<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پٹرولیم نرخوں میں اضافہ : آئل مارکیٹنگ کمپنیوں نے 113 ارب روپے منافع سمیٹ لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283763/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کے حالیہ اضافے نے ان الزامات کو جنم دیا ہے کہ اس فیصلے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (اوایم سیز) کو 113 ارب روپے کا غیر معمولی منافع (ونڈ فال پرافٹ) حاصل ہوا ہے۔ تاہم صنعت کے نمائندوں اور حکومتی مشیروں کا موقف ہے کہ قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کارجو عالمی مارکیٹ کے  پلاٹس اوسط پر مبنی ہے کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ فروخت شدہ اسٹاک کو اس سے کہیں زیادہ مہنگے ایندھن سے تبدیل کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی قیمتیں ہفتوں پہلے خریدی گئی کسی مخصوص کھیپ کی لاگت پر نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا تعین مقررہ مدت کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل  کے لیے  پلاٹس کی اوسط قیمت اور شرحِ مبادلہ کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اوگرا  کے قواعد کے تحت کمپنیوں کے لیے 20 دن کا لازمی اسٹاک رکھنا ضروری ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمپنیاں ایک طرف تیل فروخت کر رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسی مقدار کو پورا کرنے کے لیے موجودہ عالمی قیمتوں پر نیا مال خرید رہی ہوتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اگر آج ایک لیٹر تیل فروخت ہوتا ہے تو ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے اسے آج کی مہنگی عالمی قیمت پر ہی دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) نے احتیاطی طور پر آبنائے ہرمز سے ہٹ کر پیٹرول اور ڈیزل کی درآمد کے لیے دو ٹینڈرز جاری کیے ہیں، حالانکہ اس وقت ملک میں تیل کے ذخائر کافی بہتر سطح پر ہیں۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں ہفتے بتایا کہ تیل کی تین مزید کھیپیں پاکستان پہنچنے والی ہیں۔ اس وقت ملک میں 5 لاکھ ٹن سے زائد پیٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک موجود ہے جو بالترتیب 26 اور 25 دنوں کے لیے کافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم مارچ 2026 کو پیٹرول کی قیمتیں 78 ڈالر فی بیرل کی اوسط پر مبنی تھیں، جو 6 مارچ تک بڑھ کر 106 ڈالر ہو گئیں۔ او ایم سیز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں 55 روپے اضافے کے بغیر کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 120 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی، جو بعد ازاں 102 ڈالر پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں قیمتوں میں 24 روپے کمی کے وقت ریفائنریوں اور کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان (انوینٹری لاس) برداشت کرنا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے وہ اسٹاک مہنگے داموں خریدا ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 55 روپے فی لیٹر کے حالیہ اضافے نے ان الزامات کو جنم دیا ہے کہ اس فیصلے سے آئل مارکیٹنگ کمپنیوں (اوایم سیز) کو 113 ارب روپے کا غیر معمولی منافع (ونڈ فال پرافٹ) حاصل ہوا ہے۔ تاہم صنعت کے نمائندوں اور حکومتی مشیروں کا موقف ہے کہ قیمتوں کے تعین کا موجودہ طریقہ کارجو عالمی مارکیٹ کے  پلاٹس اوسط پر مبنی ہے کمپنیوں کو اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ فروخت شدہ اسٹاک کو اس سے کہیں زیادہ مہنگے ایندھن سے تبدیل کریں۔</strong></p>
<p>پیٹرولیم ڈویژن کے حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نئی قیمتیں ہفتوں پہلے خریدی گئی کسی مخصوص کھیپ کی لاگت پر نہیں ہوتیں، بلکہ ان کا تعین مقررہ مدت کے دوران پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل  کے لیے  پلاٹس کی اوسط قیمت اور شرحِ مبادلہ کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ اوگرا  کے قواعد کے تحت کمپنیوں کے لیے 20 دن کا لازمی اسٹاک رکھنا ضروری ہے، جس کا مطلب ہے کہ کمپنیاں ایک طرف تیل فروخت کر رہی ہوتی ہیں اور دوسری طرف اسی مقدار کو پورا کرنے کے لیے موجودہ عالمی قیمتوں پر نیا مال خرید رہی ہوتی ہیں۔</p>
<p>حکام کے مطابق اگر آج ایک لیٹر تیل فروخت ہوتا ہے تو ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے اسے آج کی مہنگی عالمی قیمت پر ہی دوبارہ خریدنا پڑتا ہے۔</p>
<p>پاکستان اسٹیٹ آئل(پی ایس او) نے احتیاطی طور پر آبنائے ہرمز سے ہٹ کر پیٹرول اور ڈیزل کی درآمد کے لیے دو ٹینڈرز جاری کیے ہیں، حالانکہ اس وقت ملک میں تیل کے ذخائر کافی بہتر سطح پر ہیں۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے رواں ہفتے بتایا کہ تیل کی تین مزید کھیپیں پاکستان پہنچنے والی ہیں۔ اس وقت ملک میں 5 لاکھ ٹن سے زائد پیٹرول اور ڈیزل کا اسٹاک موجود ہے جو بالترتیب 26 اور 25 دنوں کے لیے کافی ہے۔</p>
<p>دریں اثنا سعودی عرب سے بحیرہ احمر کے متبادل راستے کے ذریعے تیل کی فراہمی کی درخواست بھی کی گئی ہے۔</p>
<p>یکم مارچ 2026 کو پیٹرول کی قیمتیں 78 ڈالر فی بیرل کی اوسط پر مبنی تھیں، جو 6 مارچ تک بڑھ کر 106 ڈالر ہو گئیں۔ او ایم سیز کے نمائندے کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں 55 روپے اضافے کے بغیر کمپنیوں کو بھاری مالی نقصان اٹھانا پڑتا۔ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تنازع کے باعث برینٹ خام تیل کی قیمت ایک موقع پر 120 ڈالر کی بلند ترین سطح تک جا پہنچی تھی، جو بعد ازاں 102 ڈالر پر بند ہوئی۔</p>
<p>یاد رہے کہ دسمبر 2025 میں قیمتوں میں 24 روپے کمی کے وقت ریفائنریوں اور کمپنیوں کو اربوں روپے کا نقصان (انوینٹری لاس) برداشت کرنا پڑا تھا کیونکہ انہوں نے وہ اسٹاک مہنگے داموں خریدا ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283763</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 15:26:54 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11151242e0fd785.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11151242e0fd785.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
