<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:59:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی فوجی طیارہ عراق میں گر کر تباہ، ریسکیو آپریشن جاری</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283817/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مغربی عراق میں جمعرات کے روز امریکی فوج کا ایک فضائی ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس واقعے میں ایک اور طیارہ بھی شامل تھا تاہم یہ حادثہ کسی دشمنانہ کارروائی یا غلطی سے ہونے والی فائرنگ کا نتیجہ نہیں تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ میں بڑی تعداد میں طیارے تعینات کر رکھے ہیں، اور اس حادثے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ دوست ممالک کی فضائی حدود میں بھی فوجی آپریشنز کے دوران خطرات موجود رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ امریکی فضائیہ کا کے سی-135 ری فیولنگ طیارہ گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بیان کے مطابق یہ حادثہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران پیش آیا، جو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا نام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بھی کے سی-135 تھا اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں چھ فوجی اہلکار سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کے سی-135 طیارہ، جسے امریکی کمپنی بوئنگ نے 1950 اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں تیار کیا تھا، امریکی فوج کے فضائی ری فیولنگ بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ جنگی جہازوں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرتا ہے جس سے انہیں مشن کے دوران زمین پر اترنے کی ضرورت نہیں رہتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے ایران کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز کے بعد اب تک سات امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ ایران میں 6000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ اس جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 2000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں تقریباً 700 افراد لبنان میں مارے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مغربی عراق میں جمعرات کے روز امریکی فوج کا ایک فضائی ایندھن فراہم کرنے والا طیارہ حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہوگیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق اس واقعے میں ایک اور طیارہ بھی شامل تھا تاہم یہ حادثہ کسی دشمنانہ کارروائی یا غلطی سے ہونے والی فائرنگ کا نتیجہ نہیں تھا۔</strong></p>
<p>امریکہ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے سلسلے میں مشرق وسطیٰ میں بڑی تعداد میں طیارے تعینات کر رکھے ہیں، اور اس حادثے نے یہ ظاہر کیا ہے کہ دوست ممالک کی فضائی حدود میں بھی فوجی آپریشنز کے دوران خطرات موجود رہتے ہیں۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ امریکی فضائیہ کا کے سی-135 ری فیولنگ طیارہ گرنے کے بعد ریسکیو آپریشن جاری ہے جبکہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بحفاظت لینڈ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ بیان کے مطابق یہ حادثہ آپریشن ایپک فیوری کے دوران پیش آیا، جو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کا نام ہے۔</p>
<p>ایک امریکی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اس واقعے میں شامل دوسرا طیارہ بھی کے سی-135 تھا اور حادثے کا شکار ہونے والے طیارے میں چھ فوجی اہلکار سوار تھے۔</p>
<p>کے سی-135 طیارہ، جسے امریکی کمپنی بوئنگ نے 1950 اور 1960 کی دہائی کے اوائل میں تیار کیا تھا، امریکی فوج کے فضائی ری فیولنگ بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ یہ طیارہ جنگی جہازوں کو دورانِ پرواز ایندھن فراہم کرتا ہے جس سے انہیں مشن کے دوران زمین پر اترنے کی ضرورت نہیں رہتی۔</p>
<p>امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری سے ایران کے خلاف فضائی حملوں کے آغاز کے بعد اب تک سات امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ امریکہ ایران میں 6000 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنا چکا ہے جبکہ اس جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 2000 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں تقریباً 700 افراد لبنان میں مارے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283817</guid>
      <pubDate>Fri, 13 Mar 2026 08:32:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/130830011ac3cbe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/130830011ac3cbe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
