکویٹیز میں ایک فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں ایران کی جانب سے حملوں میں تیزی اور نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے اس عزم کے بعد کہ وہ آبنائے ہرمز کی بحری گزرگاہ کو بند رکھیں گے، سرمایہ کار ایک طویل تنازع اور تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کے لیے خود کو تیار کررہے ہیں۔</p>
<p>بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سائے میں مارکیٹوں نے مرکزی بینکوں سے وابستہ اپنی توقعات کو تیزی سے تبدیل کرنا شروع کردیا ہے۔ ڈیلرز اب فیڈرل ریزرو کی جانب سے رواں سال شرح سود میں صرف 20 بیسس پوائنٹس کی کمی کی توقع کر رہے ہیں جبکہ گزشتہ ماہ یہ توقع 50 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی تک تھی۔</p>
<p>دریں اثنا، پاکستانی روپیہ کی قدر میں جمعہ کو انٹر بینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔  کاروبار کے اختتام  پر مقامی کرنسی 279.31 پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں صرف  ایک پیسے کا اضافہ تھا۔</p>
<p>جمعہ کو آل شیئر انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 404.25 ملین سے کم ہو کر 303.02 ملین رہ گیا۔</p>
<p>اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 24.67 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 14.69 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>جمعہ کو دوست اسٹیلز لمیٹڈ 27.79 ملین حصص کے ساتھ تجارتی حجم میں پہلے نمبر پر رہی جس کے بعد حیسکول پٹرول 25.43 ملین شیئرز اور بینک آف پنجاب 16.33 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 472 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جن میں سے 190 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 205 میں کمی اور 77 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام رہا۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/13140913337ed0b.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/13140913337ed0b.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283829</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 16:19:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/131053004500bac.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/131053004500bac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
