<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:16 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:16 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرقِ وسطیٰ کا تنازع اور پاکستان پر اس کے اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283688/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جنگوں کے نتائج اکثر غیر متوقع ہوتے ہیں، خواہ حملہ آوروں کے لیے ہوں یا حملے کا نشانہ بننے والوں کے لیے۔ تاہم جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع میں حملہ آور فریق کی جانب سے نمایاں غلط اندازوں کا عنصر دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس نے 28 فروری کو حملہ شروع کرنے سے قبل نشانہ بننے والے فریق کی جانب سے دی گئی مفصل اور سخت جوابی کارروائی کی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن سے مالا مال خلیجی ریاستیں بھی توانائی کے شعبے سمیت اپنے فزیکل انفرااسٹرکچر پر ممکنہ جوابی حملوں کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اسی طرح ان کے صارفین بھی، جو جنوبی امریکا (چلی، برازیل، ارجنٹینا، پیرو، پیراگوئے اور یوراگوئے)، یورپ (اٹلی، اسپین، فرانس، نیدرلینڈز اور جرمنی) اور افریقہ (مصر، جنوبی افریقہ، نائجیریا، کینیا، مراکش اور سوڈان) جیسے دور دراز خطوں سے لے کر ایشیا کے قریبی ممالک (پاکستان، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان) تک پھیلے ہوئے ہیں، اس صورتحال کے لیے تیار دکھائی نہیں دیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی تجارت میں خلل اور خلیج میں فضائی حدود کی بندش کے باعث لاکھوں افراد وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں اور خطہ چھوڑنے سے قاصر ہیں۔ خلیج کو طویل عرصے سے سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے، یہ ساکھ کئی دہائیوں کی محنت سے قائم ہوئی تھی، مگر ایک بار متاثر ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبنائے ہرمز کی بندش، جسے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 سے 25 فیصد تجارت کا راستہ سمجھا جاتا ہے،کے بعد دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگی کارروائیوں کے آغاز سے قبل تیل کی قیمتیں فی بیرل 60 سے 65 ڈالر کے درمیان تھیں، جو جمعہ تک بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹیں بھی شدید مندی کا شکار ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)،جو پاکستان کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت مالیاتی و مالی پالیسیوں پر اثرانداز ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ”اب تک ہم نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں خلل، توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ صورتحال بدستور نہایت غیر یقینی ہے اور پہلے سے غیر واضح عالمی معاشی ماحول میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔ اس مرحلے پر خطے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا درست اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ اس کے اثرات کا انحصار تنازع کے دائرہ کار اور مدت پر ہوگا۔ ہم اپریل میں جاری ہونے والی اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں اس کا جامع جائزہ پیش کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں ملکن انسٹی ٹیوٹ کی فیوچر آف فنانس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات کا انحصار اس کے دورانیے اور خطے میں انفراسٹرکچر اور صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان پر ہوگا۔ خاص طور پر یہ اہم ہوگا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ثابت ہوتا ہے یا طویل المدتی، اور جیو پولیٹیکل پیش رفتیں کس حد تک فنڈ کو اپنی معاشی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تنازع ” مہنگائی، معاشی نمو اور دیگر اشاریوں سمیت مختلف حوالوں سے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر نے گزشتہ بدھ کو پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ سے خطاب کرتے ہوئے، جسے انہوں نے ”علاقائی تنازع“ قرار دیا، اس کے باوجود ملکی شرحِ نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی۔ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی یہ امید غالباً اس پیش رفت پر مبنی ہے کہ 25 فروری کو اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان تیسرے جائزے پر مذاکرات مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کا مقصد اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ اگلی قسط کی منظوری کے لیے بورڈ اجلاس کی راہ ہموار ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم عالمی معیشت کے متوقع منظرنامے، بالخصوص پاکستان کے حوالے سے، اگر ان اندازوں سے ہٹتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ فنڈ کا عملہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ طے شدہ شرائط پر نظرِ ثانی کرے۔ اس تاثر کو کاٹز کے اس بیان سے تقویت ملتی ہے:”میری توقع ہے کہ مرکزی بینک محتاط رہیں گے اور صورتحال کے ارتقا کے مطابق ردعمل دیں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بیان اس امکان کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ شرحِ سود میں اضافہ کیا جائے یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے، حالانکہ ملک میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کی سربراہی میں قائم مانیٹری پالیسی کمیٹی پر خاصا دباؤ موجود ہے کہ 9 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں 10.5 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی جائے، کیونکہ یہ شرح ہمارے علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ایندھن کی درآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے، تقریباً 85 فیصد ایندھن خلیجی ممالک سے، جس میں  ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی شامل ہے، اور 99 فیصد ایل این جی قطر سے حاصل کی جاتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے 2026 کے لیے درخواست دی ہے کہ 35 سے 45 ایل این جی کارگو (جن میں 24 قطر کے ہیں) بین الاقوامی مارکیٹ کی جانب موڑ دیے جائیں، کیونکہ 2016 میں قطر کے ساتھ ہونے والا مبالغہ آمیز معاہدہ ملکی طلب سے کہیں زیادہ تھا۔ جب بھی قطر دوبارہ ایل این جی برآمد کرے گا، 2016 میں طے شدہ قیمت سے کسی بھی اضافے کا فائدہ قطر کو ہوگا، جبکہ بین الاقوامی قیمت میں کمی کا بوجھ پاکستان پر آئے گا، یہ معاہدہ نہ صرف طلب کے تخمینے میں کمی بلکہ اس وقت کی حکومت کی قانونی مہارت کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایندھن کی فراہمی میں کمی سے پیٹرولیم لیوی کے تحت وصولیاں متاثر ہوں گی، جس کا موجودہ سال کے بجٹ میں ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر ہے۔ یہ ایک طویل مدتی وفاقی محصول کا اہم ذریعہ ہے جو وفاقی قابل تقسیم رقم کا حصہ نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ میں حکومت نے اس کے تحت 822.9 ارب روپے جمع کیے، اور اگلے چھ ماہ کے لیے 645.495 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس رقم کی عدم وصولی بجٹ خسارے میں اضافہ کرے گی، جو شدید مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ حکومت ممکنہ طور پر فنڈ کے دباؤ میں آ کر متفقہ ہنگامی اقدامات نافذ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، کچھ دیگر اشیاء پر ٹیکس بڑھانا یا لیوی میں اضافہ کرنا، کیونکہ اب مہنگائی کو محدود کرنے کے لیے کوئی اوپری حد موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ایس بی پی کو ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پٹرولیم نے منگل کو سعودی سفیر سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ پاکستان بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے سعودی تیل تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ تاہم انہیں اس راستے میں دو بڑے خطرات یاد رکھنے کی ضرورت ہے: (الف) سعودی اور حوثی تعلقات 2015 میں دونوں کے درمیان جنگ کے بعد اب تک کشیدہ ہیں، اور (ب) حوثیوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کے ردِعمل میں اسرائیل کی ایلات بندرگاہ تک بحیرہ احمر کے راستے شپنگ تقریباً معطل کر دی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ حوثیوں سے بات چیت کریں تاکہ پاکستان کے لیے اس راستے سے ایندھن کی فروخت ممکن ہو سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنازع کے آغاز کے ایک ہفتے بعد حکومت نے پیٹرول اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں اس سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جسے وہ اس وقت تک طلب کو محدود کرنے والا سمجھتی ہے جب تک ایندھن کی فراہمی معمول پر نہ آجائے۔ یہ فیصلہ قابل حمایت ہے۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم نے دو کمیٹیاں قائم کی تھیں،ایک کی سربراہی وزیرِ خزانہ کے پاس اور دوسری کی سربراہی وزیرِ بحری امور کے پاس، جنہیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے منفی اثرات کا جائزہ لینے اور اسے کم کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان کو درپیش مسائل سے مکمل آگاہ ہے اور اس کوشش کو سراہنا چاہیے۔ تاہم، حکومت کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ موجودہ اخراجات میں کمی کی جائے، نہ کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو ملک میں غربت کی شرح کو مزید بڑھا دیں، جو عالمی بینک کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق پہلے ہی تشویشناک 44.7 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جنگوں کے نتائج اکثر غیر متوقع ہوتے ہیں، خواہ حملہ آوروں کے لیے ہوں یا حملے کا نشانہ بننے والوں کے لیے۔ تاہم جاری مشرقِ وسطیٰ تنازع میں حملہ آور فریق کی جانب سے نمایاں غلط اندازوں کا عنصر دکھائی دیتا ہے، کیونکہ اس نے 28 فروری کو حملہ شروع کرنے سے قبل نشانہ بننے والے فریق کی جانب سے دی گئی مفصل اور سخت جوابی کارروائی کی دھمکیوں کو نظر انداز کر دیا۔</strong></p>
<p>ایندھن سے مالا مال خلیجی ریاستیں بھی توانائی کے شعبے سمیت اپنے فزیکل انفرااسٹرکچر پر ممکنہ جوابی حملوں کے لیے تیار نہیں تھیں۔ اسی طرح ان کے صارفین بھی، جو جنوبی امریکا (چلی، برازیل، ارجنٹینا، پیرو، پیراگوئے اور یوراگوئے)، یورپ (اٹلی، اسپین، فرانس، نیدرلینڈز اور جرمنی) اور افریقہ (مصر، جنوبی افریقہ، نائجیریا، کینیا، مراکش اور سوڈان) جیسے دور دراز خطوں سے لے کر ایشیا کے قریبی ممالک (پاکستان، چین، بھارت، جاپان، جنوبی کوریا اور تائیوان) تک پھیلے ہوئے ہیں، اس صورتحال کے لیے تیار دکھائی نہیں دیے۔</p>
<p>توانائی کی تجارت میں خلل اور خلیج میں فضائی حدود کی بندش کے باعث لاکھوں افراد وہاں پھنس کر رہ گئے ہیں اور خطہ چھوڑنے سے قاصر ہیں۔ خلیج کو طویل عرصے سے سیاحت اور سرمایہ کاری کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا رہا ہے، یہ ساکھ کئی دہائیوں کی محنت سے قائم ہوئی تھی، مگر ایک بار متاثر ہو جائے تو اسے دوبارہ بحال کرنا آسان نہیں ہوگا۔</p>
<p>آبنائے ہرمز کی بندش، جسے عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی تقریباً 20 سے 25 فیصد تجارت کا راستہ سمجھا جاتا ہے،کے بعد دنیا بھر میں مہنگائی کے دباؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنگی کارروائیوں کے آغاز سے قبل تیل کی قیمتیں فی بیرل 60 سے 65 ڈالر کے درمیان تھیں، جو جمعہ تک بڑھ کر 90 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئیں۔ پاکستان سمیت کئی ممالک کی اسٹاک مارکیٹیں بھی شدید مندی کا شکار ہوئیں۔</p>
<p>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف)،جو پاکستان کے ساتھ جاری 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (ای ایف ایف) اور 1.4 ارب ڈالر کے ریزیلینس اینڈ سسٹینیبلٹی فیسلٹی (آر ایس ایف) پروگراموں کے تحت مالیاتی و مالی پالیسیوں پر اثرانداز ہے، نے اپنی ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا ہے کہ ”اب تک ہم نے تجارت اور معاشی سرگرمیوں میں خلل، توانائی کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ اور مالیاتی منڈیوں میں اتار چڑھاؤ دیکھا ہے۔ صورتحال بدستور نہایت غیر یقینی ہے اور پہلے سے غیر واضح عالمی معاشی ماحول میں مزید پیچیدگی پیدا کر رہی ہے۔ اس مرحلے پر خطے اور عالمی معیشت پر اس کے اثرات کا درست اندازہ لگانا قبل از وقت ہے۔ اس کے اثرات کا انحصار تنازع کے دائرہ کار اور مدت پر ہوگا۔ ہم اپریل میں جاری ہونے والی اپنی ورلڈ اکنامک آؤٹ لک رپورٹ میں اس کا جامع جائزہ پیش کریں گے۔“</p>
<p>آئی ایم ایف کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں ملکن انسٹی ٹیوٹ کی فیوچر آف فنانس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی معیشت پر جنگ کے اثرات کا انحصار اس کے دورانیے اور خطے میں انفراسٹرکچر اور صنعتوں کو پہنچنے والے نقصان پر ہوگا۔ خاص طور پر یہ اہم ہوگا کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ عارضی ثابت ہوتا ہے یا طویل المدتی، اور جیو پولیٹیکل پیش رفتیں کس حد تک فنڈ کو اپنی معاشی پیش گوئیوں کو مزید بہتر بنانے میں مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ تنازع ” مہنگائی، معاشی نمو اور دیگر اشاریوں سمیت مختلف حوالوں سے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کر سکتا ہے۔“</p>
