<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ: بدلتی صورتحال میں ایک محتاط حکمتِ عملی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283751/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرِ صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،اگرچہ کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے بعد میکرو اکنامک صورتحال (مجموعی معاشی منظرنامہ) کافی غیر یقینی ہوگئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ یہ دلیل درست ہے کہ اس تنازع کی شدت اور دورانیہ پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے اہم تعین کنندہ ہوں گے، تاہم غیر یقینی کے لفظ کے استعمال پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی بڑی ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں نے پہلے ہی فورس میجر کا سہارا لے لیا ہے جو انہیں ان کے کنٹرول سے باہر حالات کی وجہ سے معاہدہ شدہ ذمہ داریوں سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ اس فہرست میں سعودی، اماراتی، کویتی اور قطری کمپنیاں شامل ہیں جو کہ پاکستان کو ایندھن فراہم کرنے والے اہم ترین ممالک ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری تنازع نے بانڈ ییلڈز میں خاطر خواہ اضافہ کردیا ہے جب کہ توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث مارکیٹیں مہنگائی میں شدید اضافے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز سے ٹھیک پہلے 60 ڈالر فی بیرل کے وسط میں تھیں جو اب 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مغرب میں فیوچرز مارکیٹس کے بارے میں توقعات کم کر دی گئی ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافہ ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں شرحِ سود کو مستحکم رکھنے کے لیے جو پانچ وجوہات بیان کی گئی ہیں، وہ ناقابلِ فہم (عقل سے بالاتر) ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلی وجہ یہ کہ مہنگائی جنوری میں 5.8 فیصد سے بڑھ کر فروری میں 7 فیصد تک پہنچ گئی، یعنی محض ایک ماہ میں 1.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ فیصلے سازی کے عمل میں تسلسل کے فقدان کو ظاہر کرنے کے لیے یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ 15 دسمبر 2025 کو مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی، حالانکہ اس وقت ہیڈ لائن انفلیشن (مہنگائی) میں صرف 0.5 فیصد کمی آئی تھی (نومبر میں 6.1 فیصد سے دسمبر میں 5.6 فیصد)۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پٹرول اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا بڑا اضافہ ملک کی خطِ غربت کو گزشتہ سال جون میں ورلڈ بینک کے لگائے گئے 44.7 فیصد کے تخمینے (جس میں 107.95 ملین افراد شامل تھے) سے بھی اوپر لے جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ بنیادی افراطِ زر (کور انفلیشن) بڑھ کر تقریباً 7.6 فیصد ہو گئی ہے، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا ماخذ (سورس) ظاہر نہیں کیا گیا، کیونکہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس  کے مطابق جنوری کی شرح 7.2 فیصد تھی جو گزشتہ ماہ شہری علاقوں کے لیے کم ہو کر 7.1 فیصد رہ گئی، جبکہ دیہی علاقوں کے لیے ان دو مہینوں میں یہ 8.3 فیصد پر برقرار رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری وجہ جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس (بچت) ہے، اگرچہ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ جولائی سے جنوری 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.1 ارب ڈالر رہا جب کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 20.