<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 08:48:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی عالمی بدنظمی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283722/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر کے طور پر اپنی دوسری مدت کے صرف ایک سال میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے نام نہاد ’قواعد پر مبنی بین الاقوامی آرڈر‘ کو جڑوں تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ’نام نہاد‘ کیونکہ عملی طور پر، قوانین امریکہ کی قیادت میں مغرب کے حق میں اور ان تمام ممالک کے خلاف بنائے گئے تھے جنہوں نے سابق کی مرضی سے انکار کرنے کی جرات کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ عالمی نظام بظاہر کچھ ’اصولوں‘ کے پردے میں کام کرتا تھا، جنہیں عالمی طاقتیں اس وقت پیش کرتی تھیں جب یہ ان کے مفاد میں ہوتا، اور جب ایسا نہ ہوتا تو انہی اصولوں کو آسانی سے نظرانداز یا فراموش کر دیا جاتا۔ یہ پردہ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے چاک کر کے تار تار کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا سے لے کر، جس کا مقصد دراصل اس ملک کے تیل پر دوبارہ قبضہ جمانا بتایا جاتا ہے، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی، کیوبا کی سوشلسٹ حکومت کے خاتمے کی بات، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کو اسرائیل کے حق میں ڈھال کر عملاً ہائی جیک کرنا، یورپ کو فوجی حمایت میں کمی کے اشارے دینا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اب یورپی ممالک کو کم دفاعی اخراجات کی آسائش حاصل نہیں رہے گی، اور ایران کے خلاف (اسرائیلی تعاون کے ساتھ) فوجی کارروائی کی دھمکی دینا اگر وہ واشنگٹن کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہ ہو، ان سب اقدامات کے ذریعے ٹرمپ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والے بین الاقوامی تعلقات کے اس ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس نے کسی حد تک دنیا کے نظام کو چلائے رکھا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن یہ غلطی ہوگی کہ عالمی بالادستی کے لیے امریکہ کی اب کھل کر سامنے آ جانے والی کوششوں اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو صرف ٹرمپ کے دور تک محدود سمجھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد واشنگٹن کو محسوس ہوا کہ اس کے لیے اپنی فتح مندانہ حکمتِ عملی کے اہداف حاصل کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ 1973 کی عرب  اور اسرائیل جنگ کے بعد ہی عرب ممالک کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست سامنے آنا شروع ہوگئی تھی جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور اسے تسلیم کرنے کے خواہاں تھے، جس کی ابتدا انور سادات کے دور کے مصر سے ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خلیجی عرب ریاستیں بھی اس سلسلے میں شامل ہونے پر آمادہ تھیں، تاہم وہ ایسے حالات کا انتظار کرتی رہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر واپسی کی راہ ہموار کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تین عرب ریاستوں کو ایسے ممالک کے طور پر شناخت کیا گیا جو اس عمل میں شامل ہونے سے گریزاں تھے، لیبیا، عراق اور شام۔ اب تک ان تینوں کو امریکہ کی براہِ راست اور بالواسطہ فوجی جارحیت، ناکام رجیم چینج کی کوششوں اور اس کے نتیجے میں طویل داخلی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ البتہ اس سے امریکہ کے ماضی یا حال کے صدور کو زیادہ فرق نہیں پڑا، کیونکہ واشنگٹن کے نقطۂ نظر میں ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کی جانیں بآسانی قربان کی جا سکنے والی سمجھی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جب حماس نے 2023 میں اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا تو اس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی مہم نے ’محورِ مزاحمت‘ کو نمایاں کر دیا، جس کے مرکز میں ایران ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس صف میں شامل ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی، 2023 سے پہلے بھی اور آج تک، مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں کی ناپسندیدہ اور جارحانہ سرگرمیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2023 کے بعد کی کشمکش کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہ یہ محورِ مزاحمت مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ جنونیت اور امریکہ کی عالمی بالادستی کی کوششوں (جس میں تیل مرکزی کردار رکھتا ہے) کی راہ میں آخری رکاوٹ ہے، ان دونوں ’جرم میں شریک اتحادیوں‘ نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی فوجی حملہ شروع کر دیا ہے۔ اس حملے میں نہ صرف ایرانی قیادت (آیت اللہ علی خامنہ ای)، بلکہ اس کی فوج، معیشت، شہری ڈھانچے اور حتیٰ کہ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے دوسرے ہفتے تک مسلسل بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں، بلکہ ممکنہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ ایران کی مؤثر دفاعی جوابی کارروائی کے باعث امریکہ اپنے نقصانات کی اصل تعداد چھپا رہا ہو، کیونکہ اب تک اس نے صرف سات فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر لبنان کو بھی اسرائیل کی جانب سے خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ حزب اللہ کو کچلا جا سکے۔ اسرائیل بارہا لبنانی شہریوں سے جنوبی لبنان خالی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ ایک اور قتلِ عام کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ایران ہو یا حزب اللہ، امریکہ اور اسرائیل کے اس مجرمانہ اتحاد نے چند بنیادی مگر ناقابلِ تردید حقائق کو سمجھنے میں ناکامی دکھائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوّل یہ کہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی مطلوبہ رجیم چینج کی کوشش کا نتیجہ الٹا یہ نکلا کہ مقتول ایرانی رہنما کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اب سامنے آ گئے ہیں۔ یوں فضا سے مسلط کی جانے والی رجیم چینج کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم یہ کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے اس اتحاد کے جدید اور برتر ہتھیار ایران کے نسبتاً محدود مگر کسی طور بھی کمزور نہ سمجھے جانے والے اسلحہ خانے کو تباہ یا کمزور کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تب بھی یہ جارحیت ایک چیز کو شکست نہیں دے سکتی، اور وہ ہے مزاحمت کا جذبہ۔ شیعہ عقیدے میں اس جذبہ شہادت کو اعلیٰ ترین اور پاکیزہ ترین قربانی سمجھتا ہے جو جنت میں مقام کی ضمانت تصور کی جاتی ہے۔ کیا محض مادی طاقت کی برتری سے ایسے جذبے کو ختم کیا جا سکتا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے باعثِ ناگواری یہ امر بھی بنا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف اس کی ایک روزہ ’جنگ‘، امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع کے آغاز کے باعث پس منظر میں چلی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے اگرچہ سرحد پار طالبان فورسز کے خلاف شدید حملے کیے اور اپنی سرزمین میں دراندازی کی طالبان کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم اسے اس تنازع پر عالمی توجہ حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ عالمی نگاہیں بظاہر مغرب میں پیش آنے والے واقعات پر مرکوز ہیں۔ اور یہی واحد تشویش نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ایک طرف تہران کے ساتھ اپنی دوستی برقرار رکھنا اور اسے ثابت کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ جلد برہم ہو جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا۔ جو لوگ پاکستان کی چین اور امریکہ کے ساتھ بیک وقت تعلقات میں ’توازن‘ برقرار رکھنے کی صلاحیت پر فخر کرتے ہیں، وہ شاید امید رکھتے ہوں کہ ایسا ہی کوئی توازن ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کوشش کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پھر سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دفاعی معاہدے کا معاملہ بھی ہے، جس کے تحت ممکن ہے کہ ہمیں ایرانی حملوں سے سعودی اہداف کے دفاع کے لیے بلایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور ایران میں ہونے والی تباہی کے بعد فلسطین کے لیے ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا کیا بنے گا؟ مجموعی طور پر مسلم دنیا، اور خاص طور پر پاکستان، متضاد اور باہم متصادم مفادات کے اس پیچیدہ کھیل میں شدید الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے پہلی ترجیح فطری طور پر امریکہ،اسرائیل اور ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکن ہے کہ ہم نے عالمی منڈی میں متوقع اضافے سے پہلے ہی 55 روپے کے اضافے کے ذریعے پیش بندی کرنے کی کوشش کی ہو، لیکن اس ’جرأت مندانہ‘ فیصلے کے صرف دو دن بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی خطرناک حد عبور کر چکی ہے، اور بظاہر مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آگے کڑا وقت آنے والا ہے، جس میں سخت آزمائشوں کی بارش ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر کے طور پر اپنی دوسری مدت کے صرف ایک سال میں، ڈونلڈ ٹرمپ نے نام نہاد ’قواعد پر مبنی بین الاقوامی آرڈر‘ کو جڑوں تک ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ’نام نہاد‘ کیونکہ عملی طور پر، قوانین امریکہ کی قیادت میں مغرب کے حق میں اور ان تمام ممالک کے خلاف بنائے گئے تھے جنہوں نے سابق کی مرضی سے انکار کرنے کی جرات کی۔</strong></p>
