<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک ایکسچینج میں فروخت کا دباؤ، 100 انڈیکس میں 1400 سے زائد پوائنٹس کی گراوٹ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283796/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;علاقائی کشیدگی اور جیوپولیٹکل صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی سیشن میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 153,503.70 پوائنٹس پر آگیا تاہم جلد ہی خریداری میں دلچسپی پیدا ہونے کی وجہ سے انڈیکس میں ریکوری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیزی کے اس رجحان نے بینچ مارک انڈیکس کو ایک موقع پر 157,080.28 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا، تاہم یہ تیزی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ دوپہر کے وقت منافع خوری اور فروخت کا دباؤ مارکیٹ پر غالب آنے لگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈیکس نے آہستہ آہستہ اپنی حاصل کردہ برتری (تیزی) کو کھونا شروع کیا اور سیشن کے بقیہ وقت میں مسلسل مندی کے رجحان کی جانب مائل رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس  1,437.04 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کی کمی سے 154,421.43 پوائنٹس پر بند ہوا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی عالمی صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بدھ کو ایک اہم پیش رفت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی واقعات کے معیشت پر اثرات کا مزید جائزہ لینے کے لیے آنے والے دنوں میں بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان رہا اور سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث محتاط نظر آئے۔ گزشتہ روز 100 انڈیکس 318.64 پوائنٹس (0.20 فیصد) کی کمی سے 155,858.48 پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم (وولیوم) گزشتہ سیشن کے 441.87 ملین سے کم ہو کر 404.25 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی ویلیو بھی گزشتہ سیشن کے 24.98 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 24.67 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حیسکول پٹرول 38.34 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا جس کے بعد کے-الیکٹرک 38.05 ملین شیئرز اور دوست اسٹیلز لمیٹڈ  25.15 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 471 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 157 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 252 میں کمی  اور 62 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/12143941434bfcd.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/12143941434bfcd.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان رہا کیونکہ آبنائے ہرمز اور عراقی سمندری حدود میں مزید بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے اور قرض لینے کی لاگت بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی خام تیل کی قیمت 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جس سے گزشتہ رات ہونے والے 4 فیصد سے زائد کے اضافے کا سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں میں بھی 7.7 فیصد کا بڑا اچھال دیکھا گیا اور قیمت 99.03 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اضافہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اس منصوبے کے باوجود دیکھا گیا جس کے تحت وہ اپنے ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے کے منصوبے کے حصے کے طور پر امریکہ نے اگلے ہفتے سے 17.2 کروڑ بیرل تیل اپنے ذخائر سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراقی سکیورٹی حکام نے جمعرات کی صبح بتایا کہ عراقی سمندری حدود میں تیل کے دو ٹینکرز کو دھماکہ خیز مواد سے بھری ایرانی کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایک عراقی اہلکار نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز مکمل طور پر روک دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے اس سے قبل آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ وہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔ بدھ کو خلیجی سمندری حدود میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے خلیج میں ان جہازوں پر فائرنگ کی ہے جنہوں نے ان کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کینٹکی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جیتی جا چکی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کام مکمل کرنے تک اس لڑائی کو جاری رکھیں گے۔ صدر کے اس متضاد بیان نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال کو مزید ہوا دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام صورتحال حصص (شیئرز) کے لیے منفی ثابت ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک حصص (بشمول جاپان) کے وسیع تر انڈیکس میں 0.8 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جاپان کا نکی نڈیکس 1.6 فیصد گر گیا کیونکہ جاپان تیل اور گیس کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.8 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب یورپ میں یورواسٹاکس 50 فیوچرز 0.6 فیصد جبکہ ڈیکس فیوچرز 0.8 فیصد تک نیچے آگئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>علاقائی کشیدگی اور جیوپولیٹکل صورتحال کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں جمعرات کو فروخت کا دباؤ غالب آگیا جس کے نتیجے میں مارکیٹ منفی زون میں بند ہوئی۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا آغاز منفی زون میں ہوا، ابتدائی سیشن میں ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 انڈیکس دن کی کم ترین سطح 153,503.70 پوائنٹس پر آگیا تاہم جلد ہی خریداری میں دلچسپی پیدا ہونے کی وجہ سے انڈیکس میں ریکوری دیکھی گئی۔</p>
