<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>علاقائی صورتحال نازک، میڈیا خارجہ پالیسی پر بحث سے گریز کرے، اعظم نذیر تارڑ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283718/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو میڈیا کو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے علاقائی صورتحال کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تناؤ کا حوالہ دیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی تناؤ کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر سفارتی کوششیں کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ایران پر حملے کی مذمت کرنے میں پاکستان سب سے پہلا ملک تھا اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اپنا موقف پیش کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ قانون نے بتایا کہ دوست ممالک پر حملوں کے معاملے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے اور پاکستان نے اس تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی تنازعات پر میڈیا کی بحث کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ ہم تبصرے کرتے ہوئے غیر ضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے تاہم ہمیں اپنے تبصروں اور گفتگو میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مشورہ دیا کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ناگزیر ہے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بحث و مباحثے سے گریز کیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ ایک انتہائی غیر مستحکم صورتحال ہے۔ اس تناؤ کو دیکھتے ہوئے، ہمیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کس چیز میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریڈ لائن عبور کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے اور اس کا مفاد سب سے مقدم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ہم علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھتے ہیں، اس لیے خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے خبردار کیا کہ ’دو ممالک کے تعلقات کے بارے میں محض ویوز کے حصول کے لیے بنائے گئے منفی وی لاگز  تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ سنسنی خیزی پھیلانا ریاست کی پالیسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے منگل کو میڈیا کو پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے علاقائی صورتحال کی حساسیت پر روشنی ڈالتے ہوئے خاص طور پر امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری حالیہ تنازع اور افغانستان کے ساتھ سرحدی تناؤ کا حوالہ دیا ہے۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیرِ اطلاعات و نشریات اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری کے ہمراہ اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرِ قانون نے کہا کہ پاکستان نے علاقائی تناؤ کو کم کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر سفارتی کوششیں کی ہیں۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ ایران پر حملے کی مذمت کرنے میں پاکستان سب سے پہلا ملک تھا اور وزیراعظم شہباز شریف نے ایرانی سپریم لیڈر کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اپنا موقف پیش کیا ہے۔</p>
<p>وزیرِ قانون نے بتایا کہ دوست ممالک پر حملوں کے معاملے پر بھی غور کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خطے میں کشیدہ صورتحال حکومت کے لیے بھی ایک چیلنج ہے اور پاکستان نے اس تنازع کا سفارتی حل تلاش کرنے کی بھرپور کوشش کی ہے۔</p>
<p>علاقائی تنازعات پر میڈیا کی بحث کے حوالے سے اپنے ریمارکس میں انہوں نے کہا کہ ہم تبصرے کرتے ہوئے غیر ضروری معاملات میں الجھ رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے اس بات پر زور دیا کہ آرٹیکل 19 کے تحت ہر شہری کو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق حاصل ہے تاہم ہمیں اپنے تبصروں اور گفتگو میں بہت زیادہ محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>انہوں نے مشورہ دیا کہ الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ناگزیر ہے اور خارجہ پالیسی کے حوالے سے بحث و مباحثے سے گریز کیا جانا چاہیے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اظہارِ رائے کی آزادی کے حق کو آئین اور قانون کی حدود میں رہ کر استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پاکستان حالیہ کشیدگی کے خاتمے کے لیے ایک مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ یہ ایک انتہائی غیر مستحکم صورتحال ہے۔ اس تناؤ کو دیکھتے ہوئے، ہمیں احتیاط کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کس چیز میں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ریڈ لائن عبور کی گئی تو کارروائی کی جائے گی۔</p>
<p>دریں اثنا عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان ایک مضبوط ریاست ہے اور اس کا مفاد سب سے مقدم ہے۔</p>
<p>انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ چونکہ ہم علاقائی ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات برقرار رکھتے ہیں، اس لیے خارجہ پالیسی کے حوالے سے غیر ضروری تبصرے نقصان دہ ثابت ہوتے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ نے خبردار کیا کہ ’دو ممالک کے تعلقات کے بارے میں محض ویوز کے حصول کے لیے بنائے گئے منفی وی لاگز  تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ سنسنی خیزی پھیلانا ریاست کی پالیسی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283718</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 15:27:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10152320335b6b3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10152320335b6b3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.ytimg.com/vi/_q0CTEwCgIM/maxresdefault.jpg" type="image/jpeg" medium="video" height="480" width="640">
        <media:thumbnail url="https://i.ytimg.com/vi/_q0CTEwCgIM/mqdefault.jpg"/>
        <media:player url="https://www.youtube.com/watch?v=_q0CTEwCgIM"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
