<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:38:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ میں مندی، 100انڈیکس میں 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283748/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مندی کا رجحان رہا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سیشن کا آغاز مضبوط مثبت زون میں ہوا، انڈیکس مختصر وقت کے لیے 158,624.51 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا جو کہ آغاز میں سرمایہ کاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی کی نشاندہی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم تیزی کا یہ تسلسل مختصر ثابت ہوا کیونکہ جلد ہی منافع کی وصولی اور فروخت کا دباؤ ابھر کر سامنے آیا جس کے بعد بینچ مارک انڈیکس بتدریج تنزلی کا شکار ہوگیا اور مسلسل فروخت کے باعث نیچے گرتا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوپہر کے وقت مندی کی شدت میں اضافہ ہوا، جس نے مارکیٹ کو دن کی کم ترین سطح 155,652.35 پوائنٹس تک گرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 318.65 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 155,858.47 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر اپنے تبصرے میں کہا کہ ’پورے سیشن کے دوران مارکیٹ بڑی حد تک ایک مخصوص دائرہ کار میں رہی، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان ملا جلا رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ ، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ، میزان بینک لمیٹڈ اور ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ مندی کا شکار رہے جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے تقریباً 634 پوائنٹس کم کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بروکریج ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ، بینک الحبیب لمیٹڈ اور عسکری بینک لمیٹڈ کے حصص میں اضافے نے مارکیٹ کو جزوی سہارا فراہم کیا جس سے انڈیکس میں مجموعی طور پر 577 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منگل کو پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ (حصص بازار) میں زبردست بحالی دیکھی گئی، جہاں اہم شعبوں میں ہونے والی بھرپور خریداری نے بینچ مارک انڈیکس کو گزشتہ سیشن کے بڑے نقصان کا ایک بڑا حصہ پورا کرنے میں مدد دی۔ یہ تیزی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر سرمایہ کاروں کے نئے سرے سے پیدا ہونے والے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 9,696.97 پوائنٹس یا 6.62 فیصد کے نمایاں اضافے سے 156,177.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو عالمی حصص بازاروں (شیئرز) میں استحکام دیکھا گیا جس کی وجہ تیل کی قیمتوں میں آنے والی عارضی کمی ہے، تاہم مارکیٹیں اب بھی بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ سے ملنے والے متضاد اشاروں نے سرمایہ کاروں کو عالمی افراطِ زر اور شرحِ نمو پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کی تگ و دو میں ڈال رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی قیمتوں میں یہ مختصر مدت کی کمی وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد آئی جس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے اپنی تاریخ میں تیل کے ذخائر مارکیٹ میں لانے (ریلیز کرنے) کی سب سے بڑی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام سے شدید دباؤ کا شکار عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو کچھ ریلیف ملا جبکہ کرنسیوں اور بانڈز کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ خام تیل کے سودے نفع اور نقصان کے درمیان جھولتے رہے اور بالآخر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 87.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے جبکہ امریکی خام تیل 83.47 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہا، حالانکہ خبر سامنے آنے پر ابتدا میں اس کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے سرمایہ کاروں کو مسلسل بے چین رکھا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ حملے کیے جنہیں بعض مبصرین نے اس جنگ کی شدید ترین فضائی بمباری قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے باوجود عالمی حصص بازاروں (اسٹاکس) کو کچھ ریلیف ملا، جہاں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا جب کہ نکی 2.1 فیصد بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.2 فیصد کی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رات بھر کے ملے جلے کیش سیشن کے بعد امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی اضافہ ہوا، جس میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4، 0.4 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.3 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹیں اس وقت انتہائی تشویش کا شکار ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ تنازع عالمی توانائی کی تجارت کو منجمد کرنے اور قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے ٹالنے کیلئے عالمی رہنما سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں  معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کاروبار  کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.35 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسہ کا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو آل شیئر انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 486.52 ملین سے کم ہو کر 441.87 ملین رہ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 31.22 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 24.98 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینک آف پنجاب 37.71 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے بعد کےالیکٹرک 37.69 ملین اور سینرجیکو پی کے 27.35 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجموعی طور پر 477 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 216 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 201 میں کمی اور 60 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/11143019ded8279.webp'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/11143019ded8279.webp'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں بدھ کو مندی کا رجحان رہا جہاں بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 300 سے زائد پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی۔</strong></p>
