<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:44:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کے تنازع سے پاکستان کو ترسیلات زر میں کمی کا خطرہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283785/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری طویل جنگ پاکستان کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران متوقع 42 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کے ہدف کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہونے کا امکان کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;متعدد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بتایا کہ فی الحال ان کی ملازمتوں اور تنخواہوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو خلیجی ممالک میں چھوٹی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت پر برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی اور پاکستان کو آنے والی ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جاری کشیدگی کے دوران خطے میں مہنگائی میں اضافہ شروع ہو چکا ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بڑھتے ہوئے اخراجات ان کی بچت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاحت کی صنعت اس کشیدگی سے شدید متاثر ہوئی ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہر معاشیات اور وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کی ترسیلات زر کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم مختلف شعبوں میں اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے خبردار کیا کہ درمیانی مدت میں خطرات موجود ہیں۔ اگر جنگ کے باعث خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی ملازمتیں متاثر ہوئیں، جو پاکستان کو آنے والی ترسیلات زر کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، تو ترسیلات زر میں کمی آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 3.3 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہیں۔ مجموعی طور پر جولائی سے فروری مالی سال 2026 کے دوران ترسیلات زر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں موصول ہونے والے 24 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10.5 فیصد زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات متحدہ عرب امارات سے 696.2 ملین ڈالر آئیں، اس کے بعد سعودی عرب سے 685.5 ملین ڈالر، برطانیہ سے 532 ملین ڈالر اور امریکہ سے 319.5 ملین ڈالر پاکستان موصول ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرق وسطیٰ میں جاری طویل جنگ پاکستان کے لیے مالی سال 2025-26 کے دوران متوقع 42 ارب ڈالر کی ترسیلات زر کے ہدف کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے، تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر ہونے کا امکان کم ہے۔</strong></p>
<p>متعدد بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے بتایا کہ فی الحال ان کی ملازمتوں اور تنخواہوں پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر جنگ طویل ہو گئی تو خلیجی ممالک میں چھوٹی کمپنیوں کے لیے غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت پر برقرار رکھنا مشکل ہو سکتا ہے، جس کے نتیجے میں ملازمتوں میں کمی اور پاکستان کو آنے والی ترسیلات زر میں کمی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جاری کشیدگی کے دوران خطے میں مہنگائی میں اضافہ شروع ہو چکا ہے اور اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو بڑھتے ہوئے اخراجات ان کی بچت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ سیاحت کی صنعت اس کشیدگی سے شدید متاثر ہوئی ہے اور اس شعبے سے وابستہ افراد پہلے ہی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہر معاشیات اور وزارت خزانہ کے سابق مشیر ڈاکٹر خاقان نجیب کے مطابق مشرق وسطیٰ میں طویل تنازع پاکستان کی ترسیلات زر کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم مختلف شعبوں میں اس کے اثرات فوری طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔</p>
<p>انہوں نے خبردار کیا کہ درمیانی مدت میں خطرات موجود ہیں۔ اگر جنگ کے باعث خاص طور پر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں مقیم پاکستانیوں کی ملازمتیں متاثر ہوئیں، جو پاکستان کو آنے والی ترسیلات زر کا بڑا حصہ فراہم کرتے ہیں، تو ترسیلات زر میں کمی آ سکتی ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق فروری 2026 میں کارکنوں کی ترسیلات زر 3.3 ارب ڈالر رہیں جو گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 5.2 فیصد زیادہ ہیں۔ مجموعی طور پر جولائی سے فروری مالی سال 2026 کے دوران ترسیلات زر 26.5 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ سال اسی عرصے میں موصول ہونے والے 24 ارب ڈالر کے مقابلے میں 10.5 فیصد زیادہ ہیں۔</p>
<p>فروری کے دوران سب سے زیادہ ترسیلات متحدہ عرب امارات سے 696.2 ملین ڈالر آئیں، اس کے بعد سعودی عرب سے 685.5 ملین ڈالر، برطانیہ سے 532 ملین ڈالر اور امریکہ سے 319.5 ملین ڈالر پاکستان موصول ہوئے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283785</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 09:12:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/12091035978b97f.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/12091035978b97f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
