<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 23:01:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب سے مالی معاونت کی درخواست</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283803/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;میڈیا کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ موجودہ 5 ارب ڈالر کا رول اوورسالانہ بنیادوں کے بجائے 10 سال کی مدت کے لیے مؤخر کردیا جائے اور موجودہ 1.2 ارب امریکی ڈالر کی تیل کی سہولت کی جگہ 5 ارب امریکی ڈالر کی سہولت دی جائے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے موجودہ 7 ارب ڈالر کے 36 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت، ابتدائی طور پر حکام سے کہا تھا کہ وہ تین دوست ممالک (سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات) سے پروگرام کی پوری مدت کے لیے قرضوں کے رول اوور حاصل کریں جس کا چھٹا اور آخری جائزہ 15 ستمبر 2027 کو ہونا طے پایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک (سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات) نے رول اوور کی سالانہ بنیادوں پر تجدید ہی پر اصرار کیا ہے جبکہ آئی ایم ایف  کے عملے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر پاکستان فنڈ کے پروگرام پر قائم رہتا ہے تو رول اوور کی فراہمی ایک معمول کی کارروائی ہوگی۔ اس پروگرام پر برقرار رہنے کا مطلب ان تمام سخت شرائط پر فوری عمل درآمد ہے جن پر پہلے سے اتفاق کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے عمل کو واضح طور پر تیز کررہا ہے جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایندھن کی قلت کے باعث تجارت میں کمی نے محض نو دنوں کے اندر پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی عالمی قیمتوں کو 60 ڈالر سے بڑھا کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان بھی ان تبدیلیوں سے محفوظ نہیں ہے بلکہ ہماری کمزور معیشت پر ان کے اثرات دیگر درمیانی آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;27 فروری 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16,300 ملین ڈالر (16.3 ارب ڈالر) تھے، جس میں تین دوست ممالک کی جانب سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز (قرض کی واپسی میں تاخیر) شامل ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کچھ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہ تینوں ممالک سالانہ رول اوور کا اپنا عہد پورا کریں گے یا نہیں، تاہم مختصر مدت کے بجائے طویل مدتی قرض حاصل کرنے کے فیصلے سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس پر سود کی شرح کم ہوگی۔ البتہ قرض کی واپسی کو مزید نو سال کے لیے مؤخر کرنے سے ملک کے مجموعی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوگا، یہ ایک ایسا اضافہ ہے جو اس وقت زیادہ شدت سے محسوس کیا جائے گا جب تجارتی خسارہ بڑھتا رہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آتی رہے۔ روپے کی قدر میں یہ کمی مارک اپ (سود) کی مد میں ہونے والے اخراجات میں مسلسل اضافے کا باعث بنتی ہے۔ گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں کے مطابق، مجموعی اخراجات کا 52 فیصد صرف مارک اپ کی ادائیگیوں پر مشتمل تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ حکومت نے سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر کی سیکیورٹائزیشن  کی درخواست کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مستقبل میں آنے والے ترسیلات کو بطور ضمانت  استعمال کر کے بانڈز جاری کر سکے اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹوں تک کم شرحِ سود پر رسائی حاصل کر سکے۔ مزید برآں، حکومت نے مملکت سے سکوک یا دیگر بانڈز کے اجراء کے لیے ضمانت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ سابقہ حکومتیں سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء سے حاصل ہونے والی رقم کو فزیکل اور سماجی انفرااسٹرکچر کی ترقی کے بجائے اپنے جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، جو کہ گزشتہ مالی سال کے کل اخراجات کا 95 فیصد تھے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر سعودی عرب ان درخواستوں پر اتفاق کرلیتا ہے تو موجودہ انتظامیہ ان اضافی فنڈز کو دانشمندی سے استعمال کرے گی؛ یا دوسرے الفاظ میں، پیداواری صلاحیت  میں اضافہ کر کے ایسے ذرائع پیدا کرے گی جس سے حکومت اصل رقم اور سود کی بروقت ادائیگی کے قابل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابلِ غور ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کبھی بھی انوسٹمنٹ گریڈ (سرمایہ کاری کے لیے محفوظ درجہ) نہیں رہی، اور حالیہ مہینوں میں معمولی بہتری کے باوجود یہ ریٹنگ اب بھی انتہائی ’قیاس آرائی پر مبنی‘  درجے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں سب سے زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہونے کے باوجود پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (غیر ملکی سرمایہ کاری) بدستور منفی ہے۔ معاشی ٹیم کے سربراہان کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ انوسٹمنٹ گریڈ تک پہنچنے کے لیے معیشت کو ابھی بہت زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت نے سعودی عرب سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ’  کے ذریعے یہاں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی درخواست کی ہے جو کہ ایک حیران کن امر ہے کیونکہ پہلے ہی بڑی تعداد میں مفاہمت کی یادداشتوں  پر دستخط ہو چکے ہیں۔ بہتر یہ ہوتا کہ حکومت ان نان بنڈنگ مفاہمت کی یادداشتوں کو قانونی طور پر بنڈنگ معاہدوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>میڈیا کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب سے درخواست کی ہے کہ موجودہ 5 ارب ڈالر کا رول اوورسالانہ بنیادوں کے بجائے 10 سال کی مدت کے لیے مؤخر کردیا جائے اور موجودہ 1.2 ارب امریکی ڈالر کی تیل کی سہولت کی جگہ 5 ارب امریکی ڈالر کی سہولت دی جائے۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے موجودہ 7 ارب ڈالر کے 36 ماہ کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت، ابتدائی طور پر حکام سے کہا تھا کہ وہ تین دوست ممالک (سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات) سے پروگرام کی پوری مدت کے لیے قرضوں کے رول اوور حاصل کریں جس کا چھٹا اور آخری جائزہ 15 ستمبر 2027 کو ہونا طے پایا ہے۔</strong></p>
