<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ٹیرف، امریکہ کا غیر منصفانہ تجارت کے خلاف نئی تحقیقات کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283798/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ 16 بڑے تجارتی شراکت داروں میں صنعتی پیداوار کی زیادہ مقدار اور جبری مشقت کے معاملات پر دو نئی تجارتی تحقیقات شروع کررہی ہے تاکہ ٹیرف دباؤ کو دوبارہ قائم کیا جاسکے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ ٹیرف پروگرام کے بڑے حصے کو ختم کردیا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ سیکشن 301 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات کے نتیجے میں رواں موسمِ گرما تک چین، یورپی یونین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور میکسیکو پر نئے تجارتی محصولات عائد کیے جاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اضافی صنعتی گنجائش کی اس تحقیقات کی زد میں آنے والے دیگر تجارتی شراکت داروں میں تائیوان، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ امریکہ کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار کینیڈا کا نام ان تحقیقات کے اہداف میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریر نے ایک کانفرنس کال کے دوران بتایا کہ چنانچہ یہ تحقیقات ان معیشتوں پر مرکوز ہوں گی جن کے بارے میں ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ مختلف مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں ساختی طور پر اضافی پیداواری گنجائش اور ضرورت سے زیادہ پیداوار کا مظاہرہ کررہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو ایس ٹی آر کے سرکاری نوٹس کے مطابق اضافی پیداواری صلاحیت کی اس تحقیقات میں چین اور جاپان کے آٹوموٹو سیکٹر (گاڑیوں کی صنعت) کو خاص طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں ایسی کمپنیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو اب منافع بخش نہیں رہی ہیں یا اپنے کاروباری آمدن سے سود کی ادائیگیاں کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں کہا گیا ہے کہ چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت اس کی اپنی قومی طلب سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود، چین کی سب سے بڑی ای وی کمپنی، بی وائی ڈی ، جارحانہ انداز میں اپنی بیرونِ ملک مینوفیکچرنگ نیٹ ورک کو پھیلا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے کارخانے ازبکستان، تھائی لینڈ، برازیل، ہنگری اور ترکیہ میں قائم ہیں اور توقع ہے کہ وہ یورپ میں بھی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جہاں پہلے سے موجود آٹوموٹو پلانٹس اپنی کل گنجائش کے صرف 55 فیصد پر کام کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جبری مشقت کے معاملے کی تحقیقات&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریر نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعرات کو تجارتی ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت ایک اور تحقیقات کا آغاز کریں گے تاکہ جبری مشقت  کے ذریعے تیار کردہ اشیاء کی امریکہ میں درآمد پر پابندی عائد کی جا سکے۔ اس تحقیقات کے دائرہ کار میں 60 سے زائد ممالک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ پہلے ہی سابق صدر جو بائیڈن کے دستخط کردہ ایغور جبری مشقت تحفظ ایکٹ’  کے تحت چین کے خطے سنکیانگ سے سولر پینلز اور دیگر اشیاء کی درآمدات کے خلاف سخت کارروائی کر چکا ہے اور اب یہ نئی تحقیقات ایسی کارروائیوں کا دائرہ دیگر ممالک تک بھی پھیلا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء پر ویسی ہی پابندیاں عائد کریں جیسی امریکہ کے تقریباً ایک صدی پرانے تجارتی قانون میں شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کا الزام ہے کہ چینی حکام نے مغربی علاقے سنکیانگ میں نسلی ایغور اور دیگر مسلم گروہوں کے لیے لیبر کیمپ قائم کررکھے ہیں، تاہم بیجنگ ان مظالم کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گریر نے کہا کہ وہ سیکشن 301 کی تحقیقات، بشمول مجوزہ تلافیوں کو جولائی میں ان عارضی ٹیرفس کی مدت ختم ہونے سے پہلے مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں جو فروری کے آخر میں ٹرمپ نے نافذ کیے تھے۔ 20 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے عالمی ٹیرفس کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کیے جانے کے بعد، انہوں نے ’ٹریڈ ایکٹ 1974‘ کے سیکشن 122 کے تحت 150 دنوں کے لیے 10 فیصد ٹیرف (محصول) نافذ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  کی انتظامیہ نے بدھ کو اعلان کیا ہے کہ وہ 16 بڑے تجارتی شراکت داروں میں صنعتی پیداوار کی زیادہ مقدار اور جبری مشقت کے معاملات پر دو نئی تجارتی تحقیقات شروع کررہی ہے تاکہ ٹیرف دباؤ کو دوبارہ قائم کیا جاسکے۔ یہ اقدام اس وقت کیا گیا جب گزشتہ ماہ امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ ٹیرف پروگرام کے بڑے حصے کو ختم کردیا تھا۔</strong></p>
