<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران کے معاملے پر پیوٹن کی تجاویز اب بھی میز پر ہیں، کریملن کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283732/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے تنازع میں ثالثی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں اور یہ تجاویز اب بھی زیرِ غور ہیں، یہ بات کریملن نے منگل کے روز کہی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ” اس صورتحال کے آغاز سے ہی، حتیٰ کہ فوجی مرحلہ شروع ہونے سے پہلے بھی، صدر پیوٹن نے ہماری ثالثی اور نیک خدمات کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے تھے جو کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتے تھے۔ ان میں سے بہت سی تجاویز اب بھی میز پر ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ” روس اپنی پوری صلاحیت کے مطابق مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور ایسا کرنے میں خوشی محسوس کرے گا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ اس کے لیے متعدد مفاہمتوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوگی، اس لیے ہمیں کچھ صبر کرنا ہوگا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیسکوف یہ بیان ایک روز بعد دے رہے تھے جب پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور کریملن کے مطابق ایران کی جنگ جلد ختم کرنے کے مقصد سے اپنی تجاویز شیئر کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیسکوف نے ان تجاویز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ولادیمیر پوٹن ایران کے تنازع کے معاملے میں ”مددگار بننا چاہتے ہیں“، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کریملن کے رہنما سے کہا کہ ”آپ زیادہ مددگار اس طرح ہو سکتے ہیں کہ یوکرین-روس جنگ کو ختم کر دیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس، جس کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ ہے، نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی مذمت کی ہے۔ تاہم ایک بڑے توانائی برآمد کنندہ کی حیثیت سے روس کو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے فائدہ بھی ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ انہوں نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو انٹیلی جنس فراہم نہ کرے، اس کے بعد کہ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ ماسکو تہران کو ہدفی معلومات فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر حملوں میں مدد حاصل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس ایسی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کر رہا اور یہ بتانے سے بھی گریز کیا کہ آیا پیوٹن اور ٹرمپ ٹیلیفونک گفتگو میں یہ معاملہ زیرِ بحث آیا تھا یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وٹکوف کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ”میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اسٹیو وٹکوف واقعی اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، اور یہ مواصلاتی چینل انہیں انتہائی حساس معاملات پر ایک دوسرے تک پیغامات پہنچانے کی اجازت دیتا ہے۔“&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے تنازع میں ثالثی کے لیے مختلف تجاویز پیش کی ہیں اور یہ تجاویز اب بھی زیرِ غور ہیں، یہ بات کریملن نے منگل کے روز کہی ہے۔</strong></p>
<p>کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ” اس صورتحال کے آغاز سے ہی، حتیٰ کہ فوجی مرحلہ شروع ہونے سے پہلے بھی، صدر پیوٹن نے ہماری ثالثی اور نیک خدمات کے لیے مختلف آپشنز پیش کیے تھے جو کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتے تھے۔ ان میں سے بہت سی تجاویز اب بھی میز پر ہیں۔“</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ” روس اپنی پوری صلاحیت کے مطابق مدد کرنے کے لیے تیار ہے اور ایسا کرنے میں خوشی محسوس کرے گا، لیکن آپ جانتے ہیں کہ اس کے لیے متعدد مفاہمتوں اور معاہدوں کی ضرورت ہوگی، اس لیے ہمیں کچھ صبر کرنا ہوگا۔“</p>
<p>پیسکوف یہ بیان ایک روز بعد دے رہے تھے جب پوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات کی اور کریملن کے مطابق ایران کی جنگ جلد ختم کرنے کے مقصد سے اپنی تجاویز شیئر کیں۔</p>
<p>پیسکوف نے ان تجاویز کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔</p>
<p>اپنی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ولادیمیر پوٹن ایران کے تنازع کے معاملے میں ”مددگار بننا چاہتے ہیں“، تاہم ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کریملن کے رہنما سے کہا کہ ”آپ زیادہ مددگار اس طرح ہو سکتے ہیں کہ یوکرین-روس جنگ کو ختم کر دیں۔“</p>
<p>روس، جس کا ایران کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری کا معاہدہ ہے، نے 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف شروع کی گئی جنگ کی مذمت کی ہے۔ تاہم ایک بڑے توانائی برآمد کنندہ کی حیثیت سے روس کو اس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے فائدہ بھی ہوا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کے ایلچی اسٹیو وٹکوف نے ہفتے کے آخر میں کہا کہ انہوں نے روس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران کو انٹیلی جنس فراہم نہ کرے، اس کے بعد کہ واشنگٹن پوسٹ نے رپورٹ کیا تھا کہ ماسکو تہران کو ہدفی معلومات فراہم کر رہا ہے تاکہ وہ مشرق وسطیٰ میں امریکی افواج پر حملوں میں مدد حاصل کر سکے۔</p>
<p>کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے کہا کہ روس ایسی رپورٹس پر تبصرہ نہیں کر رہا اور یہ بتانے سے بھی گریز کیا کہ آیا پیوٹن اور ٹرمپ ٹیلیفونک گفتگو میں یہ معاملہ زیرِ بحث آیا تھا یا نہیں۔</p>
<p>وٹکوف کے بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ ”میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اسٹیو وٹکوف واقعی اپنے روسی ہم منصبوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں، اور یہ مواصلاتی چینل انہیں انتہائی حساس معاملات پر ایک دوسرے تک پیغامات پہنچانے کی اجازت دیتا ہے۔“</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283732</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 22:10:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/102158448c38e37.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/102158448c38e37.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
