<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:50:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکہ ایران پر حملوں میں شدت لا رہا ہے، سربراہ پینٹاگون</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283729/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں منگل کا دن حملوں کی شدت کے لحاظ سے اب تک کا سب سے بھاری دن ہو گا اور یہ کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہیں گے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہیگستھ نے واضح کیا کہ جنگ کے دورانیے کا فیصلہ مکمل طور پر صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، وہی  تھروٹل (رفتار) کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس موقع پر امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس تنازع کا ایک بڑا ہدف ایرانی بحریہ کی مکمل تباہی ہے، جس کے لیے توپ خانے، بمبار طیاروں اور سمندر سے مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران نے جنگ کے دوران خلیج سے تیل کی تمام برآمدات روکنے کی دھمکی دی ہے، جس کے جواب میں ٹرمپ نے تباہی اور غیظ و غضب کا انتباہ جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی حکام نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے راکٹ لانچرز کو شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے قریب منتقل کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوبی شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے جس میں ایران کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شاید ایران نے خود ہی وہاں ٹوم ہاک  میزائل داغ دیا ہو۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ٹوم ہاک ایک امریکی ہتھیار ہے جو ایران کے پاس موجود ہی نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے اعلان کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں منگل کا دن حملوں کی شدت کے لحاظ سے اب تک کا سب سے بھاری دن ہو گا اور یہ کارروائی تب تک جاری رہے گی جب تک صدر ڈونلڈ ٹرمپ چاہیں گے۔</strong></p>
<p>پینٹاگون میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ہیگستھ نے واضح کیا کہ جنگ کے دورانیے کا فیصلہ مکمل طور پر صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، وہی  تھروٹل (رفتار) کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس موقع پر امریکی جنرل ڈین کین نے بتایا کہ اس تنازع کا ایک بڑا ہدف ایرانی بحریہ کی مکمل تباہی ہے، جس کے لیے توپ خانے، بمبار طیاروں اور سمندر سے مار کرنے والے میزائلوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>ایران نے جنگ کے دوران خلیج سے تیل کی تمام برآمدات روکنے کی دھمکی دی ہے، جس کے جواب میں ٹرمپ نے تباہی اور غیظ و غضب کا انتباہ جاری کیا ہے۔</p>
<p>امریکی حکام نے ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ جوابی کارروائی سے بچنے کے لیے راکٹ لانچرز کو شہری علاقوں، اسکولوں اور اسپتالوں کے قریب منتقل کر رہا ہے۔</p>
<p>جنوبی شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر حملے جس میں ایران کے مطابق 150 سے زائد افراد ہلاک ہوئے کے حوالے سے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ شاید ایران نے خود ہی وہاں ٹوم ہاک  میزائل داغ دیا ہو۔ تاہم یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ٹوم ہاک ایک امریکی ہتھیار ہے جو ایران کے پاس موجود ہی نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283729</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 20:21:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10200407b7e11c3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10200407b7e11c3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
