<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جنگی صورتحال کے باعث ایران 2026 فٹبال ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتا، وزیر کھیل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283774/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے وزیر کھیل احمد دنیامالی نے بدھ کے روز کہا کہ ایران 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتا، کیونکہ شریک میزبان امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملے شروع کیے ہیں جن میں ملک کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل نے تقریباً دو ہفتے قبل ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جن میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر ہلاک ہوئے، جس کے بعد خلیجی خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی اور تنازع پھیل گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ”اس ظالم حکومت نے ہمارے رہنما کو قتل کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں ہم کسی صورت ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;48 ٹیموں پر مشتمل فٹبال ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیامالی نے کہا ہے کہ ”ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں اور بنیادی طور پر اس وقت شرکت کے لیے حالات ہی موجود نہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ”ایران کے خلاف ان کے بدنیتی پر مبنی اقدامات کے باعث ہمیں گزشتہ آٹھ یا نو مہینوں میں دو جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہمارے ہزاروں افراد ہلاک یا شہید ہوئے، اس لیے ہم یقیناً ایسی صورتحال میں شرکت نہیں کر سکتے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1,300 سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے میچ لاس اینجلس اور سیئٹل میں شیڈول تھے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دسمبر میں ہونے والی قرعہ اندازی میں ایران کو بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ گروپ کیا گیا تھا۔ گروپ جی کے تینوں میچ امریکہ میں ہونے تھے، جن میں سے دو لاس اینجلس جبکہ ایک سیئٹل میں کھیلا جانا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران، جس نے گزشتہ سال مارچ میں ایشیائی کوالیفائنگ راؤنڈز میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں منعقد ہونے والی فیفا پلاننگ سمٹ سے غیر حاضر رہنے والا واحد ملک تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائٹرز نے تبصرے کے لیے ایرانی فٹ بال فیڈریشن سے رابطہ کیا ہے، تاہم اگر ایران بائیکاٹ برقرار رکھتا ہے تو اس کے متبادل کے حوالے سے فیفا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیفا کے ضوابط کے مطابق اگر کوئی ٹیم ٹورنامنٹ کے پہلے میچ سے 30 دن قبل دستبردار ہوتی ہے تو اسے فیفا ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار سوئس فرانک (تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار 800 ڈالر) جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قواعد کے مطابق ایسی صورت میں متعلقہ رکن ایسوسی ایشن کو آئندہ فیفا مقابلوں سے خارج کیا جا سکتا ہے یا اس کی جگہ کسی دوسری رکن ایسوسی ایشن کو شامل کیا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انفنٹینو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی ٹیم کا خیرمقدم کیا ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل فیفا کے صدر جانی انفنٹینو نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے، جنہوں نے انہیں بتایا کہ 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ”مجھے واقعی اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرتا ہے یا نہیں“، تاہم انفنٹینو کے مطابق ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ایرانی ٹیم کی شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس معاملے سے واقف تہران کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس صورتحال میں وارم اپ میچز کا انعقاد بھی ممکن نہیں رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے وزیر کھیل احمد دنیامالی نے بدھ کے روز کہا کہ ایران 2026 کے ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتا، کیونکہ شریک میزبان امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملے شروع کیے ہیں جن میں ملک کے رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہو گئے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکہ اور اسرائیل نے تقریباً دو ہفتے قبل ایران پر فضائی حملے شروع کیے تھے، جن میں اسلامی جمہوریہ کے سپریم لیڈر ہلاک ہوئے، جس کے بعد خلیجی خطے میں وسیع پیمانے پر کشیدگی اور تنازع پھیل گیا۔</p>
