<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:04:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:04:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئے سپریم لیڈر زخمی لیکن محفوظ ہیں، ایرانی صدر کے صاحبزادے کا بیان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283773/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے صدر مسعود پزشکیان کے صاحبزادے اور حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نے تصدیق کی ہے کہ وہ حملے میں زخمی ہوئے ہیں لیکن اب  خیریت سے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ان کی تقرری کے بعد سے ان کا منظرِ عام پر نہ آنا تشویش کا باعث تھا، تاہم باوثوق ذرائع نے ان کی سلامتی کی تصدیق کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں اپنی اہلیہ سمیت شہید  ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کو  رمضان جنگ کا زخمی غازی  قرار دیا ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان کی ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں اور وہ فی الحال انتہائی محفوظ مقام پر مقیم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر وہ طویل عرصے تک روپوش رہ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب تہران میں جہاں حکومت نواز حامیوں نے ان کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، وہیں مخالفین کی جانب سے احتجاجی نعرے بھی سنے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تقرری کو  ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکی منظوری کے بغیر ان کا اقتدار زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران کے نئے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کے حوالے سے صدر مسعود پزشکیان کے صاحبزادے اور حکومتی مشیر یوسف پزشکیان نے تصدیق کی ہے کہ وہ حملے میں زخمی ہوئے ہیں لیکن اب  خیریت سے ہیں۔</strong></p>
<p>یوسف پزشکیان نے ٹیلی گرام پر بتایا کہ ان کی تقرری کے بعد سے ان کا منظرِ عام پر نہ آنا تشویش کا باعث تھا، تاہم باوثوق ذرائع نے ان کی سلامتی کی تصدیق کی ہے۔</p>
<p>56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کے والد علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد رہبرِ اعلیٰ مقرر کیا گیا تھا۔ علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملے میں اپنی اہلیہ سمیت شہید  ہو گئے تھے۔</p>
<p>سرکاری میڈیا نے مجتبیٰ خامنہ ای کو  رمضان جنگ کا زخمی غازی  قرار دیا ہے، جبکہ نیویارک ٹائمز کے مطابق ان کی ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں اور وہ فی الحال انتہائی محفوظ مقام پر مقیم ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق اسرائیل اور امریکہ کے ممکنہ حملوں کے پیشِ نظر وہ طویل عرصے تک روپوش رہ سکتے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب تہران میں جہاں حکومت نواز حامیوں نے ان کی حمایت میں ریلیاں نکالیں، وہیں مخالفین کی جانب سے احتجاجی نعرے بھی سنے گئے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان کی تقرری کو  ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے دھمکی دی ہے کہ امریکی منظوری کے بغیر ان کا اقتدار زیادہ عرصہ نہیں چلے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283773</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 20:42:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11203513f8dc14c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11203513f8dc14c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
