<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 19:17:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 19:17:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی انسداد دہشت گردی اقدامات افغان زمین سے سرحد پار خطرات کو ختم کرنے پر مرکوز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283711/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے خاتمے کے لیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عاصم افتخار احمد نے بھارت اور افغانستان کے نمائندوں کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ   پاکستان کی کارروائیاں حق دفاع اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کے نمائندے نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں عام شہریوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2031218992153510283?'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2031218992153510283?"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی دشمنی اور اس کی افغان پالیسی کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی نمائندے نے افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر طویل گفتگو کی مگر افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ناقابل تردید شواہد فراہم کیے ہیں کہ بھارت دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد کیمپوں اور معاون مراکز کے خلاف مؤثر کارروائی کی تو بھارت کو اپنے دہشت گرد نیٹ ورکس میں کی گئی سرمایہ کاری ضائع ہونے کا احساس ہوا۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا کو ایسے ملک بھارت سے کوئی سبق لینے کی ضرورت نہیں جو بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے، غیر قانونی طور پر علاقوں پر قابض ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، اپنی اقلیتوں کو منظم انداز میں حاشیے پر دھکیلتا ہے اور نفرت اور غلط معلومات پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;انہوں نے کہا کہ جہاں بھارت افغانستان میں تخریب کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے، وہیں پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے، شمولیتی حکمرانی کو یقینی بنائے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔&lt;br&gt;&lt;br&gt;سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارت پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کسی صورت افغانستان سے پاکستان کو نقصان پہنچانے والی بھارتی سازشوں اور مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ پاکستان کے انسداد دہشت گردی اقدامات افغان عوام کے خلاف نہیں بلکہ افغان سرزمین سے پیدا ہونے والے دہشت گردی کے مسلسل خطرے کے خاتمے کے لیے ہیں۔</strong></p>
<p>افغانستان کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں عاصم افتخار احمد نے بھارت اور افغانستان کے نمائندوں کے بیانات کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ   پاکستان کی کارروائیاں حق دفاع اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کے مطابق ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ افسوسناک امر یہ ہے کہ افغانستان کے نمائندے نے افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کا کوئی ذکر نہیں کیا، جس کے نتیجے میں پاکستان میں عام شہریوں، مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے۔</p>
    <figure class='media  w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/PakistanUN_NY/status/2031218992153510283?'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/PakistanUN_NY/status/2031218992153510283?"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارت پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے خلاف بھارت کی دشمنی اور اس کی افغان پالیسی کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت افغانستان کی سرزمین سے سرگرم دہشت گرد گروہوں جیسے ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کی حمایت اور سرپرستی کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی نمائندے نے افغانستان میں سکیورٹی صورتحال پر طویل گفتگو کی مگر افغانستان سے پاکستان پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کے خطرے کو مکمل طور پر نظر انداز کیا۔<br><br>انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان نے ناقابل تردید شواہد فراہم کیے ہیں کہ بھارت دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مل کر پاکستان کے خلاف پرتشدد حملوں کی منصوبہ بندی میں ملوث ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب پاکستان نے افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد کیمپوں اور معاون مراکز کے خلاف مؤثر کارروائی کی تو بھارت کو اپنے دہشت گرد نیٹ ورکس میں کی گئی سرمایہ کاری ضائع ہونے کا احساس ہوا۔<br><br>پاکستانی مندوب نے کہا کہ دنیا کو ایسے ملک بھارت سے کوئی سبق لینے کی ضرورت نہیں جو بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزی کرتا ہے، غیر قانونی طور پر علاقوں پر قابض ہے، اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتا ہے، ریاستی دہشت گردی کو فروغ دیتا ہے، اپنی اقلیتوں کو منظم انداز میں حاشیے پر دھکیلتا ہے اور نفرت اور غلط معلومات پھیلانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔<br><br>انہوں نے کہا کہ جہاں بھارت افغانستان میں تخریب کاری کا کردار ادا کرتا رہا ہے، وہیں پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کیا ہے۔ تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ افغانستان میں پائیدار امن اسی وقت ممکن ہے جب طالبان حکومت دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرے، شمولیتی حکمرانی کو یقینی بنائے اور افغان خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔<br><br>سفیر عاصم افتخار احمد نے بھارت پر زور دیا کہ وہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پاکستان کسی صورت افغانستان سے پاکستان کو نقصان پہنچانے والی بھارتی سازشوں اور مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283711</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 13:49:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10134707c814575.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10134707c814575.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
