<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صنعتکاروں کا شرح سود 10.5 فیصد برقرار رکھنے پر مایوسی کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283715/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو صنعتی و تجارتی حلقوں کے لیے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائد شرح سود کی وجہ سے صنعتوں کی توسیع اور پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینا ممکن نیں کیونکہ مہنگی بجلی و گیس نے پہلے ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے صنعتی شعبے کو اس وقت سہارا دینے کی ضرورت ہے، لیکن شرح سود میں کمی نہ ہونے سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ مہنگی بینک فنانسنگ کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عبدالرحمان فدا کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے حکام خود اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ برآمدات میں کمی جب کہ درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جو معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں توقع تھی کہ شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ تاجر برادری کو کچھ ریلیف ملتا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اگر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لایا جاتا تو برآمدکنندگان کو سستی فنانسنگ میسر آسکتی تھی جس سے وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا کر عالمی مارکیٹوں میں بہتر انداز سے مقابلہ کرسکتے تھے، اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آتی بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالیاتی فیصلوں میں صنعت اور برآمدی شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ معیشت کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کے صدر عبدالرحمان فدا نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے پالیسی ریٹ 10.5 فیصد پر برقرار رکھنے کے فیصلے کو صنعتی و تجارتی حلقوں کے لیے مایوس کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ زائد شرح سود کی وجہ سے صنعتوں کی توسیع اور پیداواری سرگرمیوں کو وسعت دینا ممکن نیں کیونکہ مہنگی بجلی و گیس نے پہلے ہی صنعتوں کی پیداواری لاگت میں بے پناہ اضافہ کردیا ہے۔</strong></p>
<p>ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ملک کے صنعتی شعبے کو اس وقت سہارا دینے کی ضرورت ہے، لیکن شرح سود میں کمی نہ ہونے سے صنعتکاروں اور برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا رہے گا۔ مہنگی بینک فنانسنگ کے باعث پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے جس سے مقامی صنعت کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔</p>
<p>عبدالرحمان فدا کا کہنا تھا کہ مرکزی بینک کے حکام خود اس بات کی نشاندہی کرچکے ہیں کہ برآمدات میں کمی جب کہ درآمدات میں اضافہ ہورہا ہے جو معاشی سرگرمیوں کی سست روی کی علامت ہے۔ ایسے حالات میں توقع تھی کہ شرح سود میں کم از کم ایک سے ڈیڑھ فیصد کمی کی جاتی تاکہ تاجر برادری کو کچھ ریلیف ملتا اور سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوتی مگر ایسا نہیں کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اگر پالیسی ریٹ کو سنگل ڈیجٹ کی سطح پر لایا جاتا تو برآمدکنندگان کو سستی فنانسنگ میسر آسکتی تھی جس سے وہ اپنی پیداواری صلاحیت بڑھا کر عالمی مارکیٹوں میں بہتر انداز سے مقابلہ کرسکتے تھے، اس اقدام سے نہ صرف صنعتی سرگرمیوں میں تیزی آتی بلکہ معیشت کو بھی تقویت ملتی۔</p>
<p>صدر سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری نے حکومت اور اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیا کہ آئندہ مالیاتی فیصلوں میں صنعت اور برآمدی شعبے کی مشکلات کو مدنظر رکھا جائے تاکہ معیشت کی بہتری اور برآمدات کے فروغ کی راہ ہموار ہو سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283715</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 14:47:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریکارڈر رپورٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/101423420a261b1.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/101423420a261b1.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