<p>امریکی تجارتی نمائندہ جیمیسن گریر نے کہا ہے کہ سیکشن 301 کے تحت غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کی تحقیقات کے نتیجے میں رواں موسمِ گرما تک چین، یورپی یونین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور میکسیکو پر نئے تجارتی محصولات عائد کیے جاسکتے ہیں۔</p>
<p>اضافی صنعتی گنجائش کی اس تحقیقات کی زد میں آنے والے دیگر تجارتی شراکت داروں میں تائیوان، ویتنام، تھائی لینڈ، ملائیشیا، کمبوڈیا، سنگاپور، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، سوئٹزرلینڈ اور ناروے شامل ہیں۔ امریکہ کے دوسرے بڑے تجارتی شراکت دار کینیڈا کا نام ان تحقیقات کے اہداف میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>
<p>گریر نے ایک کانفرنس کال کے دوران بتایا کہ چنانچہ یہ تحقیقات ان معیشتوں پر مرکوز ہوں گی جن کے بارے میں ہمارے پاس ایسے شواہد موجود ہیں کہ وہ مختلف مینوفیکچرنگ سیکٹرز میں ساختی طور پر اضافی پیداواری گنجائش اور ضرورت سے زیادہ پیداوار کا مظاہرہ کررہی ہیں۔</p>
<p>یو ایس ٹی آر کے سرکاری نوٹس کے مطابق اضافی پیداواری صلاحیت کی اس تحقیقات میں چین اور جاپان کے آٹوموٹو سیکٹر (گاڑیوں کی صنعت) کو خاص طور پر نامزد کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ ان ممالک میں ایسی کمپنیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے جو اب منافع بخش نہیں رہی ہیں یا اپنے کاروباری آمدن سے سود کی ادائیگیاں کرنے کے قابل بھی نہیں ہیں۔</p>
<p>اس میں کہا گیا ہے کہ چین کی الیکٹرک گاڑیوں کی پیداواری صلاحیت اس کی اپنی قومی طلب سے کہیں زیادہ ہونے کے باوجود، چین کی سب سے بڑی ای وی کمپنی، بی وائی ڈی ، جارحانہ انداز میں اپنی بیرونِ ملک مینوفیکچرنگ نیٹ ورک کو پھیلا رہی ہے۔</p>
<p>اس کے کارخانے ازبکستان، تھائی لینڈ، برازیل، ہنگری اور ترکیہ میں قائم ہیں اور توقع ہے کہ وہ یورپ میں بھی اپنی صلاحیت میں اضافہ کرے گی، جہاں پہلے سے موجود آٹوموٹو پلانٹس اپنی کل گنجائش کے صرف 55 فیصد پر کام کررہے ہیں۔</p>
<p><strong>جبری مشقت کے معاملے کی تحقیقات</strong></p>
<p>گریر نے یہ بھی کہا کہ وہ جمعرات کو تجارتی ایکٹ 1974 کے سیکشن 301 کے تحت ایک اور تحقیقات کا آغاز کریں گے تاکہ جبری مشقت  کے ذریعے تیار کردہ اشیاء کی امریکہ میں درآمد پر پابندی عائد کی جا سکے۔ اس تحقیقات کے دائرہ کار میں 60 سے زائد ممالک شامل ہیں۔</p>
<p>امریکہ پہلے ہی سابق صدر جو بائیڈن کے دستخط کردہ ایغور جبری مشقت تحفظ ایکٹ’  کے تحت چین کے خطے سنکیانگ سے سولر پینلز اور دیگر اشیاء کی درآمدات کے خلاف سخت کارروائی کر چکا ہے اور اب یہ نئی تحقیقات ایسی کارروائیوں کا دائرہ دیگر ممالک تک بھی پھیلا سکتی ہیں۔</p>
<p>گریر نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ دیگر ممالک بھی جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء پر ویسی ہی پابندیاں عائد کریں جیسی امریکہ کے تقریباً ایک صدی پرانے تجارتی قانون میں شامل ہیں۔</p>
<p>امریکہ کا الزام ہے کہ چینی حکام نے مغربی علاقے سنکیانگ میں نسلی ایغور اور دیگر مسلم گروہوں کے لیے لیبر کیمپ قائم کررکھے ہیں، تاہم بیجنگ ان مظالم کے الزامات کی سختی سے تردید کرتا ہے۔</p>
<p>گریر نے کہا کہ وہ سیکشن 301 کی تحقیقات، بشمول مجوزہ تلافیوں کو جولائی میں ان عارضی ٹیرفس کی مدت ختم ہونے سے پہلے مکمل کرنے کی امید رکھتے ہیں جو فروری کے آخر میں ٹرمپ نے نافذ کیے تھے۔ 20 فروری کو سپریم کورٹ کی جانب سے ٹرمپ کے عالمی ٹیرفس کو غیر قانونی قرار دے کر ختم کیے جانے کے بعد، انہوں نے ’ٹریڈ ایکٹ 1974‘ کے سیکشن 122 کے تحت 150 دنوں کے لیے 10 فیصد ٹیرف (محصول) نافذ کر دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283798</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 11:56:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/12113725abd8be3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/12113725abd8be3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
