<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 18 Jul 2026 21:13:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>84 ایرانی ملاحوں کی لاشیں ایرانی سفارت خانے کے حوالے کی جائیں، سری لنکا کی عدالت کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283757/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سری لنکا کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایرانی جنگی جہاز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ملاحوں کی لاشیں ایران کے سفارت خانے کے حوالے کر دی جائیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بدھ کو جنوبی بندرگاہی شہر گالے کی ہاربر پولیس کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ اس وقت تمام لاشیں گالے کے نیشنل اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو گزشتہ ہفتے سری لنکا کے ساحل کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بھارت کی جانب سے منعقدہ بحری مشقوں سے واپس لوٹ رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس جہاز کو ایک امریکی آبدوز کی جانب سے فائر کیے گئے ٹارپیڈو نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی تجارت و سفر میں خلل پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کے مطابق اس حملے میں 32 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ دوسری جانب سری لنکا نے ایک دوسرے ایرانی جہاز کے 208 عملے کے ارکان کو 30 روزہ داخلہ ویزا جاری کیا ہے۔ اس جہاز کو اسی علاقے میں انجن کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد اسے جنوبی ایشیائی ملک نے پناہ دی۔ سری لنکا کے نائب وزیر دفاع ارونا جیا سیکرا نے بتایا کہ اس معاملے پر سری لنکن وزارت خارجہ کولمبو میں ایرانی سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ ایرانی سفارتی مشن تہران سے مشاورت کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سری لنکا کی کابینہ کے ترجمان کے مطابق دوسرا ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر اس وقت ساحل سے تقریباً نو ناٹیکل میل دور موجود ہے اور اسے بعد میں منتقل کیا جائے گا۔ صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے کہا ہے کہ جہاز کو مشرقی ساحل پر واقع ترینکومالی بندرگاہ منتقل کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کولمبو پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ دونوں ایرانی جہازوں کے زندہ بچ جانے والے عملے کو واپس ایران نہ بھیجا جائے۔ امریکہ اور ایران دونوں سری لنکا کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ امریکہ سری لنکا کی ملبوسات کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد خریدار ہے جبکہ ایران اس کی چائے کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اسی دوران ایک تیسرا ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس لاوان 183 عملے کے ارکان کے ساتھ بھارت کی جنوبی بندرگاہ کوچی میں لنگر انداز ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سری لنکا کی ایک عدالت نے حکم دیا ہے کہ گزشتہ ہفتے ایرانی جنگی جہاز پر حملے میں ہلاک ہونے والے 84 ملاحوں کی لاشیں ایران کے سفارت خانے کے حوالے کر دی جائیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق یہ فیصلہ بدھ کو جنوبی بندرگاہی شہر گالے کی ہاربر پولیس کی درخواست پر جاری کیا گیا۔ اس وقت تمام لاشیں گالے کے نیشنل اسپتال کے مردہ خانے میں رکھی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس ڈینا کو گزشتہ ہفتے سری لنکا کے ساحل کے قریب اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ بھارت کی جانب سے منعقدہ بحری مشقوں سے واپس لوٹ رہا تھا۔ رپورٹس کے مطابق اس جہاز کو ایک امریکی آبدوز کی جانب سے فائر کیے گئے ٹارپیڈو نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب ایران اور امریکہ و اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے عالمی منڈیوں کو شدید متاثر کیا ہے، تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور عالمی تجارت و سفر میں خلل پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>حکام کے مطابق اس حملے میں 32 افراد زندہ بچ گئے تھے۔ دوسری جانب سری لنکا نے ایک دوسرے ایرانی جہاز کے 208 عملے کے ارکان کو 30 روزہ داخلہ ویزا جاری کیا ہے۔ اس جہاز کو اسی علاقے میں انجن کی خرابی کا سامنا کرنا پڑا تھا جس کے بعد اسے جنوبی ایشیائی ملک نے پناہ دی۔ سری لنکا کے نائب وزیر دفاع ارونا جیا سیکرا نے بتایا کہ اس معاملے پر سری لنکن وزارت خارجہ کولمبو میں ایرانی سفارت خانے کے ساتھ رابطے میں ہے جبکہ ایرانی سفارتی مشن تہران سے مشاورت کر رہا ہے۔</p>
<p>سری لنکا کی کابینہ کے ترجمان کے مطابق دوسرا ایرانی جہاز آئی آر آئی ایس بوشہر اس وقت ساحل سے تقریباً نو ناٹیکل میل دور موجود ہے اور اسے بعد میں منتقل کیا جائے گا۔ صدر انورا کمارا ڈسانائیکے نے کہا ہے کہ جہاز کو مشرقی ساحل پر واقع ترینکومالی بندرگاہ منتقل کیا جائے گا۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق واشنگٹن کولمبو پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ دونوں ایرانی جہازوں کے زندہ بچ جانے والے عملے کو واپس ایران نہ بھیجا جائے۔ امریکہ اور ایران دونوں سری لنکا کے اہم تجارتی شراکت دار ہیں۔ امریکہ سری لنکا کی ملبوسات کی برآمدات کا تقریباً 40 فیصد خریدار ہے جبکہ ایران اس کی چائے کے بڑے خریداروں میں شامل ہے۔ اسی دوران ایک تیسرا ایرانی جنگی جہاز آئی آر آئی ایس لاوان 183 عملے کے ارکان کے ساتھ بھارت کی جنوبی بندرگاہ کوچی میں لنگر انداز ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283757</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 14:14:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1114122345f3f16.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1114122345f3f16.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
