<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:25 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پروازوں میں تاخیر کے بعد جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے آخری کھلاڑی بھی بھارت سے روانہ ہو گئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283810/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی (آئی سی سی) نے جمعرات کو بتایا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کا آخری دستہ، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بھارت میں پھنسا ہوا تھا بالاخر روانہ ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کی منسوخی یا ان کے راستوں (روٹس) کی تبدیلی کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی سفر شدید افراتفری کا شکار ہو گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران  جنوبی افریقہ کے بقیہ 29 اراکین اور ویسٹ انڈیز کے آخری 16 اراکین اپنے اپنے وطن کے لیے پروازوں پر روانہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے مزید کہا کہ ان روانگیوں کے ساتھ ہی اس  پیچیدہ آپریشن کا اختتام ہوا جو  عالمی سفری حالات کی غیر معمولی چیلنجنگ صورتحال کے تحت انجام دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اپنی واپسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو شدید پریشان کن قرار دیا تھا اور آئی سی سی کی جانب سے ترتیب دیے گئے چارٹر فلائٹ کے انتظامات میں  مسلسل تاخیر کی نشاندہی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دو بار کی عالمی چیمپئن (ویسٹ انڈیز) یکم مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی جبکہ جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ کا سفر 4 مارچ کو سیمی فائنل میں شکست کے ساتھ ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے بدھ کو کسی بھی قسم کی جانبداری کے تاثر کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کے محض 36 گھنٹے بعد ہی ایک چارٹر فلائٹ کے ذریعے روانہ ہو گئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی (آئی سی سی) نے جمعرات کو بتایا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے کھلاڑیوں کا آخری دستہ، جو ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد ایک ہفتے سے زائد عرصے سے بھارت میں پھنسا ہوا تھا بالاخر روانہ ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث ایئر لائنز کی جانب سے پروازوں کی منسوخی یا ان کے راستوں (روٹس) کی تبدیلی کی وجہ سے بین الاقوامی فضائی سفر شدید افراتفری کا شکار ہو گیا تھا۔</p>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کا کہنا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران  جنوبی افریقہ کے بقیہ 29 اراکین اور ویسٹ انڈیز کے آخری 16 اراکین اپنے اپنے وطن کے لیے پروازوں پر روانہ ہو چکے ہیں۔</p>
<p>آئی سی سی نے مزید کہا کہ ان روانگیوں کے ساتھ ہی اس  پیچیدہ آپریشن کا اختتام ہوا جو  عالمی سفری حالات کی غیر معمولی چیلنجنگ صورتحال کے تحت انجام دیا گیا۔</p>
<p>کرکٹ ویسٹ انڈیز نے اپنی واپسی سے متعلق غیر یقینی صورتحال کو شدید پریشان کن قرار دیا تھا اور آئی سی سی کی جانب سے ترتیب دیے گئے چارٹر فلائٹ کے انتظامات میں  مسلسل تاخیر کی نشاندہی کی تھی۔</p>
<p>دو بار کی عالمی چیمپئن (ویسٹ انڈیز) یکم مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہو گئی تھی جبکہ جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ کا سفر 4 مارچ کو سیمی فائنل میں شکست کے ساتھ ختم ہوا تھا۔</p>
<p>آئی سی سی نے بدھ کو کسی بھی قسم کی جانبداری کے تاثر کو مسترد کر دیا تھا کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل میں شکست کے محض 36 گھنٹے بعد ہی ایک چارٹر فلائٹ کے ذریعے روانہ ہو گئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283810</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 15:52:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/12154723c2128a6.webp" type="image/webp" medium="image" height="317" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/12154723c2128a6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