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 15.9 ارب ڈالر تھا (اسی صورتحال نے اسٹیٹ بینک کو مجبور کیا کہ وہ زرمبادلہ  ذخائر کو سہارا دینے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی خریدے)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسری وجہ دسمبر 2025 تک بڑے پیمانے کی صنعت کاری (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کی نمو دیکھی گئی جب کہ سال کی پہلی ششماہی کیلئے مجموعی شرحِ نمو کا تخمینہ 4.8 فیصد لگایا گیا ہے، یہ ایک ایسی شرح ہے جسے صنعتی شعبہ چیلنج کررہا ہے۔ صنعت کاروں نے 150 فیکٹریوں کی بندش اور کثیر القومی کمپنیوں کے ملک سے اخراج کا حوالہ دیا ہے،ساتھ ہی پیداواری لاگت (بشمول شرحِ سود) میں کمی کا مطالبہ بھی زور پکڑرہا ہے تاکہ مقامی کمپنیاں علاقائی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھی وجہ اور جو بات اس سے بھی زیادہ ناقابلِ فہم ہے وہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ (ایم پی ایس) کا یہ دعویٰ ہے کہ ’فروری میں صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات اور اعتماد میں بہتری آئی جب کہ کاروباری طبقے کا اعتماد وسیع پیمانے پر مستحکم رہا، حالانکہ خود اسی بیان میں فروری کے دوران مہنگائی میں اضافے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے اور پانچویں وجہ؛ ٹیکس وصولیاں ہدف سے کم رہیں، جبکہ بیان میں نوٹ کیا گیا کہ جولائی سے فروری 2026 کے دوران وصولیوں میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا، یہ بذاتِ خود ایک ایسی کامیابی ہے جو حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان طے پانے والے غیر حقیقت پسندانہ اہداف کی نشاندہی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرحِ سود کو مستحکم رکھنے کی واحد وضاحت ان کالموں میں پہلے فراہم کردہ منطق کی ہی توثیق کرتی ہے، یعنی حکومت کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ (جو اس شرح کا بنیادی تعین کنندہ ہے جس پر نجی شعبہ قرض حاصل کرسکتا ہے اور جو بڑے پیمانے کی صنعت کاری کے لیے ایک اہم جزو ہے)۔ اس دباؤ کا مقصد نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینا ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی طرف سے دی جانے والی ترغیب یا دباؤ پر حاوی نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری نظرثانی کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے کہ مانیٹری پالیسی کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ افراطِ زر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف کے اندر رہے۔ اس صورت میں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع جاری رہتا ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ میں 150 سے 300 بیسس پوائنٹس (1.5 سے 3 فیصد) تک کا اضافہ کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آج تک آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو دی جانے والی اس تاکید پر عمل درآمد نہیں ہو سکا کہ انٹربینک فارن ایکسچینج  مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں جبکہ شرحِ مبادلہ میں لچک  برقرار رکھی جائے تاکہ شدید غیر یقینی صورتحال میں یہ شرحِ مبادلہ ہی ایک بنیادی شاک ایبزاربر (جھٹکے سہنے والے آلے) کے طور پر کام کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس بار کے فیصلے کو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے سامنے لچک کے فقدان کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو 2019 سے اب تک مزید جڑ پکڑ چکی ہے۔ اس کی وجہ پے در پے آنے والی حکومتوں کی جانب سے اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی ہے جس نے ملکی معیشت کو تیزی سے کمزور کر دیا ہے۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف نے بھی اصلاحات کیلئے کسی بھی ایسے مرحلہ وار طریقہ کار کی تجویز کو ماننے سے انکار کردیا ہے جو عام عوام پر کم بوجھ ڈالے اور سیاسی طور پر کم چیلنجنگ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرِ صدارت مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے شرحِ سود کو 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے،اگرچہ کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ چھڑنے کے بعد میکرو اکنامک صورتحال (مجموعی معاشی منظرنامہ) کافی غیر یقینی ہوگئی ہے۔</strong></p>
