<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 02:42:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 02:42:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کی مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی پیش گوئی، تیل کی قیمتیں 11 فیصد گر گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283695/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;منگل کو تیل کی قیمتیں 13 فیصد سے زائد گر گئیں، جب کہ گزشتہ سیشن میں یہ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں، اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش گوئی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جس سے طویل مدتی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کم ہو گئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ فیوچرز 11.16 ڈالر یا11 فیصد کمی کے بعد 87.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل 11.32 ڈالر یا 11.9 فیصد کمی کے بعد 83.45 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں کرڈ بینچ مارک پیر کو 119 ڈالر فی بیرل سے زائد پہنچ گئے تھے، جو جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی، کیونکہ سعودی عرب اور دیگر پیدا کنندگان کی جانب سے سپلائی میں کمی نے عالمی رسد میں بڑے خلل کے خدشات پیدا کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریملن کے ایک عہدے دار کے مطابق قیمتیں بعد میں پیر کی شام اور منگل کے دوران اس وقت نیچے آئیں جب ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ٹیلیفون پر بات کی اور جنگ کے فوری تصفیے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پیر کو سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ”تقریباً مکمل“ ہے اور واشنگٹن ان کے ابتدائی چار سے پانچ ہفتوں کے اندازے سے ”کافی آگے“ نکل چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی بی ایس بینک کے توانائی شعبے کے ٹیم لیڈ سوورو سرکار نے کہا کہ ٹرمپ کے مختصر جنگ کے تبصروں نے منڈیوں کو پرسکون کیا ہے۔ ان کے مطابق:&lt;br&gt;”کل قیمتوں میں اوپر کی جانب حد سے زیادہ ردِعمل تھا اور آج نیچے کی جانب بھی ایسا ہی ردِعمل نظر آ رہا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مر بن اور دبئی گریڈ اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں، اس لیے زمینی حقائق میں عملی طور پر زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ لامتناہی جنگ کا خواہاں نہیں اور لڑائی ختم کرنے کے وقت کے تعین کے لیے امریکہ کے ساتھ مشاورت کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیل کی سپلائی فوری بحال نہیں ہوگی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وڈ میکینزی کے چیئرمین اور چیف اینالسٹ سائمون فلورز نے کہا کہ چاہے جنگ ختم بھی ہو جائے، تیل کی سپلائی فوری طور پر بحال نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلورز نے کہا کہ ”جب تنازع ختم ہوگا تو سپلائی چین کو دوبارہ تیز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ریفائنریز یا بندرگاہوں میں موجود اسٹاک کو جہازوں کے ذریعے جلد منتقل کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر کنوئیں طویل عرصے تک بند رہے ہیں تو مکمل پیداوار دوبارہ شروع کرنے میں ہفتوں یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ وہ خود کریں گے اور اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ”ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا“، ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ذرائع کے مطابق ٹرمپ تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے روس پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرنے اور ہنگامی خام تیل کے ذخائر جاری کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق روسی تیل پر پابندیاں نرم کرنے کی بات چیت، ٹرمپ کے ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اشارے اور جی سیون ممالک کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر استعمال کرنے کے امکانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تیل کی سپلائی منڈی تک پہنچتی رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تاجروں کو یہ احساس ہوا کہ سپلائی کے راستے برقرار رہ سکتے ہیں تو وہ ابتدائی ”پینک پریمیم“ ختم ہونا شروع ہو گیا جس نے گزشتہ روز قیمتوں کو 100 ڈالر سے اوپر پہنچا دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر جی سیون ممالک نے پیر کو کہا کہ وہ عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے جواب میں ”ضروری اقدامات“ کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا واضح اعلان نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگ جاری ہے&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ اور اسرائیل نے منگل کو ایران پر سب سے شدید فضائی حملے کیے، جنہیں پینٹاگون اور زمینی ذرائع نے جنگ کے دوران سب سے زیادہ شدت والے حملے قرار دیا، حالانکہ عالمی مارکیٹیں قیاس کر رہی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد تنازع ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی ارامکو نے منگل کو کہا کہ اگر ایران کی جنگ ہرمز کی تنگی میں شپنگ کو متاثر کرتی رہی تو عالمی تیل کی مارکیٹس پر “تباہ کن نتائج” مرتب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشاورتی ادارے آئی آئی آر کے مطابق خلیج میں تقریباً 1.9 ملین بیرل فی دن کی خام تیل کی ریفائننگ صلاحیت امریکی-اسرائیلی جنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جے پی مورگن نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ”پالیسی اقدامات کا تیل کی قیمتوں پر اثر محدود ہو سکتا ہے جب تک کہ ہرمز کی تنگی کے ذریعے محفوظ گزرگاہ یقینی نہ بنائی جائے، کیونکہ اگلے دو ہفتوں میں 12 ملین بیرل فی دن تک کے ممکنہ نقصانات ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی رسد میں تازہ خلل کے طور پر، ابوظہبی کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک ( اے ڈی این او سی) نے منگل کو اپنے رویس ریفائنری کو بند کر دیا، ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ اقدام کمپلیکس میں ایک ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ کے باعث کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گولڈمین ساکس نے کہا کہ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، اس لیے اس نے اپنی پیش گوئی تبدیل نہیں کی: چوتھی سہ ماہی 2026 میں برینٹ کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 62 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>منگل کو تیل کی قیمتیں 13 فیصد سے زائد گر گئیں، جب کہ گزشتہ سیشن میں یہ 2022 کے بعد کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئی تھیں، اس کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پیش گوئی تھی کہ ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو سکتی ہے، جس سے طویل مدتی تیل کی سپلائی میں رکاوٹ کے خدشات کم ہو گئے۔</strong></p>
<p>برینٹ فیوچرز 11.16 ڈالر یا11 فیصد کمی کے بعد 87.80 ڈالر فی بیرل پر آ گئے، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ ( ڈبلیو ٹی آئی ) خام تیل 11.32 ڈالر یا 11.9 فیصد کمی کے بعد 83.45 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گیا۔</p>
<p>دونوں کرڈ بینچ مارک پیر کو 119 ڈالر فی بیرل سے زائد پہنچ گئے تھے، جو جون 2022 کے بعد بلند ترین سطح تھی، کیونکہ سعودی عرب اور دیگر پیدا کنندگان کی جانب سے سپلائی میں کمی نے عالمی رسد میں بڑے خلل کے خدشات پیدا کر دیے تھے۔</p>
<p>کریملن کے ایک عہدے دار کے مطابق قیمتیں بعد میں پیر کی شام اور منگل کے دوران اس وقت نیچے آئیں جب ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے ٹیلیفون پر بات کی اور جنگ کے فوری تصفیے کے لیے تجاویز کا تبادلہ کیا۔</p>
<p>ٹرمپ نے پیر کو سی بی ایس نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ ”تقریباً مکمل“ ہے اور واشنگٹن ان کے ابتدائی چار سے پانچ ہفتوں کے اندازے سے ”کافی آگے“ نکل چکا ہے۔</p>
<p>ڈی بی ایس بینک کے توانائی شعبے کے ٹیم لیڈ سوورو سرکار نے کہا کہ ٹرمپ کے مختصر جنگ کے تبصروں نے منڈیوں کو پرسکون کیا ہے۔ ان کے مطابق:<br>”کل قیمتوں میں اوپر کی جانب حد سے زیادہ ردِعمل تھا اور آج نیچے کی جانب بھی ایسا ہی ردِعمل نظر آ رہا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مر بن اور دبئی گریڈ اب بھی 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر ہیں، اس لیے زمینی حقائق میں عملی طور پر زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔</p>
