<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپریشن غضب للحق : 641 افغان طالبان ہلاک، 855 سے زائد زخمی، وزیر اطلاعات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283770/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے 641 افغان طالبان کو ہلاک اور 855 سے زائد کو زخمی کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز نے 243 چیک پوسٹیں تباہ کر دی ہیں، جبکہ 42 مزید چوکیوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ افغان طالبان کے زیرِ استعمال 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کے یونٹس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات کے مطابق اس مہم کے دوران فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے اندر طالبان کی 65 پناہ گاہوں اور معاونت کرنے والے مقامات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے افغان طالبان کا انفرااسٹرکچر تباہ کرنے اور سرحدی خطرات کے خاتمے کے لیے آپریشن تاحال جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس وقت انتہا کو پہنچی جب افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ کے بعد اسلام آباد نے ’آپریشن غضب الحق‘ کا آغاز کیا۔ اسلام آباد نے بارہا ان دہشت گرد گروہوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب منگل کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو  ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینے کا اعلان کیا اور طالبان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دو امریکی شہریوں کو رہا کریں اور اپنی  یرغمالی ڈپلومیسی کا خاتمہ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان حکام نے اس اقدام کو ”افسوسناک“ قرار دیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی امریکہ نے ایران کو بھی اس نئی بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے یہ بلیک لسٹ بنائی تھی، جو دہشت گردی سے متعلق امریکی نامزدگیوں سے مماثلت رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ  طالبان دہشت گردانہ حربوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں اور تاوان یا پالیسی میں رعایت حاصل کرنے کے لیے افراد کو اغوا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بتایا ہے کہ افغان طالبان کے خلاف جاری آپریشن کے دوران پاکستان کی سیکورٹی فورسز نے 641 افغان طالبان کو ہلاک اور 855 سے زائد کو زخمی کر دیا۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم  ایکس پر آپریشن کی تفصیلات بتاتے ہوئے عطا اللہ تارڑ نے مزید کہا کہ سیکورٹی فورسز نے 243 چیک پوسٹیں تباہ کر دی ہیں، جبکہ 42 مزید چوکیوں پر قبضہ کرنے کے بعد انہیں منہدم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے  کہا کہ افغان طالبان کے زیرِ استعمال 219 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے کے یونٹس بھی تباہ کر دیے گئے ہیں۔</p>
<p>وزیر اطلاعات کے مطابق اس مہم کے دوران فضائی کارروائیوں میں افغانستان کے اندر طالبان کی 65 پناہ گاہوں اور معاونت کرنے والے مقامات کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ سیکورٹی فورسز کی جانب سے افغان طالبان کا انفرااسٹرکچر تباہ کرنے اور سرحدی خطرات کے خاتمے کے لیے آپریشن تاحال جاری ہے۔</p>
<p>پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس وقت انتہا کو پہنچی جب افغانستان کی جانب سے بلا اشتعال سرحد پار فائرنگ کے بعد اسلام آباد نے ’آپریشن غضب الحق‘ کا آغاز کیا۔ اسلام آباد نے بارہا ان دہشت گرد گروہوں پر تشویش کا اظہار کیا ہے جو مبینہ طور پر افغان سرزمین سے اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب منگل کو امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے افغانستان کو  ناجائز حراست کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دینے کا اعلان کیا اور طالبان حکام سے مطالبہ کیا کہ وہ دو امریکی شہریوں کو رہا کریں اور اپنی  یرغمالی ڈپلومیسی کا خاتمہ کریں۔</p>
<p>افغان حکام نے اس اقدام کو ”افسوسناک“ قرار دیا ہے۔ یہ اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایک ہفتہ قبل ہی امریکہ نے ایران کو بھی اس نئی بلیک لسٹ میں شامل کیا تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ستمبر میں ایک انتظامی حکم نامے کے ذریعے یہ بلیک لسٹ بنائی تھی، جو دہشت گردی سے متعلق امریکی نامزدگیوں سے مماثلت رکھتی ہے۔</p>
<p>مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا کہ  طالبان دہشت گردانہ حربوں کا استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں اور تاوان یا پالیسی میں رعایت حاصل کرنے کے لیے افراد کو اغوا کر رہے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283770</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 20:06:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1119550658741e1.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="498">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1119550658741e1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
