<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:53 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستانی انٹرپرینیور سہا سلیمان کا عالمی اعزاز: انک فیمیل فاؤنڈرز 500 فہرست میں شامل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283801/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستانی کاروباری شخصیات عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہی ہیں، کیونکہ پنک ڈیٹیکٹ کی شریک بانی سہا سلیمان لالانی کو انک میگزین کی 2026 کی فیمیل فاؤنڈرز 500 فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محض 25 سال کی عمر میں کراچی میں پیدا ہونے والی اس نوجوان خاتون نے دنیا کی 500 بااثر ترین کاروباری خواتین میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ایک بیان کے مطابق وہ اب سیرینا ولیمز، ایما گریڈ اور مشیل زیٹلن جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی صف میں شامل ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنک ڈیٹیکٹ جس کی بنیاد 3 سال قبل رکھی گئی تھی، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں پسماندہ طبقات کے لیے قابلِ رسائی، ڈیٹا پر مبنی اور ثقافتی لحاظ سے موزوں حل فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خود مدد کی ہدایات ، تعلیمی وسائل اور ایک ذاتی ڈیش بورڈ سے لیس ہے جو قریبی کلینکس کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس سے خواتین کیلئے علاج تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سہا سلیمان لالانی کے اس سفر کا آغاز کینیڈا میں یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے کمرے سے ہوا، جہاں وہ بائیومیڈیکل سائنسز کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور کینسر بائیولوجی پر تحقیق میں مصروف تھیں۔ جب انہوں نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں چھاتی کے کینسر کی آخری مراحل میں تشخیص کے سنگین اعداد و شمار کا جائزہ لیا، تو وہ خود بھی اس بیماری (کے اثرات) سے ذاتی طور پر متاثر ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی جذبے نے انہیں اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ مل کر ’بریسٹ سیلف ایگزامینیشن‘ (چھاتی کے خود معائنے) کا ایک مثالی ماڈل تیار کرنے کی تحریک دی، جو بعد میں &lt;strong&gt;پنک ڈیٹیکٹ&lt;/strong&gt; کی بنیاد بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لالانی کا کہنا ہے کہ چھاتی کے کینسر کے نتائج (یعنی زندگی اور موت کا فیصلہ) اس بات پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں کہ کوئی خاتون کہاں رہتی ہے یا اسے کن وسائل تک رسائی حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں تشخیص میں تاخیر اموات کی شرح میں غیر ضروری اضافے کی بڑی وجہ ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حل کیا جاسکتا ہے۔ پنک ڈیٹیکٹ کا قیام اسی خلا کو پُر کرنے اور ان طبقات تک بروقت اور آسان تشخیص پہنچانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ جب ہم بیماری کی جلد تشخیص کو سب کے لیے یکساں طور پر ممکن بنا دیں گے تو ہم نہ صرف علاج کے نتائج بلکہ خاندانوں اور مستقبل کو بھی بدل سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لالانی اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کررہی ہیں، اس سے قبل انہوں نے ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے بائیومیڈیکل سائنسز میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ مائیکروسافٹ میں ہیلتھ کیئر اور لائف سائنسز کے شعبے میں جنریٹو اے آئی اسپیشلسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شریک بانی اور سی ای او سولماز ابراہیمی کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے ہماری ٹیم کا یہ ماننا تھا کہ پنک ڈیٹیکٹ کو محض ایک ایپ سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ بطور شریک بانی اور سی ای او، میری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر رہی ہے کہ ہم جو کچھ بھی بنائیں وہ ٹھوس شواہد، برابری اور کمیونٹی کی حقیقی ضروریات پر مبنی ہو، تاکہ ہمارا کام بامعنی اثرات میں تبدیل ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کا مطلب ایسے نظام وضع کرنا ہے جو خواتین کو عملی آلات، پیمائش کے قابل نتائج، اور علاج تک ایسی رسائی کے ذریعے بااختیار بنائیں جو محفوظ اور ثقافتی لحاظ سے باوقار ہو۔ یہ عالمی اعتراف ہمارے مشترکہ وژن کی مضبوطی اور ’پنک ڈیٹیکٹ‘ کی ترقی کے پیچھے چھپی اجتماعی کوششوں کا عکاس ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستانی کاروباری شخصیات عالمی سطح پر اپنی پہچان بنا رہی ہیں، کیونکہ پنک ڈیٹیکٹ کی شریک بانی سہا سلیمان لالانی کو انک میگزین کی 2026 کی فیمیل فاؤنڈرز 500 فہرست میں شامل کرلیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>محض 25 سال کی عمر میں کراچی میں پیدا ہونے والی اس نوجوان خاتون نے دنیا کی 500 بااثر ترین کاروباری خواتین میں اپنی جگہ بنا لی ہے۔ ایک بیان کے مطابق وہ اب سیرینا ولیمز، ایما گریڈ اور مشیل زیٹلن جیسی عالمی شہرت یافتہ شخصیات کی صف میں شامل ہوگئی ہیں۔</p>
<p>پنک ڈیٹیکٹ جس کی بنیاد 3 سال قبل رکھی گئی تھی، مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے چھاتی کے کینسر کی ابتدائی تشخیص کے لیے کام کرتی ہے۔ یہ ادارہ پاکستان میں پسماندہ طبقات کے لیے قابلِ رسائی، ڈیٹا پر مبنی اور ثقافتی لحاظ سے موزوں حل فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ یہ پلیٹ فارم خود مدد کی ہدایات ، تعلیمی وسائل اور ایک ذاتی ڈیش بورڈ سے لیس ہے جو قریبی کلینکس کی نشاندہی بھی کرتا ہے جس سے خواتین کیلئے علاج تک رسائی آسان ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سہا سلیمان لالانی کے اس سفر کا آغاز کینیڈا میں یونیورسٹی کے ایک ہاسٹل کے کمرے سے ہوا، جہاں وہ بائیومیڈیکل سائنسز کی تعلیم حاصل کر رہی تھیں اور کینسر بائیولوجی پر تحقیق میں مصروف تھیں۔ جب انہوں نے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک میں چھاتی کے کینسر کی آخری مراحل میں تشخیص کے سنگین اعداد و شمار کا جائزہ لیا، تو وہ خود بھی اس بیماری (کے اثرات) سے ذاتی طور پر متاثر ہوئیں۔</p>
<p>اسی جذبے نے انہیں اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ مل کر ’بریسٹ سیلف ایگزامینیشن‘ (چھاتی کے خود معائنے) کا ایک مثالی ماڈل تیار کرنے کی تحریک دی، جو بعد میں <strong>پنک ڈیٹیکٹ</strong> کی بنیاد بنا۔</p>
<p>لالانی کا کہنا ہے کہ چھاتی کے کینسر کے نتائج (یعنی زندگی اور موت کا فیصلہ) اس بات پر منحصر نہیں ہونے چاہئیں کہ کوئی خاتون کہاں رہتی ہے یا اسے کن وسائل تک رسائی حاصل ہے۔</p>
<p>پاکستان میں تشخیص میں تاخیر اموات کی شرح میں غیر ضروری اضافے کی بڑی وجہ ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جسے حل کیا جاسکتا ہے۔ پنک ڈیٹیکٹ کا قیام اسی خلا کو پُر کرنے اور ان طبقات تک بروقت اور آسان تشخیص پہنچانے کے لیے عمل میں لایا گیا ہے جنہیں ماضی میں نظر انداز کیا گیا۔ جب ہم بیماری کی جلد تشخیص کو سب کے لیے یکساں طور پر ممکن بنا دیں گے تو ہم نہ صرف علاج کے نتائج بلکہ خاندانوں اور مستقبل کو بھی بدل سکتے ہیں۔</p>
<p>لالانی اس وقت ہارورڈ یونیورسٹی سے ماسٹر آف پبلک ہیلتھ کررہی ہیں، اس سے قبل انہوں نے ٹورنٹو میٹروپولیٹن یونیورسٹی سے بائیومیڈیکل سائنسز میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی تھی۔ وہ مائیکروسافٹ میں ہیلتھ کیئر اور لائف سائنسز کے شعبے میں جنریٹو اے آئی اسپیشلسٹ کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکی ہیں۔</p>
<p>شریک بانی اور سی ای او سولماز ابراہیمی کا کہنا ہے کہ شروع ہی سے ہماری ٹیم کا یہ ماننا تھا کہ پنک ڈیٹیکٹ کو محض ایک ایپ سے بڑھ کر ہونا چاہیے۔ بطور شریک بانی اور سی ای او، میری توجہ اس بات کو یقینی بنانے پر رہی ہے کہ ہم جو کچھ بھی بنائیں وہ ٹھوس شواہد، برابری اور کمیونٹی کی حقیقی ضروریات پر مبنی ہو، تاکہ ہمارا کام بامعنی اثرات میں تبدیل ہو سکے۔</p>
<p>اس کا مطلب ایسے نظام وضع کرنا ہے جو خواتین کو عملی آلات، پیمائش کے قابل نتائج، اور علاج تک ایسی رسائی کے ذریعے بااختیار بنائیں جو محفوظ اور ثقافتی لحاظ سے باوقار ہو۔ یہ عالمی اعتراف ہمارے مشترکہ وژن کی مضبوطی اور ’پنک ڈیٹیکٹ‘ کی ترقی کے پیچھے چھپی اجتماعی کوششوں کا عکاس ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283801</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 12:45:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1212115987f159a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1212115987f159a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
