<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:01:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی حفاظت کیوں مشکل ہے؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283736/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے منگل کو کہا کہ پینٹاگون اس اہم گزرگاہ میں جہازوں کی حفاظت کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، تاہم ایران جو اس کے شمالی ساحل پر واقع ہے، نے مؤثر طور پر اس گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اس راستے سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں 97 فیصد کمی آچکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کی کوشش ہے کہ عالمی تیل منڈیوں کو پرسکون رکھا جائے کیونکہ طویل جنگ عالمی توانائی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج اور خلیج عمان کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ ہے اور کویت، ایران، عراق، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کے لیے سمندر تک واحد راستہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر قیمتیں زیادہ رہیں تو دنیا کو مہنگائی کے ایک اور بحران کا سامنا ہو سکتا ہے جیسا کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل تنازع عالمی خوراک کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 33 فیصد کھادیں، جن میں سلفر اور امونیا شامل ہیں، اسی گزرگاہ سے گزرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم 11 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ بڑھتے خطرات کے باعث انشورنس کمپنیوں نے پریمیم میں 300 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تر بحری ٹریفک رک گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بتایا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک مشترکہ مشن پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تنگ سمندری راستے کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ جہازوں کے راستے بہت محدود ہیں اور ایرانی افواج کے پاس ڈرونز، تیز رفتار کشتیاں، بارودی سرنگیں اور دیگر ہتھیار موجود ہیں جو کسی بھی کارروائی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کے طریقوں پر غور کر رہا ہے۔ امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین جنرل ڈین کین نے منگل کو کہا کہ پینٹاگون اس اہم گزرگاہ میں جہازوں کی حفاظت کے مختلف آپشنز کا جائزہ لے رہا ہے۔</strong></p>
<p>عالمی سطح پر تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً پانچویں حصہ عام طور پر آبنائے ہرمز سے گزرتا ہے، تاہم ایران جو اس کے شمالی ساحل پر واقع ہے، نے مؤثر طور پر اس گزرگاہ کو بند کر دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے کے بعد اس راستے سے گزرنے والی بحری ٹریفک میں 97 فیصد کمی آچکی ہے۔</p>
<p>امریکہ کی کوشش ہے کہ عالمی تیل منڈیوں کو پرسکون رکھا جائے کیونکہ طویل جنگ عالمی توانائی بحران کا باعث بن سکتی ہے۔ آبنائے ہرمز خلیج اور خلیج عمان کو ملانے والا تنگ سمندری راستہ ہے اور کویت، ایران، عراق، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے تیل و گیس پیدا کرنے والے ممالک کے لیے سمندر تک واحد راستہ ہے۔</p>
<p>پیر کے روز تیل کی قیمتیں عارضی طور پر 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک پہنچ گئیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگر قیمتیں زیادہ رہیں تو دنیا کو مہنگائی کے ایک اور بحران کا سامنا ہو سکتا ہے جیسا کہ 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد دیکھا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ طویل تنازع عالمی خوراک کے نظام کو بھی متاثر کر سکتا ہے کیونکہ دنیا کی تقریباً 33 فیصد کھادیں، جن میں سلفر اور امونیا شامل ہیں، اسی گزرگاہ سے گزرتی ہیں۔</p>
<p>ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے اور جنگ شروع ہونے کے بعد کم از کم 11 جہازوں پر حملے ہو چکے ہیں۔ بڑھتے خطرات کے باعث انشورنس کمپنیوں نے پریمیم میں 300 فیصد تک اضافہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں زیادہ تر بحری ٹریفک رک گئی ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ امریکہ آئل ٹینکروں کو تحفظ فراہم کرے گا، جبکہ فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے بتایا کہ یورپی اور ایشیائی ممالک مشترکہ مشن پر غور کر رہے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق اس تنگ سمندری راستے کو محفوظ بنانا انتہائی مشکل ہے کیونکہ جہازوں کے راستے بہت محدود ہیں اور ایرانی افواج کے پاس ڈرونز، تیز رفتار کشتیاں، بارودی سرنگیں اور دیگر ہتھیار موجود ہیں جو کسی بھی کارروائی کو پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283736</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 08:53:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/11085133408eeb1.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/11085133408eeb1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
