<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:51:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران جنگ کے باعث غزہ امن منصوبہ مؤخر، حماس سے اسلحہ واپسی کے مذاکرات رک گئے، ذرائع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283698/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر جاری مذاکرات مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد روک دیے گئے ہیں۔ مذاکرات سے براہ راست آگاہ تین ذرائع کے مطابق 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے سے بات چیت کا عمل عارضی طور پر معطل ہوگیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تعطل ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے لیے دھچکا سمجھا جا رہا ہے، جسے وہ اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ہدف قرار دیتے رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے خلیجی عرب ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے وعدے کیے تھے، تاہم اب یہی ممالک ایران کے ممکنہ حملوں کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے منصوبے کا ایک اہم حصہ یہ تھا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو اسے عام معافی دی جائے، جس کے بعد غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کے مزید انخلا کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ثالث اسرائیل اور حماس کے درمیان پس پردہ رابطے کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق جنگ شروع ہونے کے دن حماس کی مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے ساتھ ملاقات طے تھی، مگر جنگ کے باعث یہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا اور اب تک نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر مذاکرات فی الحال منجمد ہیں۔ ادھر اسرائیلی فوج نے ایران اور لبنان میں کارروائیوں کے باوجود غزہ میں حملے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ فلسطینی حکام کے مطابق 28 فروری کے بعد سے غزہ میں کم از کم 16 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی توجہ اب اسی محاذ پر مرکوز ہو گئی ہے، جس سے غزہ امن منصوبے کی پیش رفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید برقرار ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر جاری مذاکرات مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کے بعد روک دیے گئے ہیں۔ مذاکرات سے براہ راست آگاہ تین ذرائع کے مطابق 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد خطے میں جنگ کے پھیلنے سے بات چیت کا عمل عارضی طور پر معطل ہوگیا۔</strong></p>
<p>یہ تعطل ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے لیے دھچکا سمجھا جا رہا ہے، جسے وہ اپنی خارجہ پالیسی کا اہم ہدف قرار دیتے رہے ہیں۔ اس پیش رفت سے ایک ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے خلیجی عرب ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے اربوں ڈالر کے وعدے کیے تھے، تاہم اب یہی ممالک ایران کے ممکنہ حملوں کے خطرے کا سامنا کر رہے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کے منصوبے کا ایک اہم حصہ یہ تھا کہ اگر حماس ہتھیار ڈال دے تو اسے عام معافی دی جائے، جس کے بعد غزہ کی تعمیر نو اور اسرائیلی فوج کے مزید انخلا کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی ثالث اسرائیل اور حماس کے درمیان پس پردہ رابطے کر رہے تھے۔</p>
<p>ایک فلسطینی عہدیدار کے مطابق جنگ شروع ہونے کے دن حماس کی مصر، قطر اور ترکی کے ثالثوں کے ساتھ ملاقات طے تھی، مگر جنگ کے باعث یہ اجلاس منسوخ کر دیا گیا اور اب تک نئی تاریخ مقرر نہیں کی گئی۔</p>
<p>حماس کے ایک عہدیدار نے بھی تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ کے غزہ منصوبے پر مذاکرات فی الحال منجمد ہیں۔ ادھر اسرائیلی فوج نے ایران اور لبنان میں کارروائیوں کے باوجود غزہ میں حملے مکمل طور پر بند نہیں کیے۔ فلسطینی حکام کے مطابق 28 فروری کے بعد سے غزہ میں کم از کم 16 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکی توجہ اب اسی محاذ پر مرکوز ہو گئی ہے، جس سے غزہ امن منصوبے کی پیش رفت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ تاہم سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعد مذاکرات دوبارہ شروع ہونے کی امید برقرار ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283698</guid>
      <pubDate>Tue, 10 Mar 2026 08:55:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10085323d10b88f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10085323d10b88f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
