<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:32:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے باعث تیل مہنگا، آئی ای اے نے اسٹریٹجک ذخائر کے ریکارڈ اجرا کی تجویز دے دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283778/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;آئی ای اے نے بدھ کے روز تاریخ میں سب سے بڑے اقدام کے طور پر 400 ملین بیرل تیل کے اسٹریٹجک ذخائر سے اجرا کی سفارش کی، تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ای اے نے کہا کہ اس اجرا پر 32 رکن ممالک کی متفقہ منظوری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ اس کے نفاذ کا وقت بعد میں طے کیا جائے گا۔ پیرس میں مقیم آئی ای اے نے یہ تبصرہ اسی وقت کیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جی 7 رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں اس معاملے پر بات ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جرمنی کی وزیرِ معیشت کیتھرینا رائچے نے پہلے ہی 400 ملین بیرل کے اجرا کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کا ملک اس اقدام میں حصہ لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور جاپان سب سے بڑے شراکت دار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک یورپی یونین کے سفارتکار نے کہا  ہے کہ ”دباؤ زیادہ تر امریکی حکومت کی طرف سے آیا، جو اس اجرا کا خواہاں تھی۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے انٹیریئر سیکرٹری ڈوگ برگم نے اس منصوبہ بند اجرا کی خبریں خوش آئند قرار دی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کے انٹیریئر سیکرٹری ڈوگ برگم نے فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ”یہ بہترین وقت ہے کہ کچھ تیل جاری کیا جائے تاکہ عالمی قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دنیا توانائی کی کمی کا سامنا نہیں کر رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“ہمارے پاس عبوری رسد کا مسئلہ ہے، جو عارضی ہے،“ انہوں نے کہا کہ ”یہ عبوری مسئلہ ہم فوجی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے حل کر رہے ہیں، اور اسے حل بھی کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر آئی ای اے کے ذخائر کی ریلیز کی رفتار مجموعی حجم سے اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے، اگر زیادہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اگلے مہینے میں 100 ملین بیرل جاری کیے گئے، تو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 3.3 ملین بیرل فی دن ریلیز ہوں گے، جو موجودہ خلل 20 ملین بیرل فی دن کے مقابلے میں بہت کم ہے، کیونکہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز تقریبا بند ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں بدھ کو دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ مارکیٹوں نے شک ظاہر کیا کہ آیا آئی ای اے کا منصوبہ تنازع سے پیدا ہونے والے ممکنہ سپلائی جھٹکوں کو پورا کر سکے گا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>آئی ای اے نے بدھ کے روز تاریخ میں سب سے بڑے اقدام کے طور پر 400 ملین بیرل تیل کے اسٹریٹجک ذخائر سے اجرا کی سفارش کی، تاکہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بڑھتی ہوئی خام تیل کی قیمتوں کو قابو میں رکھا جا سکے۔</strong></p>
<p>آئی ای اے نے کہا کہ اس اجرا پر 32 رکن ممالک کی متفقہ منظوری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ اس کے نفاذ کا وقت بعد میں طے کیا جائے گا۔ پیرس میں مقیم آئی ای اے نے یہ تبصرہ اسی وقت کیا جب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے جی 7 رہنماؤں کے اجلاس کی صدارت کی، جس میں اس معاملے پر بات ہوگی۔</p>
<p>جرمنی کی وزیرِ معیشت کیتھرینا رائچے نے پہلے ہی 400 ملین بیرل کے اجرا کی تصدیق کی اور کہا کہ ان کا ملک اس اقدام میں حصہ لے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور جاپان سب سے بڑے شراکت دار ہوں گے۔</p>
<p>ایک یورپی یونین کے سفارتکار نے کہا  ہے کہ ”دباؤ زیادہ تر امریکی حکومت کی طرف سے آیا، جو اس اجرا کا خواہاں تھی۔“</p>
<p>امریکہ کے انٹیریئر سیکرٹری ڈوگ برگم نے اس منصوبہ بند اجرا کی خبریں خوش آئند قرار دی ہیں۔</p>
<p>امریکہ کے انٹیریئر سیکرٹری ڈوگ برگم نے فوکس نیوز کے ساتھ انٹرویو میں کہا ہے کہ ”یہ بہترین وقت ہے کہ کچھ تیل جاری کیا جائے تاکہ عالمی قیمتوں پر دباؤ کم ہو سکے۔“</p>
<p>تاہم انہوں نے واضح کیا کہ دنیا توانائی کی کمی کا سامنا نہیں کر رہی۔</p>
<p>“ہمارے پاس عبوری رسد کا مسئلہ ہے، جو عارضی ہے،“ انہوں نے کہا کہ ”یہ عبوری مسئلہ ہم فوجی اور سفارتی اقدامات کے ذریعے حل کر رہے ہیں، اور اسے حل بھی کریں گے۔“</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر آئی ای اے کے ذخائر کی ریلیز کی رفتار مجموعی حجم سے اتنی ہی اہمیت رکھتی ہے، اگر زیادہ نہیں۔</p>
<p>اگر اگلے مہینے میں 100 ملین بیرل جاری کیے گئے، تو روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 3.3 ملین بیرل فی دن ریلیز ہوں گے، جو موجودہ خلل 20 ملین بیرل فی دن کے مقابلے میں بہت کم ہے، کیونکہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز تقریبا بند ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں بدھ کو دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ مارکیٹوں نے شک ظاہر کیا کہ آیا آئی ای اے کا منصوبہ تنازع سے پیدا ہونے والے ممکنہ سپلائی جھٹکوں کو پورا کر سکے گا یا نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283778</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 22:59:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11224722276972d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11224722276972d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