<p>تاہم یہ عالمی نظام بظاہر کچھ ’اصولوں‘ کے پردے میں کام کرتا تھا، جنہیں عالمی طاقتیں اس وقت پیش کرتی تھیں جب یہ ان کے مفاد میں ہوتا، اور جب ایسا نہ ہوتا تو انہی اصولوں کو آسانی سے نظرانداز یا فراموش کر دیا جاتا۔ یہ پردہ اب ڈونلڈ ٹرمپ نے چاک کر کے تار تار کر دیا ہے۔</p>
<p>وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا سے لے کر، جس کا مقصد دراصل اس ملک کے تیل پر دوبارہ قبضہ جمانا بتایا جاتا ہے، گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی، کیوبا کی سوشلسٹ حکومت کے خاتمے کی بات، اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن عمل کو اسرائیل کے حق میں ڈھال کر عملاً ہائی جیک کرنا، یورپ کو فوجی حمایت میں کمی کے اشارے دینا، جس کا مطلب یہ تھا کہ اب یورپی ممالک کو کم دفاعی اخراجات کی آسائش حاصل نہیں رہے گی، اور ایران کے خلاف (اسرائیلی تعاون کے ساتھ) فوجی کارروائی کی دھمکی دینا اگر وہ واشنگٹن کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہ ہو، ان سب اقدامات کے ذریعے ٹرمپ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد وجود میں آنے والے بین الاقوامی تعلقات کے اس ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے جس نے کسی حد تک دنیا کے نظام کو چلائے رکھا تھا۔</p>
<p>لیکن یہ غلطی ہوگی کہ عالمی بالادستی کے لیے امریکہ کی اب کھل کر سامنے آ جانے والی کوششوں اور مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو صرف ٹرمپ کے دور تک محدود سمجھا جائے۔</p>
<p>سرد جنگ کے خاتمے اور سوویت یونین کے انہدام کے بعد واشنگٹن کو محسوس ہوا کہ اس کے لیے اپنی فتح مندانہ حکمتِ عملی کے اہداف حاصل کرنے کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ 1973 کی عرب  اور اسرائیل جنگ کے بعد ہی عرب ممالک کی ایک بڑھتی ہوئی فہرست سامنے آنا شروع ہوگئی تھی جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے اور اسے تسلیم کرنے کے خواہاں تھے، جس کی ابتدا انور سادات کے دور کے مصر سے ہوئی۔</p>
<p>خلیجی عرب ریاستیں بھی اس سلسلے میں شامل ہونے پر آمادہ تھیں، تاہم وہ ایسے حالات کا انتظار کرتی رہیں جو اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی معمول پر واپسی کی راہ ہموار کر سکیں۔</p>
<p>ادھر تین عرب ریاستوں کو ایسے ممالک کے طور پر شناخت کیا گیا جو اس عمل میں شامل ہونے سے گریزاں تھے، لیبیا، عراق اور شام۔ اب تک ان تینوں کو امریکہ کی براہِ راست اور بالواسطہ فوجی جارحیت، ناکام رجیم چینج کی کوششوں اور اس کے نتیجے میں طویل داخلی تنازعات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ البتہ اس سے امریکہ کے ماضی یا حال کے صدور کو زیادہ فرق نہیں پڑا، کیونکہ واشنگٹن کے نقطۂ نظر میں ترقی پذیر ممالک کے شہریوں کی جانیں بآسانی قربان کی جا سکنے والی سمجھی جاتی ہیں۔</p>
<p>جب حماس نے 2023 میں اسرائیل پر ایک غیر معمولی حملہ کیا تو اس کے بعد غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی نسل کشی پر مبنی مہم نے ’محورِ مزاحمت‘ کو نمایاں کر دیا، جس کے مرکز میں ایران ہے، جبکہ لبنان میں حزب اللہ اور یمن میں حوثی فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے اس صف میں شامل ہوئے۔</p>
<p>فلسطینی، 2023 سے پہلے بھی اور آج تک، مغربی کنارے میں صہیونی آبادکاروں کی ناپسندیدہ اور جارحانہ سرگرمیوں کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔</p>
<p>2023 کے بعد کی کشمکش کی بنیاد پر یہ نتیجہ اخذ کرتے ہوئے کہ یہ محورِ مزاحمت مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی توسیع پسندانہ جنونیت اور امریکہ کی عالمی بالادستی کی کوششوں (جس میں تیل مرکزی کردار رکھتا ہے) کی راہ میں آخری رکاوٹ ہے، ان دونوں ’جرم میں شریک اتحادیوں‘ نے ایران کے خلاف ایک غیر معمولی فوجی حملہ شروع کر دیا ہے۔ اس حملے میں نہ صرف ایرانی قیادت (آیت اللہ علی خامنہ ای)، بلکہ اس کی فوج، معیشت، شہری ڈھانچے اور حتیٰ کہ بچوں تک کو نہیں بخشا گیا۔</p>
