<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ای اے کی جانب سے تاریخ کی سب سے بڑی اسٹاک ریلیز کی تجویز، خام تیل کی قیمتیں گرگئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283755/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو مزید کمی واقع ہوئی کیونکہ ان رپورٹس نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا جن کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تنازع سے پیدا ہونے والے سپلائی کے ممکنہ تعطل کے پیشِ نظر اپنی تاریخ میں تیل کے ذخائر کو سب سے بڑی مقدار میں مارکیٹ میں لانے کی تجویز دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے 88 سینٹس یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 86.92 ڈالر فی بیرل پر  ریکارڈ کئے گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  35 سینٹس یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 83.1 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو دونوں معاہدوں میں 11 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ جو کہ 2022 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا فیصد تناسب سے گرنا ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کے ایک دن بعد، مارکیٹ کھلتے ہی امریکی خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے قبل پیر کے روز، ڈبلیو ٹی آئی  کی قیمت اچھل کر 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو جون 2022 کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وال اسٹریٹ جرنل  نے اس معاملے سے واقف حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی جانب سے تیل نکالنے کی یہ حالیہ تجویز 2022 میں ممبر ممالک کی جانب سے مارکیٹ میں لائے گئے 182 ملین بیرل تیل سے بھی زیادہ ہوگی، جو اس وقت روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد دو مراحل میں جاری کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا  کہ اتنی بڑی مقدار میں ذخائر کا مارکیٹ میں آنا خلیج سے برآمدات میں ہونے والے اس تعطل کا 12 دنوں تک مداوا کر سکے گا جس کا تخمینہ سرمایہ کاری بینک نے 15.4 ملین بیرل یومیہ لگایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، منگل کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ شدید ترین فضائی حملے کیے ہیں جنہیں پینٹاگون اور یرانیوں نے اب تک کی سب سے شدید بمباری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اس آبنائے میں بچھائی گئی کسی بھی بارودی سرنگ کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں  کو اپنی نگرانی میں گزارنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی بحریہ نے شپنگ انڈسٹری کی جانب سے فوجی نگرانی کی درخواستوں کو فی الحال مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونائیٹڈ اوورسیز بینک کے تجزیہ کاروں نے کلائنٹ نوٹ میں کہا ہے کہ پیر کو آنے والے شدید اچھال کے بعد تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے ساتھ واپس معمول پر آنے کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ مارکیٹیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھیں گی کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ توانائی کی قیمتیں کب تک بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جی سیون حکام نے تیل کی منڈیوں پر پڑنے والے شدید اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیل کے ذخائر کو مارکیٹ میں لانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے آن لائن اجلاس منعقد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بدھ کے روز جی سیون کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کال کی میزبانی کریں گے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے توانائی پر اثرات اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کچھ تجزیہ کار آئی ای اے کی تجویز کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسپارٹا کموڈٹیز کے سینئر تجزیہ کار فلپ جونز لکس نے ایک کلائنٹ نوٹ میں کہا کہ ابھی تک ذخائر جاری کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور ان ذخائر سے تیل نکالنے کی حتمی رفتار کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ ذخائر کی کل مقدار نہیں بلکہ ان سے تیل نکالنے