<p>تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں سیشن کا آغاز مضبوط مثبت زون میں ہوا، انڈیکس مختصر وقت کے لیے 158,624.51 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک جا پہنچا جو کہ آغاز میں سرمایہ کاروں کی خریداری میں گہری دلچسپی کی نشاندہی کرتا ہے۔</p>
<p>تاہم تیزی کا یہ تسلسل مختصر ثابت ہوا کیونکہ جلد ہی منافع کی وصولی اور فروخت کا دباؤ ابھر کر سامنے آیا جس کے بعد بینچ مارک انڈیکس بتدریج تنزلی کا شکار ہوگیا اور مسلسل فروخت کے باعث نیچے گرتا رہا۔</p>
<p>دوپہر کے وقت مندی کی شدت میں اضافہ ہوا، جس نے مارکیٹ کو دن کی کم ترین سطح 155,652.35 پوائنٹس تک گرا دیا۔</p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک انڈیکس 318.65 پوائنٹس یا 0.20 فیصد کی کمی سے 155,858.47 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے مارکیٹ کے اختتام پر اپنے تبصرے میں کہا کہ ’پورے سیشن کے دوران مارکیٹ بڑی حد تک ایک مخصوص دائرہ کار میں رہی، کیونکہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ کے باعث سرمایہ کار محتاط رہے، جس کی وجہ سے مجموعی طور پر مارکیٹ کا رجحان ملا جلا رہا۔</p>
<p>یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ ، پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ ، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ کمپنی ، میزان بینک لمیٹڈ اور ماری پیٹرولیم کمپنی لمیٹڈ مندی کا شکار رہے جنہوں نے مجموعی طور پر بینچ مارک انڈیکس سے تقریباً 634 پوائنٹس کم کیے۔</p>
<p>بروکریج ہاؤس کی رپورٹ کے مطابق اینگرو ہولڈنگز لمیٹڈ، بینک الحبیب لمیٹڈ اور عسکری بینک لمیٹڈ کے حصص میں اضافے نے مارکیٹ کو جزوی سہارا فراہم کیا جس سے انڈیکس میں مجموعی طور پر 577 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>منگل کو پاکستان کی ایکویٹی مارکیٹ (حصص بازار) میں زبردست بحالی دیکھی گئی، جہاں اہم شعبوں میں ہونے والی بھرپور خریداری نے بینچ مارک انڈیکس کو گزشتہ سیشن کے بڑے نقصان کا ایک بڑا حصہ پورا کرنے میں مدد دی۔ یہ تیزی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر سرمایہ کاروں کے نئے سرے سے پیدا ہونے والے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔</p>
<p>گزشتہ روز بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 9,696.97 پوائنٹس یا 6.62 فیصد کے نمایاں اضافے سے 156,177.12 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بدھ کو عالمی حصص بازاروں (شیئرز) میں استحکام دیکھا گیا جس کی وجہ تیل کی قیمتوں میں آنے والی عارضی کمی ہے، تاہم مارکیٹیں اب بھی بے چینی کا شکار ہیں کیونکہ ایران کے خلاف امریکہ-اسرائیل جنگ سے ملنے والے متضاد اشاروں نے سرمایہ کاروں کو عالمی افراطِ زر اور شرحِ نمو پر اس کے اثرات کا اندازہ لگانے کی تگ و دو میں ڈال رکھا ہے۔</p>
<p>تیل کی قیمتوں میں یہ مختصر مدت کی کمی وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کے بعد آئی جس میں بتایا گیا کہ بین الاقوامی توانائی ایجنسی نے خام تیل کی قیمتوں کو نیچے لانے کے لیے اپنی تاریخ میں تیل کے ذخائر مارکیٹ میں لانے (ریلیز کرنے) کی سب سے بڑی تجویز پیش کی ہے۔ اس اقدام سے شدید دباؤ کا شکار عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو کچھ ریلیف ملا جبکہ کرنسیوں اور بانڈز کی صورتحال میں کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی گئی۔</p>
<p>برینٹ خام تیل کے سودے نفع اور نقصان کے درمیان جھولتے رہے اور بالآخر 0.2 فیصد اضافے کے ساتھ 87.89 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوئے جبکہ امریکی خام تیل 83.47 ڈالر فی بیرل پر تقریباً مستحکم رہا، حالانکہ خبر سامنے آنے پر ابتدا میں اس کی قیمتوں میں کمی دیکھی گئی تھی۔</p>
<p>مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع نے سرمایہ کاروں کو مسلسل بے چین رکھا، کیونکہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر وہ حملے کیے جنہیں بعض مبصرین نے اس جنگ کی شدید ترین فضائی بمباری قرار دیا ہے۔</p>
<p>اس کے باوجود عالمی حصص بازاروں (اسٹاکس) کو کچھ ریلیف ملا، جہاں جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک حصص کے ایم ایس سی آئی کے وسیع ترین انڈیکس میں 1.6 فیصد اضافہ ہوا جب کہ نکی 2.1 فیصد بڑھ گیا۔</p>
<p>جنوبی کوریا کے کوسپی انڈیکس میں 3.2 فیصد کی نمایاں تیزی دیکھی گئی۔</p>
<p>رات بھر کے ملے جلے کیش سیشن کے بعد امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی اضافہ ہوا، جس میں نیسڈیک اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.4، 0.4 فیصد کی بہتری ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>یورو اسٹوکس 50 فیوچرز میں 0.3 فیصد کی معمولی کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>مارکیٹیں اس وقت انتہائی تشویش کا شکار ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کا یہ تنازع عالمی توانائی کی تجارت کو منجمد کرنے اور قیمتوں میں اچانک بڑے اضافے کا خطرہ پیدا کر رہا ہے، یہ ایک ایسا خطرہ ہے جسے ٹالنے کیلئے عالمی رہنما سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں۔</p>
<p>دریں اثناء انٹر بینک مارکیٹ میں بدھ کو امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ کی قدر میں  معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ کاروبار  کے اختتام پر مقامی کرنسی 279.35 روپے پر بند ہوئی، جو ڈالر کے مقابلے میں ایک پیسہ کا اضافہ ہے۔</p>
<p>بدھ کو آل شیئر انڈیکس پر حصص کی تجارت کا حجم گزشتہ سیشن کے 486.52 ملین سے کم ہو کر 441.87 ملین رہ گیا۔</p>
<p>اسی طرح حصص کی مالیت بھی گزشتہ سیشن کے 31.22 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہو کر 24.98 ارب روپے ریکارڈ کی گئی۔</p>
<p>بینک آف پنجاب 37.71 ملین حصص کے ساتھ حجم کے لحاظ سے سرفہرست رہا، جس کے بعد کےالیکٹرک 37.69 ملین اور سینرجیکو پی کے 27.35 ملین حصص کے ساتھ نمایاں رہے۔</p>
<p>مجموعی طور پر 477 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا جس میں سے 216 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ، 201 میں کمی اور 60 کی قیمتیں مستحکم رہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/11143019ded8279.webp'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/large/2026/03/11143019ded8279.webp'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283748</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 23:19:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11112556cf0fea1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11112556cf0fea1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