<p>سرکاری ٹیلی ویژن سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر نے کہا کہ ”اس ظالم حکومت نے ہمارے رہنما کو قتل کر دیا ہے، ایسی صورتحال میں ہم کسی صورت ورلڈ کپ میں شرکت نہیں کر سکتے۔“</p>
<p>48 ٹیموں پر مشتمل فٹبال ورلڈ کپ 11 جون سے 19 جولائی تک امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا میں کھیلا جائے گا۔</p>
<p>دنیامالی نے کہا ہے کہ ”ہمارے بچے محفوظ نہیں ہیں اور بنیادی طور پر اس وقت شرکت کے لیے حالات ہی موجود نہیں۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ”ایران کے خلاف ان کے بدنیتی پر مبنی اقدامات کے باعث ہمیں گزشتہ آٹھ یا نو مہینوں میں دو جنگوں کا سامنا کرنا پڑا اور ہمارے ہزاروں افراد ہلاک یا شہید ہوئے، اس لیے ہم یقیناً ایسی صورتحال میں شرکت نہیں کر سکتے۔“</p>
<p>اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر امیر سعید ایروانی کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں کے آغاز کے بعد سے اب تک 1,300 سے زائد ایرانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔</p>
<p><strong>ایران کے میچ لاس اینجلس اور سیئٹل میں شیڈول تھے</strong></p>
<p>گزشتہ دسمبر میں ہونے والی قرعہ اندازی میں ایران کو بیلجیم، مصر اور نیوزی لینڈ کے ساتھ گروپ کیا گیا تھا۔ گروپ جی کے تینوں میچ امریکہ میں ہونے تھے، جن میں سے دو لاس اینجلس جبکہ ایک سیئٹل میں کھیلا جانا تھا۔</p>
<p>ایران، جس نے گزشتہ سال مارچ میں ایشیائی کوالیفائنگ راؤنڈز میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے ٹورنامنٹ کے لیے کوالیفائی کیا تھا، گزشتہ ہفتے اٹلانٹا میں منعقد ہونے والی فیفا پلاننگ سمٹ سے غیر حاضر رہنے والا واحد ملک تھا۔</p>
<p>رائٹرز نے تبصرے کے لیے ایرانی فٹ بال فیڈریشن سے رابطہ کیا ہے، تاہم اگر ایران بائیکاٹ برقرار رکھتا ہے تو اس کے متبادل کے حوالے سے فیفا کی جانب سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔</p>
<p>فیفا کے ضوابط کے مطابق اگر کوئی ٹیم ٹورنامنٹ کے پہلے میچ سے 30 دن قبل دستبردار ہوتی ہے تو اسے فیفا ڈسپلنری کمیٹی کی جانب سے کم از کم 2 لاکھ 50 ہزار سوئس فرانک (تقریباً 3 لاکھ 20 ہزار 800 ڈالر) جرمانہ کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p>قواعد کے مطابق ایسی صورت میں متعلقہ رکن ایسوسی ایشن کو آئندہ فیفا مقابلوں سے خارج کیا جا سکتا ہے یا اس کی جگہ کسی دوسری رکن ایسوسی ایشن کو شامل کیا جا سکتا ہے۔</p>
<p><strong>انفنٹینو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی ٹیم کا خیرمقدم کیا ہے</strong></p>
<p>اس سے قبل فیفا کے صدر جانی انفنٹینو نے کہا تھا کہ انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی ہے، جنہوں نے انہیں بتایا کہ 2026 کے فٹ بال ورلڈ کپ میں ایران کی شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔</p>
<p>ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ ”مجھے واقعی اس بات کی پرواہ نہیں کہ ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرتا ہے یا نہیں“، تاہم انفنٹینو کے مطابق ان کی صدر ٹرمپ کے ساتھ تعمیری گفتگو ہوئی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکہ میں ہونے والے ٹورنامنٹ میں ایرانی ٹیم کی شرکت کا خیرمقدم کیا جائے گا۔</p>
<p>اس معاملے سے واقف تہران کے ایک ذریعے نے بتایا کہ جنگی صورتحال کے باعث ورلڈ کپ میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ اس صورتحال میں وارم اپ میچز کا انعقاد بھی ممکن نہیں رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283774</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 21:32:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11211841e5c4419.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11211841e5c4419.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