کی وہ رفتار ہے جسے عملی طور پر حاصل کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی رسد میں تعطل کے خدشات برقرار&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ابوظہبی کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک نے ڈرون حملے کے بعد اپنے رویس ریفائنری کمپلیکس کی ایک تنصیب میں لگنے والی آگ کے باعث اسے بند کر دیا ہے، جو کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے توانائی کے ڈھانچے میں ہونے والے تعطل کا تازہ ترین واقعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری طرف  پشنگ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ سعودی عرب بحیرہ احمر  کے ذریعے سپلائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم یہ مقدار آبنائے ہرمز سے ہونے والی سپلائی میں کمی کے ازالے کے لیے درکار سطح سے اب بھی بہت کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مملکت اپنے پڑوسی ممالک عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیداوار میں کمی کے بعد، اپنی برآمدات بڑھانے اور پیداوار میں بڑی کٹوتی سے بچنے کے لیے ینبع کی بندرگاہ پر انحصار کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کے مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کا کہنا ہے کہ جنگ کی وجہ سے اس وقت مارکیٹ کو خلیجی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں یومیہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل کی کمی کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مورگن اسٹینلے  نے ایک نوٹ میں کہا کہ اگر جنگ کا فوری حل نکل بھی آئے، تب بھی توانائی کی منڈیوں میں کئی ہفتوں تک تعطل برقرار رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل، پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں بدھ کو مزید کمی واقع ہوئی کیونکہ ان رپورٹس نے مارکیٹ کے اعتماد کو متاثر کیا جن کے مطابق بین الاقوامی توانائی ایجنسی  نے ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کے تنازع سے پیدا ہونے والے سپلائی کے ممکنہ تعطل کے پیشِ نظر اپنی تاریخ میں تیل کے ذخائر کو سب سے بڑی مقدار میں مارکیٹ میں لانے کی تجویز دی ہے۔</strong></p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے 88 سینٹس یا ایک فیصد کمی کے ساتھ 86.92 ڈالر فی بیرل پر  ریکارڈ کئے گئے۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  35 سینٹس یا 0.4 فیصد کمی کے ساتھ 83.1 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔</p>
<p>منگل کو دونوں معاہدوں میں 11 فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ جو کہ 2022 کے بعد سے اب تک کا سب سے بڑا فیصد تناسب سے گرنا ہے اور صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے جلد خاتمے کی پیش گوئی کے ایک دن بعد، مارکیٹ کھلتے ہی امریکی خام تیل کی قیمتوں میں 5 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔ اس سے قبل پیر کے روز، ڈبلیو ٹی آئی  کی قیمت اچھل کر 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی تھی، جو جون 2022 کے بعد اس کی بلند ترین سطح تھی۔</p>
<p>وال اسٹریٹ جرنل  نے اس معاملے سے واقف حکام کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ انٹرنیشنل انرجی ایجنسی کی جانب سے تیل نکالنے کی یہ حالیہ تجویز 2022 میں ممبر ممالک کی جانب سے مارکیٹ میں لائے گئے 182 ملین بیرل تیل سے بھی زیادہ ہوگی، جو اس وقت روس کے یوکرین پر مکمل حملے کے بعد دو مراحل میں جاری کیے گئے تھے۔</p>
<p>گولڈمین سیکس کے تجزیہ کاروں نے ایک نوٹ میں کہا  کہ اتنی بڑی مقدار میں ذخائر کا مارکیٹ میں آنا خلیج سے برآمدات میں ہونے والے اس تعطل کا 12 دنوں تک مداوا کر سکے گا جس کا تخمینہ سرمایہ کاری بینک نے 15.4 ملین بیرل یومیہ لگایا ہے۔</p>
<p>دریں اثنا، منگل کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ شدید ترین فضائی حملے کیے ہیں جنہیں پینٹاگون اور یرانیوں نے اب تک کی سب سے شدید بمباری قرار دیا ہے۔</p>
<p>امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکی فوج نے منگل کے روز آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی بارودی سرنگیں بچھانے والی 16 کشتیوں کو تباہ کردیا ہے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے متنبہ کیا ہے کہ ایران کی جانب سے اس آبنائے میں بچھائی گئی کسی بھی بارودی سرنگ کو فوری طور پر ہٹایا جانا چاہیے۔</p>
