<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی ادارہ صحت نے ایران میں بلیک رین سے خطرات کی وارننگ جاری کر دی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283737/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ہونے والی بلیک رین اور فضا میں موجود زہریلے مرکبات عوام کے لیے سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادارے نے ایرانی حکام کی اس ہدایت کی بھی حمایت کی ہے جس میں لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسچین لنڈمائیر نے جنیوا میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس ہفتے ادارے کو کئی ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں تیل سے آلودہ بارش کی اطلاع دی گئی ہے۔ پیر کے روز تہران میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد شہر سیاہ دھوئیں سے بھر گیا تھا، جس سے فضا کی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسچین لنڈمائیر کے مطابق بلیک رین اور اس کے ساتھ آنے والی تیزابی بارش عوام کے لیے خطرناک ہے اور اس سے بالخصوص سانس کی تکالیف پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور ریفائنریوں پر حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑکنے سے فضا میں زہریلے ہائیڈروکاربن، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن مرکبات کی بڑی مقدار خارج ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق اس دھوئیں یا ذرات کو سانس کے ذریعے اندر لینا یا جلد کے ساتھ رابطہ سر درد، آنکھوں اور جلد میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ طویل عرصے تک ایسے مرکبات کے اثر میں رہنے سے بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بلیک رین دراصل موسمی نظام کے باعث پیدا ہوئی جس میں بارش ہوا میں موجود ذرات کے ساتھ مل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ لوگ گھروں کے اندر رہ کر، ماسک استعمال کر کے اور کھلی جگہوں پر جلد کو ڈھانپ کر اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید حملے نہ ہوئے تو وقت کے ساتھ فضا کا معیار بہتر ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>عالمی ادارہ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ایران میں تیل کی تنصیبات پر حملوں کے بعد ہونے والی بلیک رین اور فضا میں موجود زہریلے مرکبات عوام کے لیے سانس کی بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں۔ ادارے نے ایرانی حکام کی اس ہدایت کی بھی حمایت کی ہے جس میں لوگوں کو گھروں کے اندر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی ادارہ صحت کے ترجمان کرسچین لنڈمائیر نے جنیوا میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ اس ہفتے ادارے کو کئی ایسی رپورٹس موصول ہوئی ہیں جن میں تیل سے آلودہ بارش کی اطلاع دی گئی ہے۔ پیر کے روز تہران میں ایک آئل ریفائنری پر حملے کے بعد شہر سیاہ دھوئیں سے بھر گیا تھا، جس سے فضا کی آلودگی میں شدید اضافہ ہوا۔</p>
<p>کرسچین لنڈمائیر کے مطابق بلیک رین اور اس کے ساتھ آنے والی تیزابی بارش عوام کے لیے خطرناک ہے اور اس سے بالخصوص سانس کی تکالیف پیدا ہو سکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات اور ریفائنریوں پر حملوں کے نتیجے میں آگ بھڑکنے سے فضا میں زہریلے ہائیڈروکاربن، سلفر آکسائیڈز اور نائٹروجن مرکبات کی بڑی مقدار خارج ہوئی ہے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق اس دھوئیں یا ذرات کو سانس کے ذریعے اندر لینا یا جلد کے ساتھ رابطہ سر درد، آنکھوں اور جلد میں جلن اور سانس لینے میں دشواری کا سبب بن سکتا ہے، جبکہ طویل عرصے تک ایسے مرکبات کے اثر میں رہنے سے بعض اقسام کے کینسر کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ بلیک رین دراصل موسمی نظام کے باعث پیدا ہوئی جس میں بارش ہوا میں موجود ذرات کے ساتھ مل گئی۔</p>
<p>ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ لوگ گھروں کے اندر رہ کر، ماسک استعمال کر کے اور کھلی جگہوں پر جلد کو ڈھانپ کر اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر مزید حملے نہ ہوئے تو وقت کے ساتھ فضا کا معیار بہتر ہونے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283737</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 09:02:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/110858355afb26d.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/110858355afb26d.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
