<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:33:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم نے ٹیکس وصولی کے نفاذ کو سخت کرنے کا حکم دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283739/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ملک کے سب سے پیداواری شعبوں میں جدید اور خودکار نگرانی کے ذریعے ٹیکس وصولی کو سخت کرنے پر زور دیا تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے اور ریاست کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیدرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی ایگزیکٹو ٹیم میں ماہرین کی بھرتی کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ یہ ادارہ ٹیکس کی تعمیل کی نگرانی میں ایک فعال اور پیش قدم کردار ادا کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور آمدنی میں اضافے کے لیے ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے بھی کہا کہ ملک میں تیار ہونے والی تمام ادویات کی سیریلائزیشن کو تیز کیا جائے اور اہم ٹیکس دہندگان کے نظام بشمول آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ پلیٹ فارم، آئرس، اور متعلقہ ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں دستیاب بنایا جائے تاکہ عوام کی شمولیت بڑھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں ایف بی آر کے حکام نے وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی کہ کس طرح جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی اور ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق شوگر، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کی فیکٹریوں میں ویڈیو اینالٹکس، یونٹ کاؤنٹنگ، بارکوڈ اسکیننگ، اسٹیمپنگ اور سیریلائزیشن تکنیک استعمال کی جا رہی ہیں، جس کے ابتدائی نتائج ٹیکس آمدنی میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ ان اقدامات کو ٹیکسٹائل، چمڑا، کاغذ، آٹوموبائل اور مشروبات کے شعبوں تک وسعت دی جا رہی ہے، جس سے اربوں روپے کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔ متبادل تنازعہ کمیٹیوں کے قانون میں ترامیم بھی شفافیت اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی کے لیے کی گئی ہیں، اور حکومت 30 جون 2026 تک 80 ارب روپے کی آمدنی کی توقع رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ایف بی آر کے ٹیکس مقدمات پر فیصلوں سے 102.9 ارب روپے حاصل ہوئے، اور زیر التوا مقدمات سے جون 2026 تک مزید 369 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹو ٹیم مکمل طور پر فعال ہے اور اس کا ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم جنوری اور فروری میں 800 ارب روپے کے لین دین کو پروسیس کر چکا ہے۔ حکومت اپریل تک 3 کھرب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہدف کے حصول کے راستے پر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے نئے ڈیٹا سینٹر کو جدید ضروریات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ حکام نے اسمگلنگ روکنے کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ سسٹم، خاص طور پر ای-بلٹی پلیٹ فارم، اور پٹرولیم مصنوعات کے لیے مربوط جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم کے تعارف پر بھی روشنی ڈالی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد چیما، مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، شیزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور اعوان، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم شہباز شریف نے منگل کو ملک کے سب سے پیداواری شعبوں میں جدید اور خودکار نگرانی کے ذریعے ٹیکس وصولی کو سخت کرنے پر زور دیا تاکہ ٹیکس چوری کو روکا جا سکے اور ریاست کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>فیدرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) کے امور پر ہفتہ وار جائزہ اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی ایگزیکٹو ٹیم میں ماہرین کی بھرتی کا خیرمقدم کیا اور زور دیا کہ یہ ادارہ ٹیکس کی تعمیل کی نگرانی میں ایک فعال اور پیش قدم کردار ادا کرے۔</p>
<p>وزیراعظم نے کہا کہ شفافیت، جوابدہی اور آمدنی میں اضافے کے لیے ٹیکنالوجی کا زیادہ سے زیادہ استعمال یقینی بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان سے بھی کہا کہ ملک میں تیار ہونے والی تمام ادویات کی سیریلائزیشن کو تیز کیا جائے اور اہم ٹیکس دہندگان کے نظام بشمول آٹو ٹیکس سسٹم، ڈیجیٹل انوائسنگ پلیٹ فارم، آئرس، اور متعلقہ ایپلیکیشنز کو اردو اور دیگر علاقائی زبانوں میں دستیاب بنایا جائے تاکہ عوام کی شمولیت بڑھے۔</p>
<p>اجلاس میں ایف بی آر کے حکام نے وزیر اعظم کو تفصیلی بریفنگ دی کہ کس طرح جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی نظام مختلف شعبوں میں پیداوار کی نگرانی اور ٹیکس کی وصولی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ حکام کے مطابق شوگر، سیمنٹ، سگریٹ اور کھاد کی فیکٹریوں میں ویڈیو اینالٹکس، یونٹ کاؤنٹنگ، بارکوڈ اسکیننگ، اسٹیمپنگ اور سیریلائزیشن تکنیک استعمال کی جا رہی ہیں، جس کے ابتدائی نتائج ٹیکس آمدنی میں اضافے کا سبب بنے ہیں۔</p>
<p>حکام نے بتایا کہ ان اقدامات کو ٹیکسٹائل، چمڑا، کاغذ، آٹوموبائل اور مشروبات کے شعبوں تک وسعت دی جا رہی ہے، جس سے اربوں روپے کی اضافی آمدنی متوقع ہے۔ متبادل تنازعہ کمیٹیوں کے قانون میں ترامیم بھی شفافیت اور ٹیکس دہندگان کے اعتماد کی بحالی کے لیے کی گئی ہیں، اور حکومت 30 جون 2026 تک 80 ارب روپے کی آمدنی کی توقع رکھتی ہے۔</p>
<p>جولائی 2025 سے جنوری 2026 کے درمیان ایف بی آر کے ٹیکس مقدمات پر فیصلوں سے 102.9 ارب روپے حاصل ہوئے، اور زیر التوا مقدمات سے جون 2026 تک مزید 369 ارب روپے کی آمدنی متوقع ہے۔</p>
<p>وزیراعظم کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ریونیو آٹومیشن لمیٹڈ کی نئی ایگزیکٹو ٹیم مکمل طور پر فعال ہے اور اس کا ڈیجیٹل انوائسنگ سسٹم جنوری اور فروری میں 800 ارب روپے کے لین دین کو پروسیس کر چکا ہے۔ حکومت اپریل تک 3 کھرب روپے کے ڈیجیٹل انوائسنگ ہدف کے حصول کے راستے پر ہے۔</p>
<p>ایف بی آر کے نئے ڈیٹا سینٹر کو جدید ضروریات کے مطابق مکمل کیا گیا ہے۔ حکام نے اسمگلنگ روکنے کے لیے ڈیجیٹل کارگو ٹریکنگ سسٹم، خاص طور پر ای-بلٹی پلیٹ فارم، اور پٹرولیم مصنوعات کے لیے مربوط جی پی ایس ٹریکنگ سسٹم کے تعارف پر بھی روشنی ڈالی۔</p>
<p>اجلاس میں وفاقی وزراء محمد اورنگزیب، احد چیما، مصدق ملک، عطا اللہ تارڑ، شیزہ فاطمہ خواجہ، علی پرویز ملک، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، اٹارنی جنرل برائے پاکستان منصور اعوان، ایف بی آر کے چیئرمین راشد لنگڑیال اور متعلقہ اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283739</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 09:14:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/110912427c2db11.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/110912427c2db11.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
