<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 17:09:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ میں تیل بحران: پاکستان میں ایندھن کی سپلائی مستحکم ہے، ترجمان وزیرِاعظم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283758/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;غیرملکی میڈیا کیلئے وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی سپلائی چین مستحکم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکام کسی بھی قسم کی قلت کو روکنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور صارفین پر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ سپلائی چین، اسٹاک اور فعال معاہدوں کے لحاظ سے جہاں ہمیں معلوم ہے کہ ترسیل (پشمنٹس) راستے میں ہے ،حالات مستحکم بلکہ بہتر ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پاکستانی صارفین کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 335.86 روپے فی لٹر مقرر کردی گئی جبکہ پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 266.17 روپے سے بڑھا کر 321.17 روپے فی لٹر کر دی گئی ہے جو کہ 17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرف زیدی نے وضاحت کی کہ حکومت کی اولین ترجیح ایندھن کی قلت کو روکنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے پاکستان میں اصل کام یہ یقینی بنانا ہے کہ گیس اسٹیشن یا سڑکوں پر قیمت چاہے جو بھی ہو، پاکستانی صارف کو ایندھن یا رسد کی کسی بھی قسم کی تباہ کن یا خطرناک قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بروقت (یا قبل از وقت) اضافے نے سپلائی چین کو سہارا دینے (مستحکم رکھنے) میں مدد فراہم کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم نے آغاز ہی میں مشکل فیصلے کرکے طویل مدتی بحران کے خطرے کو کم کردیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان پہلے ممالک میں سے ایک ہو سکتا ہے جس نے مستقبل میں ہونے والے حالات کا پیشگی اندازہ لگاتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس (اقدام) نے ہماری سپلائی چین کے تسلسل کے حوالے سے پاکستان کو تحفظ فراہم کیا ہے، کیونکہ اب ہماری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ذخائر کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار افراد کے پاس وہ ضروری مالی گنجائش موجود ہے جو انہیں سپلائی چین کے مختلف ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شپنگ کے دورانیے کی وضاحت کرتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ ایندھن کو پاکستان پہنچنے میں 5 سے 6 دن لگتے ہیںلیکن آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے وہ سپلائی چینز بند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے متبادل راستوں کے ذریعے ترسیل میں 18 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال (تیل کی فراہمی میں) ایک بڑا خلا پیدا کردیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے پیر کو ایک جامع قومی کفایت شعاری پالیسی پیش کی ہے جس کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران کے تناظر میں ایندھن کی بچت کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>غیرملکی میڈیا کیلئے وزیرِاعظم کے ترجمان مشرف زیدی نے کہا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑھتے ہوئے اتار چڑھاؤ کے باوجود پاکستان میں ایندھن کی سپلائی چین مستحکم ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ حکام کسی بھی قسم کی قلت کو روکنے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور صارفین پر پٹرولیم مصنوعات کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو کم کرنے کیلئے اقدامات کیے جارہے ہیں۔</strong></p>
<p>بدھ کو بلومبرگ نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ سپلائی چین، اسٹاک اور فعال معاہدوں کے لحاظ سے جہاں ہمیں معلوم ہے کہ ترسیل (پشمنٹس) راستے میں ہے ،حالات مستحکم بلکہ بہتر ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پٹرول اور ڈیزیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے نے پاکستانی صارفین کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے شدید تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے حکومت نے پٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں 55 روپے فی لٹر اضافے کا اعلان کیا تھا۔</p>
<p>نتیجتاً ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت 335.86 روپے فی لٹر مقرر کردی گئی جبکہ پٹرول کی ایکس ڈپو قیمت 266.17 روپے سے بڑھا کر 321.17 روپے فی لٹر کر دی گئی ہے جو کہ 17 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔</p>
<p>مشرف زیدی نے وضاحت کی کہ حکومت کی اولین ترجیح ایندھن کی قلت کو روکنا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے پاکستان میں اصل کام یہ یقینی بنانا ہے کہ گیس اسٹیشن یا سڑکوں پر قیمت چاہے جو بھی ہو، پاکستانی صارف کو ایندھن یا رسد کی کسی بھی قسم کی تباہ کن یا خطرناک قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>انہوں نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بروقت (یا قبل از وقت) اضافے نے سپلائی چین کو سہارا دینے (مستحکم رکھنے) میں مدد فراہم کی ہے۔</p>
<p>ہم نے آغاز ہی میں مشکل فیصلے کرکے طویل مدتی بحران کے خطرے کو کم کردیا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان پہلے ممالک میں سے ایک ہو سکتا ہے جس نے مستقبل میں ہونے والے حالات کا پیشگی اندازہ لگاتے ہوئے ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ کیا۔</p>
<p>اس (اقدام) نے ہماری سپلائی چین کے تسلسل کے حوالے سے پاکستان کو تحفظ فراہم کیا ہے، کیونکہ اب ہماری آئل مارکیٹنگ کمپنیوں اور ذخائر کو برقرار رکھنے کے ذمہ دار افراد کے پاس وہ ضروری مالی گنجائش موجود ہے جو انہیں سپلائی چین کے مختلف ذرائع کو بروئے کار لانے کے لیے درکار ہوتی ہے۔</p>
<p>شپنگ کے دورانیے کی وضاحت کرتے ہوئے مشرف زیدی نے کہا کہ ایندھن کو پاکستان پہنچنے میں 5 سے 6 دن لگتے ہیںلیکن آبنائے ہرمز کی صورتحال کی وجہ سے وہ سپلائی چینز بند ہیں۔</p>
<p>جبکہ آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والے تعطل کی وجہ سے متبادل راستوں کے ذریعے ترسیل میں 18 سے 20 دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صورتحال (تیل کی فراہمی میں) ایک بڑا خلا پیدا کردیتی ہے۔</p>
<p>پاکستان نے پیر کو ایک جامع قومی کفایت شعاری پالیسی پیش کی ہے جس کا مقصد سرکاری اخراجات میں کمی لانا ہے۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اسے ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے بعد جاری مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے عالمی توانائی کے بحران کے تناظر میں ایندھن کی بچت کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283758</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 14:17:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11134946da83278.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11134946da83278.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