<p>تیزی کے اس رجحان نے بینچ مارک انڈیکس کو ایک موقع پر 157,080.28 پوائنٹس کی دن کی بلند ترین سطح پر پہنچادیا، تاہم یہ تیزی مختصر ثابت ہوئی کیونکہ دوپہر کے وقت منافع خوری اور فروخت کا دباؤ مارکیٹ پر غالب آنے لگا۔</p>
<p>انڈیکس نے آہستہ آہستہ اپنی حاصل کردہ برتری (تیزی) کو کھونا شروع کیا اور سیشن کے بقیہ وقت میں مسلسل مندی کے رجحان کی جانب مائل رہا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس  1,437.04 پوائنٹس یا 0.92 فیصد کی کمی سے 154,421.43 پوائنٹس پر بند ہوا ۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کے مطابق سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی عالمی صورتحال پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔</p>
<p>آئی ایم ایف مشن کی سربراہ ایوا پیٹرووا نے بدھ کو ایک اہم پیش رفت بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان توسیعی فنڈ سہولت پروگرام کے تیسرے جائزے پر بات چیت میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ عالمی واقعات کے معیشت پر اثرات کا مزید جائزہ لینے کے لیے آنے والے دنوں میں بھی مذاکرات جاری رہیں گے۔</p>
<p>بدھ کو بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان رہا اور سرمایہ کار مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی اور عالمی توانائی کی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث محتاط نظر آئے۔ گزشتہ روز 100 انڈیکس 318.64 پوائنٹس (0.20 فیصد) کی کمی سے 155,858.48 پر بند ہوا۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس میں تجارتی حجم (وولیوم) گزشتہ سیشن کے 441.87 ملین سے کم ہو کر 404.25 ملین رہ گیا۔</p>
<p>شیئرز کی ویلیو بھی گزشتہ سیشن کے 24.98 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 24.67 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>حیسکول پٹرول 38.34 ملین شیئرز کے ساتھ والیم لیڈر رہا جس کے بعد کے-الیکٹرک 38.05 ملین شیئرز اور دوست اسٹیلز لمیٹڈ  25.15 ملین شیئرز کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 471 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا جس میں سے 157 کمپنیوں کی قیمتوں میں اضافہ، 252 میں کمی  اور 62 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full  sm:w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/12143941434bfcd.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/12143941434bfcd.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
<p>جمعرات کو ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان رہا کیونکہ آبنائے ہرمز اور عراقی سمندری حدود میں مزید بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات کے بعد تیل کی قیمتوں میں زبردست اضافہ ہوا ہے۔ ان واقعات نے عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافے اور قرض لینے کی لاگت بڑھنے کے خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>
<p>امریکی خام تیل کی قیمت 7.5 فیصد اضافے کے ساتھ 93.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جس سے گزشتہ رات ہونے والے 4 فیصد سے زائد کے اضافے کا سلسلہ مزید بڑھ گیا ہے۔ برینٹ کروڈ کے مستقبل کے سودوں میں بھی 7.7 فیصد کا بڑا اچھال دیکھا گیا اور قیمت 99.03 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔</p>
<p>یہ اضافہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کے اس منصوبے کے باوجود دیکھا گیا جس کے تحت وہ اپنے ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل نکالنے کا ارادہ رکھتی ہے جو اس کی تاریخ کا سب سے بڑا اقدام ہے۔</p>
<p>آئی ای اے کے منصوبے کے حصے کے طور پر امریکہ نے اگلے ہفتے سے 17.2 کروڑ بیرل تیل اپنے ذخائر سے نکالنے کا اعلان کیا ہے۔</p>
<p>عراقی سکیورٹی حکام نے جمعرات کی صبح بتایا کہ عراقی سمندری حدود میں تیل کے دو ٹینکرز کو دھماکہ خیز مواد سے بھری ایرانی کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ ایک عراقی اہلکار نے سرکاری میڈیا کو بتایا کہ تیل کی بندرگاہوں پر آپریشنز مکمل طور پر روک دیے گئے ہیں۔</p>
<p>ایران نے اس سے قبل آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں میں تیزی لاتے ہوئے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ وہ تیل کی قیمت 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے لیے تیار رہے۔ بدھ کو خلیجی سمندری حدود میں تین بحری جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات موصول ہوئیں جبکہ ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ ان کی فورسز نے خلیج میں ان جہازوں پر فائرنگ کی ہے جنہوں نے ان کے احکامات کی خلاف ورزی کی تھی۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کینٹکی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جیتی جا چکی ہے، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ کام مکمل کرنے تک اس لڑائی کو جاری رکھیں گے۔ صدر کے اس متضاد بیان نے عالمی منڈیوں میں غیر یقینی کی صورتحال کو مزید ہوا دی ہے۔</p>
<p>یہ تمام صورتحال حصص (شیئرز) کے لیے منفی ثابت ہوئی۔</p>
<p>ایم ایس سی آئی کے ایشیا پیسیفک حصص (بشمول جاپان) کے وسیع تر انڈیکس میں 0.8 فیصد کی کمی دیکھی گئی جبکہ جاپان کا نکی نڈیکس 1.6 فیصد گر گیا کیونکہ جاپان تیل اور گیس کا ایک بڑا درآمد کنندہ ملک ہے۔</p>
<p>امریکہ میں ایس اینڈ پی 500 اور نیسڈیک فیوچرز میں 0.8 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی۔ دوسری جانب یورپ میں یورواسٹاکس 50 فیوچرز 0.6 فیصد جبکہ ڈیکس فیوچرز 0.8 فیصد تک نیچے آگئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283796</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 15:03:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1211165263a3c1f.webp" type="image/webp" medium="image" height="395" width="670">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1211165263a3c1f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