<p>تاہم رپورٹس کے مطابق تینوں ممالک (سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات) نے رول اوور کی سالانہ بنیادوں پر تجدید ہی پر اصرار کیا ہے جبکہ آئی ایم ایف  کے عملے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ اگر پاکستان فنڈ کے پروگرام پر قائم رہتا ہے تو رول اوور کی فراہمی ایک معمول کی کارروائی ہوگی۔ اس پروگرام پر برقرار رہنے کا مطلب ان تمام سخت شرائط پر فوری عمل درآمد ہے جن پر پہلے سے اتفاق کیا جاچکا ہے۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع جغرافیائی سیاسی تبدیلیوں کے عمل کو واضح طور پر تیز کررہا ہے جس کے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ ایندھن کی قلت کے باعث تجارت میں کمی نے محض نو دنوں کے اندر پیٹرولیم اور اس کی مصنوعات کی عالمی قیمتوں کو 60 ڈالر سے بڑھا کر 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچا دیا ہے۔ پاکستان بھی ان تبدیلیوں سے محفوظ نہیں ہے بلکہ ہماری کمزور معیشت پر ان کے اثرات دیگر درمیانی آمدنی والے ممالک کے مقابلے میں کہیں زیادہ سنگین ہیں۔</p>
<p>27 فروری 2026 تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 16,300 ملین ڈالر (16.3 ارب ڈالر) تھے، جس میں تین دوست ممالک کی جانب سے 12 ارب ڈالر سے زائد کے رول اوورز (قرض کی واپسی میں تاخیر) شامل ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے کچھ خدشات پائے جاتے ہیں کہ آیا یہ تینوں ممالک سالانہ رول اوور کا اپنا عہد پورا کریں گے یا نہیں، تاہم مختصر مدت کے بجائے طویل مدتی قرض حاصل کرنے کے فیصلے سے یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس پر سود کی شرح کم ہوگی۔ البتہ قرض کی واپسی کو مزید نو سال کے لیے مؤخر کرنے سے ملک کے مجموعی قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہوگا، یہ ایک ایسا اضافہ ہے جو اس وقت زیادہ شدت سے محسوس کیا جائے گا جب تجارتی خسارہ بڑھتا رہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی آتی رہے۔ روپے کی قدر میں یہ کمی مارک اپ (سود) کی مد میں ہونے والے اخراجات میں مسلسل اضافے کا باعث بنتی ہے۔ گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینوں کے مطابق، مجموعی اخراجات کا 52 فیصد صرف مارک اپ کی ادائیگیوں پر مشتمل تھا۔</p>
<p>رپورٹس یہ بھی بتاتی ہیں کہ حکومت نے سعودی عرب سے ترسیلاتِ زر کی سیکیورٹائزیشن  کی درخواست کی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مستقبل میں آنے والے ترسیلات کو بطور ضمانت  استعمال کر کے بانڈز جاری کر سکے اور بین الاقوامی کیپیٹل مارکیٹوں تک کم شرحِ سود پر رسائی حاصل کر سکے۔ مزید برآں، حکومت نے مملکت سے سکوک یا دیگر بانڈز کے اجراء کے لیے ضمانت فراہم کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ سابقہ حکومتیں سکوک اور یورو بانڈز کے اجراء سے حاصل ہونے والی رقم کو فزیکل اور سماجی انفرااسٹرکچر کی ترقی کے بجائے اپنے جاری اخراجات کو پورا کرنے کے لیے استعمال کرتی رہی ہیں، جو کہ گزشتہ مالی سال کے کل اخراجات کا 95 فیصد تھے۔ یہ امید کی جا سکتی ہے کہ اگر سعودی عرب ان درخواستوں پر اتفاق کرلیتا ہے تو موجودہ انتظامیہ ان اضافی فنڈز کو دانشمندی سے استعمال کرے گی؛ یا دوسرے الفاظ میں، پیداواری صلاحیت  میں اضافہ کر کے ایسے ذرائع پیدا کرے گی جس سے حکومت اصل رقم اور سود کی بروقت ادائیگی کے قابل ہو سکے۔</p>
<p>یہ بات قابلِ غور ہے کہ بین الاقوامی اداروں کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ کبھی بھی انوسٹمنٹ گریڈ (سرمایہ کاری کے لیے محفوظ درجہ) نہیں رہی، اور حالیہ مہینوں میں معمولی بہتری کے باوجود یہ ریٹنگ اب بھی انتہائی ’قیاس آرائی پر مبنی‘  درجے میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خطے میں سب سے زیادہ ڈسکاؤنٹ ریٹ ہونے کے باوجود پورٹ فولیو انویسٹمنٹ (غیر ملکی سرمایہ کاری) بدستور منفی ہے۔ معاشی ٹیم کے سربراہان کو یہ ادراک کرنا چاہیے کہ انوسٹمنٹ گریڈ تک پہنچنے کے لیے معیشت کو ابھی بہت زیادہ مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اور آخر میں یہ بھی اطلاعات ہیں کہ حکومت نے سعودی عرب سے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ’  کے ذریعے یہاں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کرنے کی درخواست کی ہے جو کہ ایک حیران کن امر ہے کیونکہ پہلے ہی بڑی تعداد میں مفاہمت کی یادداشتوں  پر دستخط ہو چکے ہیں۔ بہتر یہ ہوتا کہ حکومت ان نان بنڈنگ مفاہمت کی یادداشتوں کو قانونی طور پر بنڈنگ معاہدوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283803</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 13:54:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/121246107b5885d.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/121246107b5885d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
