<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:00:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قطر پاکستان سے چاول کی درآمدات بڑھانے کا خواہاں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283797/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اور قطر نے غذائی تحفظ  کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جس میں دوحہ نے پاکستان سے چاول کی درآمدات میں اضافے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور ضروری غذائی اجناس کی فراہمی میں باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ  میں ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور قطر کے تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قطری وزیر نے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس گفتگو کا خاص مرکز قطر کو پاکستان سے چاول اور دیگر غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چاول قطر کے فوڈ سیکیورٹی پروگرام اور قومی غذائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، انہوں نے اس ضمن میں پاکستان سے درآمدات بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہا ہے کہ اس کے برآمد کنندگان مسابقتی رہیں اور قطری مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کے تعین اور سپلائی کے انتظامات کو بہتر بنانے  کیلئے نئے طریقہ کار متعارف کرائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ متعلقہ محکمے اور حکام پاکستانی برآمد کنندگان اور قطری درآمد کنندگان کے درمیان براہِ راست روابط کو آسان بنانے کے لیے قریبی ہم آہنگی پیدا کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غذائی اشیاء کی فراہمی میں تعاون کے علاوہ، دونوں جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خاص طور پر انفرااسٹرکچر، لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی بندرگاہ  کی توسیع اور دیگر اسٹریٹجک اقدامات جیسے منصوبوں کو باہمی تعاون کے لیے ممکنہ شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ قطری فریق نے ان تجاویز کا خیرمقدم کیا اور اشارہ دیا کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی سمیت متعلقہ حکام ان کا جائزہ لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گفتگو کے دوران جام کمال نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر پاکستان کی تشویش کا اظہار بھی کیا اور قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور استحکام، مذاکرات اور مسائل کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم تعمیری مذاکرات اور استحکام کی حوصلہ افزائی کے لیے علاقائی شراکت داروں اور دوست ممالک کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جام کمال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک قطر کی مدد کے لیے تیار ہے، خاص طور پر مشکل حالات کے دوران غذائی اشیاء کی ترسیل اور کلیدی اجناس کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں وزراء نے معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے اقدامات پر پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پاک-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹاسک فورس جلد ہی ایک ورچوئل اجلاس منعقد کرے گی تاکہ تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے، باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اور قطر نے غذائی تحفظ  کے شعبے میں تعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا جس میں دوحہ نے پاکستان سے چاول کی درآمدات میں اضافے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک تجارتی تعلقات کو مزید وسعت دینے اور ضروری غذائی اجناس کی فراہمی میں باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔</strong></p>
<p>یہ پیش رفت وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان اور قطر کے وزیرِ مملکت برائے امورِ خارجہ تجارت ڈاکٹر احمد بن محمد السید کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سامنے آئی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے، غذائی تحفظ  میں ہم آہنگی اور سرمایہ کاری کے مواقع پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے پاکستان اور قطر کے تعلقات کی مثبت سمت پر اطمینان کا اظہار کیا اور دونوں ممالک کے درمیان معاشی روابط اور تعاون کو مزید وسعت دینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>قطری وزیر نے دونوں ممالک کی بزنس کمیونٹی کے درمیان روابط کو فروغ دینے کی اہمیت پر زور دیا۔</p>
<p>اس گفتگو کا خاص مرکز قطر کو پاکستان سے چاول اور دیگر غذائی مصنوعات کی برآمدات میں اضافہ کرنا تھا۔</p>
<p>ڈاکٹر احمد بن محمد السید نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چاول قطر کے فوڈ سیکیورٹی پروگرام اور قومی غذائی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے، انہوں نے اس ضمن میں پاکستان سے درآمدات بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔</p>
<p>جام کمال نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اس بات کو یقینی بنانے کیلئے اقدامات کررہا ہے کہ اس کے برآمد کنندگان مسابقتی رہیں اور قطری مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق خود کو ڈھال سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ قیمتوں کے تعین اور سپلائی کے انتظامات کو بہتر بنانے  کیلئے نئے طریقہ کار متعارف کرائے جارہے ہیں۔</p>
<p>دونوں فریقین نے اتفاق کیا کہ متعلقہ محکمے اور حکام پاکستانی برآمد کنندگان اور قطری درآمد کنندگان کے درمیان براہِ راست روابط کو آسان بنانے کے لیے قریبی ہم آہنگی پیدا کریں گے۔</p>
<p>غذائی اشیاء کی فراہمی میں تعاون کے علاوہ، دونوں جانب سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع، خاص طور پر انفرااسٹرکچر، لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>کراچی بندرگاہ  کی توسیع اور دیگر اسٹریٹجک اقدامات جیسے منصوبوں کو باہمی تعاون کے لیے ممکنہ شعبوں کے طور پر اجاگر کیا گیا۔ قطری فریق نے ان تجاویز کا خیرمقدم کیا اور اشارہ دیا کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی سمیت متعلقہ حکام ان کا جائزہ لیں گے۔</p>
<p>گفتگو کے دوران جام کمال نے ابھرتی ہوئی علاقائی صورتحال پر پاکستان کی تشویش کا اظہار بھی کیا اور قطر کی قیادت اور عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی خطے کی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے اور استحکام، مذاکرات اور مسائل کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیا ہے۔</p>
<p>جام کمال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کشیدگی میں کمی اور علاقائی امن کے لیے تمام سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم تعمیری مذاکرات اور استحکام کی حوصلہ افزائی کے لیے علاقائی شراکت داروں اور دوست ممالک کے ساتھ فعال طور پر رابطے میں ہیں۔</p>
<p>جام کمال نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنے برادر ملک قطر کی مدد کے لیے تیار ہے، خاص طور پر مشکل حالات کے دوران غذائی اشیاء کی ترسیل اور کلیدی اجناس کی فراہمی کو مضبوط بنانے میں تعاون فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>دونوں وزراء نے معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے اقدامات پر پیش رفت کو تیز کرنے کے لیے پاک-قطر جوائنٹ ٹاسک فورس کو فعال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔</p>
<p>یہ فیصلہ کیا گیا کہ ٹاسک فورس جلد ہی ایک ورچوئل اجلاس منعقد کرے گی تاکہ تجاویز کا جائزہ لیا جا سکے، باہمی ہم آہنگی کو مضبوط بنایا جا سکے اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283797</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 11:36:10 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/121130063d1674d.webp" type="image/webp" medium="image" height="503" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/121130063d1674d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