<p>ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جارحیت کے دوسرے ہفتے تک مسلسل بمباری کے نتیجے میں سینکڑوں، بلکہ ممکنہ طور پر ہزاروں افراد ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ممکن ہے کہ ایران کی مؤثر دفاعی جوابی کارروائی کے باعث امریکہ اپنے نقصانات کی اصل تعداد چھپا رہا ہو، کیونکہ اب تک اس نے صرف سات فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کیا ہے۔</p>
<p>ادھر لبنان کو بھی اسرائیل کی جانب سے خوف و ہراس کا نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ حزب اللہ کو کچلا جا سکے۔ اسرائیل بارہا لبنانی شہریوں سے جنوبی لبنان خالی کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے تاکہ ایک اور قتلِ عام کے لیے راستہ صاف کیا جا سکے۔</p>
<p>تاہم ایران ہو یا حزب اللہ، امریکہ اور اسرائیل کے اس مجرمانہ اتحاد نے چند بنیادی مگر ناقابلِ تردید حقائق کو سمجھنے میں ناکامی دکھائی ہے۔</p>
<p>اوّل یہ کہ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی مطلوبہ رجیم چینج کی کوشش کا نتیجہ الٹا یہ نکلا کہ مقتول ایرانی رہنما کے صاحبزادے مجتبیٰ خامنہ ای اب سامنے آ گئے ہیں۔ یوں فضا سے مسلط کی جانے والی رجیم چینج کی حقیقت کھل کر سامنے آ گئی ہے۔</p>
<p>دوم یہ کہ اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کے اس اتحاد کے جدید اور برتر ہتھیار ایران کے نسبتاً محدود مگر کسی طور بھی کمزور نہ سمجھے جانے والے اسلحہ خانے کو تباہ یا کمزور کرنے میں کامیاب بھی ہو جائیں، تب بھی یہ جارحیت ایک چیز کو شکست نہیں دے سکتی، اور وہ ہے مزاحمت کا جذبہ۔ شیعہ عقیدے میں اس جذبہ شہادت کو اعلیٰ ترین اور پاکیزہ ترین قربانی سمجھتا ہے جو جنت میں مقام کی ضمانت تصور کی جاتی ہے۔ کیا محض مادی طاقت کی برتری سے ایسے جذبے کو ختم کیا جا سکتا ہے؟</p>
<p>پاکستان کے لیے باعثِ ناگواری یہ امر بھی بنا کہ افغانستان کی طالبان حکومت کے خلاف اس کی ایک روزہ ’جنگ‘، امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع کے آغاز کے باعث پس منظر میں چلی گئی۔</p>
<p>پاکستان نے اگرچہ سرحد پار طالبان فورسز کے خلاف شدید حملے کیے اور اپنی سرزمین میں دراندازی کی طالبان کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کامیابی حاصل کی، تاہم اسے اس تنازع پر عالمی توجہ حاصل کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے کیونکہ عالمی نگاہیں بظاہر مغرب میں پیش آنے والے واقعات پر مرکوز ہیں۔ اور یہی واحد تشویش نہیں۔</p>
<p>اسلام آباد ایک طرف تہران کے ساتھ اپنی دوستی برقرار رکھنا اور اسے ثابت کرنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب وہ جلد برہم ہو جانے والے ڈونلڈ ٹرمپ کو ناراض بھی نہیں کرنا چاہتا۔ جو لوگ پاکستان کی چین اور امریکہ کے ساتھ بیک وقت تعلقات میں ’توازن‘ برقرار رکھنے کی صلاحیت پر فخر کرتے ہیں، وہ شاید امید رکھتے ہوں کہ ایسا ہی کوئی توازن ایران اور امریکہ کے ساتھ تعلقات میں بھی قائم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کوشش کہیں زیادہ مشکل دکھائی دیتی ہے۔</p>
<p>پھر سعودی عرب کے ساتھ ہمارے دفاعی معاہدے کا معاملہ بھی ہے، جس کے تحت ممکن ہے کہ ہمیں ایرانی حملوں سے سعودی اہداف کے دفاع کے لیے بلایا جائے۔</p>
<p>اور ایران میں ہونے والی تباہی کے بعد فلسطین کے لیے ٹرمپ کے مجوزہ ’بورڈ آف پیس‘ کا کیا بنے گا؟ مجموعی طور پر مسلم دنیا، اور خاص طور پر پاکستان، متضاد اور باہم متصادم مفادات کے اس پیچیدہ کھیل میں شدید الجھن کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے لیے پہلی ترجیح فطری طور پر امریکہ،اسرائیل اور ایران جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں پر پڑنے والے اثرات سے نمٹنا ہوگی۔</p>
<p>ممکن ہے کہ ہم نے عالمی منڈی میں متوقع اضافے سے پہلے ہی 55 روپے کے اضافے کے ذریعے پیش بندی کرنے کی کوشش کی ہو، لیکن اس ’جرأت مندانہ‘ فیصلے کے صرف دو دن بعد ہی عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی خطرناک حد عبور کر چکی ہے، اور بظاہر مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔</p>
<p>آگے کڑا وقت آنے والا ہے، جس میں سخت آزمائشوں کی بارش ہوگی۔</p>
<p>کاپی رائٹ، بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283722</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 17:17:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (راشد رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10164503cffad06.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10164503cffad06.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
