<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Sports</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرکٹ بورڈ نے ورلڈ کپ کے بعد سفری تاخیر پر جانبداری کے الزامات مسترد کر دیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283765/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی (آئی سی سی) نے بدھ  کو ان تاثرات کو مسترد کر دیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد بھارت میں پھنسے ہوئے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے اسکواڈز کے ساتھ غیر مساوی سلوک کیا گیا ہے۔ دونوں ٹیموں کی واپسی کا سلسلہ اب بالآخر شروع ہو گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایئر لائنز نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا ان کے راستے تبدیل کر دیے ہیں، جس سے بین الاقوامی فضائی سفر شدید افراتفری کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ ویسٹ انڈیز نے منگل کو کہا تھا کہ ان کے اسکواڈ کو چارٹر فلائٹ کے لیے نو دن تک انتظار کرنا پڑا جو  بار بار تاخیر کا شکار ہوتی رہی۔انہوں نے اس غیر یقینی صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ  قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بھی اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل سے باہر ہونے کے 36 گھنٹے بعد روانہ ہو گئی تھی، جبکہ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی کولکتہ میں موجود رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس قسم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتی ہے کہ یہ فیصلے حفاظت، عملی سہولت اور کھلاڑیوں کی بہبود کے علاوہ کسی اور بنیاد پر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں مزید کہا گیا کہ  ہم سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی مہم ختم کرنے والے کھلاڑی، کوچز اور ان کے اہل خانہ گھر واپسی کے لیے بے چین ہیں۔ان کی تاحال واپسی نہ ہو پانا حقیقی طور پر مایوس کن ہے اور آئی سی سی اس احساس میں برابر کی شریک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے انتظامات کا انگلینڈ کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے، کیونکہ انگلینڈ کی روانگی کے حالات، روٹس کے انتخاب اور سفری صورتحال بالکل مختلف تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑی اور پانچ فیملی ممبران روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ بقیہ 29 اراکین اگلے 24 گھنٹوں میں روانہ ہوں گے۔ جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ کا سفر 4 مارچ کو ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح ویسٹ انڈیز کے نو اراکین کیریبین کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور بقیہ 16 اراکین اگلے 12 گھنٹوں میں بھارت سے روانہ ہو جائیں گے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کرکٹ کی عالمی گورننگ باڈی (آئی سی سی) نے بدھ  کو ان تاثرات کو مسترد کر دیا ہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد بھارت میں پھنسے ہوئے ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ کے اسکواڈز کے ساتھ غیر مساوی سلوک کیا گیا ہے۔ دونوں ٹیموں کی واپسی کا سلسلہ اب بالآخر شروع ہو گیا ہے۔</strong></p>
<p>مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث ایئر لائنز نے اپنی پروازیں منسوخ کر دی ہیں یا ان کے راستے تبدیل کر دیے ہیں، جس سے بین الاقوامی فضائی سفر شدید افراتفری کا شکار ہے۔</p>
<p>کرکٹ ویسٹ انڈیز نے منگل کو کہا تھا کہ ان کے اسکواڈ کو چارٹر فلائٹ کے لیے نو دن تک انتظار کرنا پڑا جو  بار بار تاخیر کا شکار ہوتی رہی۔انہوں نے اس غیر یقینی صورتحال کو انتہائی تکلیف دہ  قرار دیا۔</p>
<p>انگلینڈ کے سابق کپتان مائیکل وان نے بھی اس صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ انگلینڈ کی ٹیم سیمی فائنل سے باہر ہونے کے 36 گھنٹے بعد روانہ ہو گئی تھی، جبکہ ویسٹ انڈیز اور جنوبی افریقہ ٹورنامنٹ سے باہر ہونے کے ایک ہفتے بعد بھی کولکتہ میں موجود رہیں۔</p>
<p>انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس قسم کی کسی بھی تجویز کو مسترد کرتی ہے کہ یہ فیصلے حفاظت، عملی سہولت اور کھلاڑیوں کی بہبود کے علاوہ کسی اور بنیاد پر لیے گئے ہیں۔</p>
<p>بیان میں مزید کہا گیا کہ  ہم سمجھتے ہیں کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026 کی مہم ختم کرنے والے کھلاڑی، کوچز اور ان کے اہل خانہ گھر واپسی کے لیے بے چین ہیں۔ان کی تاحال واپسی نہ ہو پانا حقیقی طور پر مایوس کن ہے اور آئی سی سی اس احساس میں برابر کی شریک ہے۔</p>
<p>آئی سی سی نے یہ بھی واضح کیا کہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے انتظامات کا انگلینڈ کے ساتھ کوئی موازنہ نہیں ہے، کیونکہ انگلینڈ کی روانگی کے حالات، روٹس کے انتخاب اور سفری صورتحال بالکل مختلف تھی۔</p>
<p>آئی سی سی کے مطابق جنوبی افریقہ کے چار کھلاڑی اور پانچ فیملی ممبران روانہ ہو چکے ہیں، جبکہ بقیہ 29 اراکین اگلے 24 گھنٹوں میں روانہ ہوں گے۔ جنوبی افریقہ کا ورلڈ کپ کا سفر 4 مارچ کو ختم ہوا تھا۔</p>
<p>اسی طرح ویسٹ انڈیز کے نو اراکین کیریبین کے لیے روانہ ہو چکے ہیں اور بقیہ 16 اراکین اگلے 12 گھنٹوں میں بھارت سے روانہ ہو جائیں گے۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یکم مارچ کو ٹورنامنٹ سے باہر ہوئی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sports</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283765</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 16:00:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/111551394e3f97a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/111551394e3f97a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