<p>اگرچہ یہ دلیل درست ہے کہ اس تنازع کی شدت اور دورانیہ پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے اثرات کے اہم تعین کنندہ ہوں گے، تاہم غیر یقینی کے لفظ کے استعمال پر اعتراض کیا جاسکتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خلیجی ممالک کی بڑی ایندھن فراہم کرنے والی کمپنیوں نے پہلے ہی فورس میجر کا سہارا لے لیا ہے جو انہیں ان کے کنٹرول سے باہر حالات کی وجہ سے معاہدہ شدہ ذمہ داریوں سے استثنیٰ فراہم کرتا ہے۔ اس فہرست میں سعودی، اماراتی، کویتی اور قطری کمپنیاں شامل ہیں جو کہ پاکستان کو ایندھن فراہم کرنے والے اہم ترین ممالک ہیں۔</p>
<p>جاری تنازع نے بانڈ ییلڈز میں خاطر خواہ اضافہ کردیا ہے جب کہ توانائی کی قیمتوں میں بڑے اضافے کے باعث مارکیٹیں مہنگائی میں شدید اضافے کے لیے تیار نظر آتی ہیں۔ یاد رہے کہ تیل کی قیمتیں جنگ کے آغاز سے ٹھیک پہلے 60 ڈالر فی بیرل کے وسط میں تھیں جو اب 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں اور مسلسل بڑھ رہی ہیں۔ مغرب میں فیوچرز مارکیٹس کے بارے میں توقعات کم کر دی گئی ہیں اور عام تاثر یہی ہے کہ عالمی سطح پر شرحِ سود میں اضافہ ہوگا۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں شرحِ سود کو مستحکم رکھنے کے لیے جو پانچ وجوہات بیان کی گئی ہیں، وہ ناقابلِ فہم (عقل سے بالاتر) ہیں۔</p>
<p>پہلی وجہ یہ کہ مہنگائی جنوری میں 5.8 فیصد سے بڑھ کر فروری میں 7 فیصد تک پہنچ گئی، یعنی محض ایک ماہ میں 1.2 فیصد کا اضافہ ہوا۔ فیصلے سازی کے عمل میں تسلسل کے فقدان کو ظاہر کرنے کے لیے یہ نوٹ کرنا ضروری ہے کہ 15 دسمبر 2025 کو مانیٹری پالیسی کمیٹی  نے پالیسی ریٹ میں 50 بیسس پوائنٹس کی کمی کی تھی، حالانکہ اس وقت ہیڈ لائن انفلیشن (مہنگائی) میں صرف 0.5 فیصد کمی آئی تھی (نومبر میں 6.1 فیصد سے دسمبر میں 5.6 فیصد)۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ پٹرول اور اس کی مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا بڑا اضافہ ملک کی خطِ غربت کو گزشتہ سال جون میں ورلڈ بینک کے لگائے گئے 44.7 فیصد کے تخمینے (جس میں 107.95 ملین افراد شامل تھے) سے بھی اوپر لے جائے گا۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ میں یہ بھی نوٹ کیا گیا ہے کہ بنیادی افراطِ زر (کور انفلیشن) بڑھ کر تقریباً 7.6 فیصد ہو گئی ہے، یہ ایک ایسا دعویٰ ہے جس کا ماخذ (سورس) ظاہر نہیں کیا گیا، کیونکہ پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس  کے مطابق جنوری کی شرح 7.2 فیصد تھی جو گزشتہ ماہ شہری علاقوں کے لیے کم ہو کر 7.1 فیصد رہ گئی، جبکہ دیہی علاقوں کے لیے ان دو مہینوں میں یہ 8.3 فیصد پر برقرار رہی۔</p>
<p>دوسری وجہ جنوری 2026 میں کرنٹ اکاؤنٹ کا سرپلس (بچت) ہے، اگرچہ اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ جولائی سے جنوری 2026 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 1.1 ارب ڈالر رہا جب کہ جاری مالی سال کے پہلے چھ ماہ میں تجارتی خسارہ بڑھ کر 20.5 ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو گزشتہ سال اسی مدت میں 15.9 ارب ڈالر تھا (اسی صورتحال نے اسٹیٹ بینک کو مجبور کیا کہ وہ زرمبادلہ  ذخائر کو سہارا دینے کے لیے انٹربینک مارکیٹ سے غیر ملکی کرنسی خریدے)۔</p>
