<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:06:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے 60 دن کیلئے سی آئی ایف بنیاد پر خام تیل کی درآمد کی اجازت دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283784/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں عارضی طور پر کاسٹ، انشورنس اینڈ فریٹ (سی آئی ایف) بنیاد پر درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک کی جانب سے مجاز ڈیلرز کو جاری کیے گئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ عالمی صورتحال اور ملک کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکلر میں کہا گیا کہ مجاز ڈیلرز کی توجہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کے پیراگراف 5 کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے جس میں پاکستان میں اشیا کی درآمد کے لیے قابل اجازت انکوٹرمز کی وضاحت کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فارن ایکسچینج مینوئل کی موجودہ ہدایات کے مطابق پاکستان میں درآمدات عام طور پر فری آن بورڈ (ایف او بی)، فری کیریئر (ایف سی اے)، فری الونگ سائیڈ شپ (ایف اے ایس)، کاسٹ اینڈ فریٹ (سی ایف آر) اور کیریج پیڈ ٹو (سی پی ٹی) بنیاد پر کی جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ میں محدود درآمدی مواقع کے باعث مرکزی بینک نے عارضی طور پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کو سی آئی ایف بنیاد پر درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ سرکلر کے مطابق یہ سہولت سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک دستیاب رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک نے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو نئی ہدایات سے آگاہ کریں اور ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ماہرین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت قدم قرار دیا ہے جو ملک میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق سی آئی ایف بنیاد پر درآمد کی اجازت مقامی خریداروں اور درآمد کنندگان کو زیادہ لچک فراہم کرے گی جس سے وہ تیزی سے کارگو حاصل کر سکیں گے اور ممکنہ تاخیر سے بچ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آئی ایف معاہدے کے تحت پاکستانی درآمد کنندگان پورے آئل ٹینکر خرید سکتے ہیں جن میں فریٹ اور انشورنس کی لاگت پہلے سے شامل ہوتی ہے، جس سے غیر یقینی مارکیٹ حالات میں خریداری آسان ہو جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سی آئی ایف اصول سمندری یا آبی راستے سے نقل و حمل پر لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت فروخت کنندہ خریدار کی مقررہ بندرگاہ تک فریٹ اور انشورنس کی لاگت برداشت کرتا ہے۔ تاہم سامان جہاز پر لادنے کے بعد اس کا خطرہ خریدار کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس انتظام میں شپنگ اور انشورنس شامل ہوتی ہے لیکن درآمدی ڈیوٹیز شامل نہیں ہوتیں، جبکہ اگر دورانِ سفر سامان کو نقصان پہنچے تو خریدار فروخت کنندہ کی انشورنس کمپنی سے معاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس فری آن بورڈ میں فروخت کنندہ جہاز پر سامان لوڈ ہوتے ہی اس کی ملکیت اور ذمہ داری خریدار کو منتقل کر دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کے روز عالمی تیل مارکیٹ میں اتار چڑھاؤ کے پیش نظر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بروقت فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے انہیں عارضی طور پر کاسٹ، انشورنس اینڈ فریٹ (سی آئی ایف) بنیاد پر درآمد کرنے کی اجازت دے دی ہے۔</strong></p>
<p>مرکزی بینک کی جانب سے مجاز ڈیلرز کو جاری کیے گئے سرکلر میں کہا گیا ہے کہ یہ فیصلہ موجودہ عالمی صورتحال اور ملک کے لیے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی اہمیت کے پیش نظر کیا گیا ہے۔</p>
<p>سرکلر میں کہا گیا کہ مجاز ڈیلرز کی توجہ فارن ایکسچینج مینوئل کے باب 13 کے پیراگراف 5 کی جانب مبذول کرائی جاتی ہے جس میں پاکستان میں اشیا کی درآمد کے لیے قابل اجازت انکوٹرمز کی وضاحت کی گئی ہے۔</p>
<p>فارن ایکسچینج مینوئل کی موجودہ ہدایات کے مطابق پاکستان میں درآمدات عام طور پر فری آن بورڈ (ایف او بی)، فری کیریئر (ایف سی اے)، فری الونگ سائیڈ شپ (ایف اے ایس)، کاسٹ اینڈ فریٹ (سی ایف آر) اور کیریج پیڈ ٹو (سی پی ٹی) بنیاد پر کی جا سکتی ہیں۔</p>
<p>تاہم بین الاقوامی تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ اور عالمی مارکیٹ میں محدود درآمدی مواقع کے باعث مرکزی بینک نے عارضی طور پر خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کو سی آئی ایف بنیاد پر درآمد کرنے کی اجازت دی ہے۔ سرکلر کے مطابق یہ سہولت سرکلر کے اجرا کی تاریخ سے 60 دن تک دستیاب رہے گی۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک نے مجاز ڈیلرز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے صارفین کو نئی ہدایات سے آگاہ کریں اور ان پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>صنعتی ماہرین نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت قدم قرار دیا ہے جو ملک میں خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق سی آئی ایف بنیاد پر درآمد کی اجازت مقامی خریداروں اور درآمد کنندگان کو زیادہ لچک فراہم کرے گی جس سے وہ تیزی سے کارگو حاصل کر سکیں گے اور ممکنہ تاخیر سے بچ سکیں گے۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ سی آئی ایف معاہدے کے تحت پاکستانی درآمد کنندگان پورے آئل ٹینکر خرید سکتے ہیں جن میں فریٹ اور انشورنس کی لاگت پہلے سے شامل ہوتی ہے، جس سے غیر یقینی مارکیٹ حالات میں خریداری آسان ہو جاتی ہے۔</p>
<p>سی آئی ایف اصول سمندری یا آبی راستے سے نقل و حمل پر لاگو ہوتا ہے، جس کے تحت فروخت کنندہ خریدار کی مقررہ بندرگاہ تک فریٹ اور انشورنس کی لاگت برداشت کرتا ہے۔ تاہم سامان جہاز پر لادنے کے بعد اس کا خطرہ خریدار کو منتقل ہو جاتا ہے۔ اس انتظام میں شپنگ اور انشورنس شامل ہوتی ہے لیکن درآمدی ڈیوٹیز شامل نہیں ہوتیں، جبکہ اگر دورانِ سفر سامان کو نقصان پہنچے تو خریدار فروخت کنندہ کی انشورنس کمپنی سے معاوضہ حاصل کر سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس فری آن بورڈ میں فروخت کنندہ جہاز پر سامان لوڈ ہوتے ہی اس کی ملکیت اور ذمہ داری خریدار کو منتقل کر دیتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283784</guid>
      <pubDate>Thu, 12 Mar 2026 09:05:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/12090258e6e3a4e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/12090258e6e3a4e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
