<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیر خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا اشارہ دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283819/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلام آباد میں جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم بعد میں وزارت خزانہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فوری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کچھ نیوز چینلز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے سے متعلق چلنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے کمیٹی کو صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان سے آگاہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ کیا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان کے بیرونی مالیاتی خلا پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس پر وزیر خزانہ نے ان دعوؤں کی تردید کی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع کئی ہفتوں تک جاری رہا تو اس کے اثرات مہنگائی، محصولات، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس اور ترسیلات زر پر پڑ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ جاری تنازع کے باعث قطر نے فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایک ایل این جی کارگو جس کی قیمت پہلے تقریباً 25 ملین ڈالر تھی، اب عالمی منڈی میں تقریباً 100 ملین ڈالر تک بتائی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت پانچ آئل ریفائنریز کام کر رہی ہیں جن میں سے بیشتر پرانی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب پاکستان کو رعایتی نرخوں پر خام تیل فراہم کر رہا ہے جس سے کچھ ریلیف مل رہا ہے، تاہم شپنگ اخراجات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے اور ایک کارگو کی ترسیل کی لاگت تقریباً 7 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ اسٹاک کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ اس لیے کیا تاکہ درآمدی سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر قیمتیں فوری طور پر ایڈجسٹ نہ کی جاتیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں درآمد روک سکتی تھیں جس سے ملک میں شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغے جبکہ حکومت نے پاکستان کے عوام پر پیٹرول میزائل داغ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ عالمی منڈی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان جمعہ کو کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایران سے ایل پی جی کی درآمد جاری ہے اور پہلے کے مقابلے میں اس میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایل این جی کی مقامی قیمتوں میں فوری اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ اجلاس کے دوران یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہو گیا تو پیٹرول کی قیمتیں ممکنہ طور پر 500 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسلام آباد میں جمعرات کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے اشارہ دیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ تاہم بعد میں وزارت خزانہ نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر خزانہ نے پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے کے بارے میں کوئی بیان نہیں دیا۔</strong></p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس کی صدارت سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کی۔ اجلاس میں وزیر خزانہ نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ملک میں ایندھن کی فراہمی برقرار رکھنے کے لیے فوری فیصلے کیے جا رہے ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں وزارت خزانہ کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ کچھ نیوز چینلز پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافے سے متعلق چلنے والی خبریں درست نہیں ہیں۔ بیان کے مطابق وزیر خزانہ نے کمیٹی کو صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے رجحان سے آگاہ کیا تھا۔</p>
<p>اجلاس کے دوران کمیٹی ارکان نے سوال اٹھایا کہ کیا انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ(آئی ایم ایف) نے پاکستان کے بیرونی مالیاتی خلا پر تشویش ظاہر کی ہے۔ اس پر وزیر خزانہ نے ان دعوؤں کی تردید کی، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ کا تنازع کئی ہفتوں تک جاری رہا تو اس کے اثرات مہنگائی، محصولات، کرنٹ اکاؤنٹ بیلنس اور ترسیلات زر پر پڑ سکتے ہیں۔</p>
<p>اجلاس میں وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ جاری تنازع کے باعث قطر نے فورس میجر کا اعلان کر دیا ہے جس کے نتیجے میں پاکستان کو ایل این جی کی ترسیل متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ایک ایل این جی کارگو جس کی قیمت پہلے تقریباً 25 ملین ڈالر تھی، اب عالمی منڈی میں تقریباً 100 ملین ڈالر تک بتائی جا رہی ہے۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان میں اس وقت پانچ آئل ریفائنریز کام کر رہی ہیں جن میں سے بیشتر پرانی ٹیکنالوجی پر مشتمل ہیں۔ یہ بھی بتایا گیا کہ سعودی عرب پاکستان کو رعایتی نرخوں پر خام تیل فراہم کر رہا ہے جس سے کچھ ریلیف مل رہا ہے، تاہم شپنگ اخراجات میں شدید اضافہ ہو گیا ہے اور ایک کارگو کی ترسیل کی لاگت تقریباً 7 لاکھ ڈالر سے بڑھ کر 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم نے بتایا کہ حکومت نے موجودہ اسٹاک کی بنیاد پر ایندھن کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر اضافہ اس لیے کیا تاکہ درآمدی سلسلہ جاری رکھا جا سکے۔ ان کے مطابق اگر قیمتیں فوری طور پر ایڈجسٹ نہ کی جاتیں تو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں درآمد روک سکتی تھیں جس سے ملک میں شدید قلت پیدا ہونے کا خدشہ تھا۔</p>
<p>اجلاس میں سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس کا بوجھ غریب عوام پر ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اسرائیل نے ایران پر میزائل داغے جبکہ حکومت نے پاکستان کے عوام پر پیٹرول میزائل داغ دیا۔</p>
<p>وزیر خزانہ اور وزیر پیٹرولیم نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی ہدایت ہے کہ عوام پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے۔ عالمی منڈی کی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان جمعہ کو کیا جائے گا اور کوشش کی جائے گی کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جا سکے۔</p>
<p>سینیٹ کمیٹی کو یہ بھی بتایا گیا کہ ایران سے ایل پی جی کی درآمد جاری ہے اور پہلے کے مقابلے میں اس میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایل این جی کی مقامی قیمتوں میں فوری اضافے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں۔ اجلاس کے دوران یہ انتباہ بھی دیا گیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں تنازع طویل ہو گیا تو پیٹرول کی قیمتیں ممکنہ طور پر 500 روپے فی لیٹر تک جا سکتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283819</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 08:59:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/130857459ce8dbb.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/130857459ce8dbb.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