<p>اسرائیل کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسرائیل ایران کے ساتھ لامتناہی جنگ کا خواہاں نہیں اور لڑائی ختم کرنے کے وقت کے تعین کے لیے امریکہ کے ساتھ مشاورت کرے گا۔</p>
<p><strong>تیل کی سپلائی فوری بحال نہیں ہوگی</strong></p>
<p>وڈ میکینزی کے چیئرمین اور چیف اینالسٹ سائمون فلورز نے کہا کہ چاہے جنگ ختم بھی ہو جائے، تیل کی سپلائی فوری طور پر بحال نہیں ہوگی۔</p>
<p>فلورز نے کہا کہ ”جب تنازع ختم ہوگا تو سپلائی چین کو دوبارہ تیز کرنا آسان نہیں ہوگا۔ ریفائنریز یا بندرگاہوں میں موجود اسٹاک کو جہازوں کے ذریعے جلد منتقل کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر کنوئیں طویل عرصے تک بند رہے ہیں تو مکمل پیداوار دوبارہ شروع کرنے میں ہفتوں یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔“</p>
<p>ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے ٹرمپ کے بیان کے جواب میں کہا کہ جنگ کے اختتام کا فیصلہ وہ خود کریں گے اور اگر امریکہ اور اسرائیل کے حملے جاری رہے تو خطے سے ”ایک لیٹر تیل بھی برآمد نہیں ہونے دیا جائے گا“، ایرانی سرکاری میڈیا نے رپورٹ کیا۔</p>
<p>دوسری جانب ذرائع کے مطابق ٹرمپ تیل کی بڑھتی قیمتوں کو قابو میں رکھنے کے لیے روس پر عائد تیل کی پابندیاں نرم کرنے اور ہنگامی خام تیل کے ذخائر جاری کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔</p>
<p>فلپ نووا کی تجزیہ کار پریانکا سچدیوا کے مطابق روسی تیل پر پابندیاں نرم کرنے کی بات چیت، ٹرمپ کے ممکنہ کشیدگی میں کمی کے اشارے اور جی سیون ممالک کی جانب سے اسٹریٹیجک ذخائر استعمال کرنے کے امکانات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تیل کی سپلائی منڈی تک پہنچتی رہے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جیسے ہی تاجروں کو یہ احساس ہوا کہ سپلائی کے راستے برقرار رہ سکتے ہیں تو وہ ابتدائی ”پینک پریمیم“ ختم ہونا شروع ہو گیا جس نے گزشتہ روز قیمتوں کو 100 ڈالر سے اوپر پہنچا دیا تھا۔</p>
<p>ادھر جی سیون ممالک نے پیر کو کہا کہ وہ عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے جواب میں ”ضروری اقدامات“ کے لیے تیار ہیں، تاہم انہوں نے ہنگامی ذخائر جاری کرنے کا واضح اعلان نہیں کیا۔</p>
<p><strong>جنگ جاری ہے</strong></p>
<p>امریکہ اور اسرائیل نے منگل کو ایران پر سب سے شدید فضائی حملے کیے، جنہیں پینٹاگون اور زمینی ذرائع نے جنگ کے دوران سب سے زیادہ شدت والے حملے قرار دیا، حالانکہ عالمی مارکیٹیں قیاس کر رہی ہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ جلد تنازع ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>دنیا کے سب سے بڑے تیل برآمد کنندہ سعودی عرب کی ارامکو نے منگل کو کہا کہ اگر ایران کی جنگ ہرمز کی تنگی میں شپنگ کو متاثر کرتی رہی تو عالمی تیل کی مارکیٹس پر “تباہ کن نتائج” مرتب ہوں گے۔</p>
<p>مشاورتی ادارے آئی آئی آر کے مطابق خلیج میں تقریباً 1.9 ملین بیرل فی دن کی خام تیل کی ریفائننگ صلاحیت امریکی-اسرائیلی جنگ کی وجہ سے بند ہو گئی ہے۔</p>
<p>جے پی مورگن نے ایک نوٹ میں کہا ہے کہ ”پالیسی اقدامات کا تیل کی قیمتوں پر اثر محدود ہو سکتا ہے جب تک کہ ہرمز کی تنگی کے ذریعے محفوظ گزرگاہ یقینی نہ بنائی جائے، کیونکہ اگلے دو ہفتوں میں 12 ملین بیرل فی دن تک کے ممکنہ نقصانات ہیں۔“</p>
<p>عالمی رسد میں تازہ خلل کے طور پر، ابوظہبی کی سرکاری تیل کمپنی ایڈنوک ( اے ڈی این او سی) نے منگل کو اپنے رویس ریفائنری کو بند کر دیا، ایک ذریعے نے بتایا کہ یہ اقدام کمپلیکس میں ایک ڈرون حملے کے بعد لگنے والی آگ کے باعث کیا گیا۔</p>
<p>گولڈمین ساکس نے کہا کہ صورتحال بدستور غیر یقینی ہے، اس لیے اس نے اپنی پیش گوئی تبدیل نہیں کی: چوتھی سہ ماہی 2026 میں برینٹ کی قیمت 66 ڈالر فی بیرل اور ڈبلیو ٹی آئی 62 ڈالر فی بیرل رہنے کا امکان ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283695</guid>
      <pubDate>Wed, 11 Mar 2026 08:42:59 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/10082921863b928.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/10082921863b928.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