<p>ٹرمپ نے بارہا کہا ہے کہ امریکہ ضرورت پڑنے پر آبنائے ہرمز سے تیل بردار بحری جہازوں  کو اپنی نگرانی میں گزارنے کے لیے تیار ہے۔ تاہم، ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ امریکی بحریہ نے شپنگ انڈسٹری کی جانب سے فوجی نگرانی کی درخواستوں کو فی الحال مسترد کر دیا ہے، کیونکہ اس وقت حملوں کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔</p>
<p>یونائیٹڈ اوورسیز بینک کے تجزیہ کاروں نے کلائنٹ نوٹ میں کہا ہے کہ پیر کو آنے والے شدید اچھال کے بعد تیل کی قیمتیں اتار چڑھاؤ کے ساتھ واپس معمول پر آنے کی جانب گامزن ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ توقع ہے کہ مارکیٹیں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر نظر رکھیں گی کیونکہ سرمایہ کار اس بات کا اندازہ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ توانائی کی قیمتیں کب تک بلند سطح پر رہ سکتی ہیں۔</p>
<p>جی سیون حکام نے تیل کی منڈیوں پر پڑنے والے شدید اثرات کو کم کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیل کے ذخائر کو مارکیٹ میں لانے کے معاملے پر تبادلہ خیال کے لیے آن لائن اجلاس منعقد کیا ہے۔</p>
<p>فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون بدھ کے روز جی سیون کے دیگر رہنماؤں کے ساتھ ایک ویڈیو کال کی میزبانی کریں گے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے توانائی پر اثرات اور اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔</p>
<p>کچھ تجزیہ کار آئی ای اے کی تجویز کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کر رہے ہیں۔</p>
<p>اسپارٹا کموڈٹیز کے سینئر تجزیہ کار فلپ جونز لکس نے ایک کلائنٹ نوٹ میں کہا کہ ابھی تک ذخائر جاری کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا اور ان ذخائر سے تیل نکالنے کی حتمی رفتار کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اصل مسئلہ ذخائر کی کل مقدار نہیں بلکہ ان سے تیل نکالنے کی وہ رفتار ہے جسے عملی طور پر حاصل کیا جا سکے۔</p>
<p><strong>تیل کی رسد میں تعطل کے خدشات برقرار</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق ابوظہبی کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک نے ڈرون حملے کے بعد اپنے رویس ریفائنری کمپلیکس کی ایک تنصیب میں لگنے والی آگ کے باعث اسے بند کر دیا ہے، جو کہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کی وجہ سے توانائی کے ڈھانچے میں ہونے والے تعطل کا تازہ ترین واقعہ ہے۔</p>
<p>دوسری طرف  پشنگ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ سعودی عرب بحیرہ احمر  کے ذریعے سپلائی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم یہ مقدار آبنائے ہرمز سے ہونے والی سپلائی میں کمی کے ازالے کے لیے درکار سطح سے اب بھی بہت کم ہے۔</p>
<p>مملکت اپنے پڑوسی ممالک عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے پیداوار میں کمی کے بعد، اپنی برآمدات بڑھانے اور پیداوار میں بڑی کٹوتی سے بچنے کے لیے ینبع کی بندرگاہ پر انحصار کر رہی ہے۔</p>
<p>توانائی کے مشاورتی ادارے ووڈ میکنزی کا کہنا ہے کہ جنگ کی وجہ سے اس وقت مارکیٹ کو خلیجی تیل اور پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی میں یومیہ تقریباً ایک کروڑ 50 لاکھ بیرل کی کمی کا سامنا ہے جس کے نتیجے میں خام تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔</p>
<p>مورگن اسٹینلے  نے ایک نوٹ میں کہا کہ اگر جنگ کا فوری حل نکل بھی آئے، تب بھی توانائی کی منڈیوں میں کئی ہفتوں تک تعطل برقرار رہنے کا امکان ہے۔</p>
<p>ادھر مارکیٹ ذرائع نے منگل کو امریکن پیٹرولیم انسٹی ٹیوٹ کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ بڑھتی ہوئی طلب کے پیشِ نظر گزشتہ ہفتے امریکہ میں خام تیل، پٹرول اور دیگر پٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283755</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 12:48:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1112442370582ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="174" width="290">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1112442370582ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