<p>تیسری وجہ دسمبر 2025 تک بڑے پیمانے کی صنعت کاری (ایل ایس ایم) میں سالانہ بنیادوں پر 0.4 فیصد کی نمو دیکھی گئی جب کہ سال کی پہلی ششماہی کیلئے مجموعی شرحِ نمو کا تخمینہ 4.8 فیصد لگایا گیا ہے، یہ ایک ایسی شرح ہے جسے صنعتی شعبہ چیلنج کررہا ہے۔ صنعت کاروں نے 150 فیکٹریوں کی بندش اور کثیر القومی کمپنیوں کے ملک سے اخراج کا حوالہ دیا ہے،ساتھ ہی پیداواری لاگت (بشمول شرحِ سود) میں کمی کا مطالبہ بھی زور پکڑرہا ہے تاکہ مقامی کمپنیاں علاقائی سطح پر مقابلہ کرنے کے قابل ہوسکیں۔</p>
<p>چوتھی وجہ اور جو بات اس سے بھی زیادہ ناقابلِ فہم ہے وہ مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ (ایم پی ایس) کا یہ دعویٰ ہے کہ ’فروری میں صارفین کی مہنگائی سے متعلق توقعات اور اعتماد میں بہتری آئی جب کہ کاروباری طبقے کا اعتماد وسیع پیمانے پر مستحکم رہا، حالانکہ خود اسی بیان میں فروری کے دوران مہنگائی میں اضافے کا اعتراف بھی کیا گیا ہے اور پانچویں وجہ؛ ٹیکس وصولیاں ہدف سے کم رہیں، جبکہ بیان میں نوٹ کیا گیا کہ جولائی سے فروری 2026 کے دوران وصولیوں میں 10.6 فیصد اضافہ ہوا، یہ بذاتِ خود ایک ایسی کامیابی ہے جو حکام اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے درمیان طے پانے والے غیر حقیقت پسندانہ اہداف کی نشاندہی کرتی ہے۔</p>
<p>شرحِ سود کو مستحکم رکھنے کی واحد وضاحت ان کالموں میں پہلے فراہم کردہ منطق کی ہی توثیق کرتی ہے، یعنی حکومت کی جانب سے شرحِ سود میں کمی کے لیے ڈالا جانے والا دباؤ (جو اس شرح کا بنیادی تعین کنندہ ہے جس پر نجی شعبہ قرض حاصل کرسکتا ہے اور جو بڑے پیمانے کی صنعت کاری کے لیے ایک اہم جزو ہے)۔ اس دباؤ کا مقصد نجی شعبے کی ترقی کو فروغ دینا ہے، جو کہ آئی ایم ایف کی طرف سے دی جانے والی ترغیب یا دباؤ پر حاوی نظر آتا ہے۔</p>
<p>دوسری نظرثانی کی دستاویزات میں آئی ایم ایف نے یہ شرط رکھی ہے کہ مانیٹری پالیسی کو مناسب حد تک سخت اور ڈیٹا پر مبنی ہونا چاہیے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ افراطِ زر اسٹیٹ بینک کے مقرر کردہ ہدف کے اندر رہے۔ اس صورت میں کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع جاری رہتا ہے، تو اس میں کوئی شک نہیں کہ پالیسی ریٹ میں 150 سے 300 بیسس پوائنٹس (1.5 سے 3 فیصد) تک کا اضافہ کر دیا جائے گا۔</p>
<p>تاہم آج تک آئی ایم ایف کی جانب سے اسٹیٹ بینک کو دی جانے والی اس تاکید پر عمل درآمد نہیں ہو سکا کہ انٹربینک فارن ایکسچینج  مارکیٹ کو مزید وسعت دینے کی کوششیں جاری رکھی جائیں جبکہ شرحِ مبادلہ میں لچک  برقرار رکھی جائے تاکہ شدید غیر یقینی صورتحال میں یہ شرحِ مبادلہ ہی ایک بنیادی شاک ایبزاربر (جھٹکے سہنے والے آلے) کے طور پر کام کر سکے۔</p>
<p>مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اس بار کے فیصلے کو آئی ایم ایف کی سخت شرائط کے سامنے لچک کے فقدان کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، یہ ایک ایسی صورتحال ہے جو 2019 سے اب تک مزید جڑ پکڑ چکی ہے۔ اس کی وجہ پے در پے آنے والی حکومتوں کی جانب سے اصلاحات کے نفاذ میں ناکامی ہے جس نے ملکی معیشت کو تیزی سے کمزور کر دیا ہے۔ ساتھ ہی آئی ایم ایف نے بھی اصلاحات کیلئے کسی بھی ایسے مرحلہ وار طریقہ کار کی تجویز کو ماننے سے انکار کردیا ہے جو عام عوام پر کم بوجھ ڈالے اور سیاسی طور پر کم چیلنجنگ ہو۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283751</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 12:10:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/1112025758d7a9b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/1112025758d7a9b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