<p>دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کے گورنر نے گزشتہ بدھ کو پارلیمانی کمیٹی برائے خزانہ سے خطاب کرتے ہوئے، جسے انہوں نے ”علاقائی تنازع“ قرار دیا، اس کے باوجود ملکی شرحِ نمو 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی۔ موجودہ مالی سال کے بجٹ میں شرحِ نمو کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا تھا۔ ان کی یہ امید غالباً اس پیش رفت پر مبنی ہے کہ 25 فروری کو اسٹیٹ بینک اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان تیسرے جائزے پر مذاکرات مکمل ہونے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کا مقصد اسٹاف لیول معاہدے تک پہنچنا ہے تاکہ اگلی قسط کی منظوری کے لیے بورڈ اجلاس کی راہ ہموار ہو سکے۔</p>
<p>تاہم عالمی معیشت کے متوقع منظرنامے، بالخصوص پاکستان کے حوالے سے، اگر ان اندازوں سے ہٹتے ہیں تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ فنڈ کا عملہ اسٹیٹ بینک کے ساتھ طے شدہ شرائط پر نظرِ ثانی کرے۔ اس تاثر کو کاٹز کے اس بیان سے تقویت ملتی ہے:”میری توقع ہے کہ مرکزی بینک محتاط رہیں گے اور صورتحال کے ارتقا کے مطابق ردعمل دیں گے۔“</p>
<p>یہ بیان اس امکان کا اشارہ بھی ہو سکتا ہے کہ شرحِ سود میں اضافہ کیا جائے یا اسے موجودہ سطح پر برقرار رکھا جائے، حالانکہ ملک میں اسٹیٹ بینک کے گورنر کی سربراہی میں قائم مانیٹری پالیسی کمیٹی پر خاصا دباؤ موجود ہے کہ 9 مارچ کو ہونے والے اجلاس میں 10.5 فیصد ڈسکاؤنٹ ریٹ میں کمی کی جائے، کیونکہ یہ شرح ہمارے علاقائی حریف ممالک کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔</p>
<p>پاکستان ایندھن کی درآمدات پر شدید انحصار کرتا ہے، تقریباً 85 فیصد ایندھن خلیجی ممالک سے، جس میں  ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی شامل ہے، اور 99 فیصد ایل این جی قطر سے حاصل کی جاتی ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ حکومت نے 2026 کے لیے درخواست دی ہے کہ 35 سے 45 ایل این جی کارگو (جن میں 24 قطر کے ہیں) بین الاقوامی مارکیٹ کی جانب موڑ دیے جائیں، کیونکہ 2016 میں قطر کے ساتھ ہونے والا مبالغہ آمیز معاہدہ ملکی طلب سے کہیں زیادہ تھا۔ جب بھی قطر دوبارہ ایل این جی برآمد کرے گا، 2016 میں طے شدہ قیمت سے کسی بھی اضافے کا فائدہ قطر کو ہوگا، جبکہ بین الاقوامی قیمت میں کمی کا بوجھ پاکستان پر آئے گا، یہ معاہدہ نہ صرف طلب کے تخمینے میں کمی بلکہ اس وقت کی حکومت کی قانونی مہارت کی کمی کو بھی ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ایندھن کی فراہمی میں کمی سے پیٹرولیم لیوی کے تحت وصولیاں متاثر ہوں گی، جس کا موجودہ سال کے بجٹ میں ہدف 1.468 ٹریلین روپے مقرر ہے۔ یہ ایک طویل مدتی وفاقی محصول کا اہم ذریعہ ہے جو وفاقی قابل تقسیم رقم کا حصہ نہیں ہے۔ پہلے چھ ماہ میں حکومت نے اس کے تحت 822.9 ارب روپے جمع کیے، اور اگلے چھ ماہ کے لیے 645.495 ارب روپے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس رقم کی عدم وصولی بجٹ خسارے میں اضافہ کرے گی، جو شدید مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔ حکومت ممکنہ طور پر فنڈ کے دباؤ میں آ کر متفقہ ہنگامی اقدامات نافذ کرنے پر مجبور ہو سکتی ہے، کچھ دیگر اشیاء پر ٹیکس بڑھانا یا لیوی میں اضافہ کرنا، کیونکہ اب مہنگائی کو محدود کرنے کے لیے کوئی اوپری حد موجود نہیں۔ اس کے ساتھ ایس بی پی کو ڈسکاؤنٹ ریٹ بڑھانے کی ضرورت بھی پیش آ سکتی ہے۔</p>
<p>وزیر پٹرولیم نے منگل کو سعودی سفیر سے ملاقات کے بعد بتایا ہے کہ پاکستان بحیرہ احمر کی بندرگاہ کے ذریعے سعودی تیل تک رسائی حاصل کر سکے گا۔ تاہم انہیں اس راستے میں دو بڑے خطرات یاد رکھنے کی ضرورت ہے: (الف) سعودی اور حوثی تعلقات 2015 میں دونوں کے درمیان جنگ کے بعد اب تک کشیدہ ہیں، اور (ب) حوثیوں نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی نسل کشی کے ردِعمل میں اسرائیل کی ایلات بندرگاہ تک بحیرہ احمر کے راستے شپنگ تقریباً معطل کر دی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ وزیر خارجہ حوثیوں سے بات چیت کریں تاکہ پاکستان کے لیے اس راستے سے ایندھن کی فروخت ممکن ہو سکے۔</p>
<p>تنازع کے آغاز کے ایک ہفتے بعد حکومت نے پیٹرول اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتیں اس سطح تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے جسے وہ اس وقت تک طلب کو محدود کرنے والا سمجھتی ہے جب تک ایندھن کی فراہمی معمول پر نہ آجائے۔ یہ فیصلہ قابل حمایت ہے۔ اس سے قبل وزیرِ اعظم نے دو کمیٹیاں قائم کی تھیں،ایک کی سربراہی وزیرِ خزانہ کے پاس اور دوسری کی سربراہی وزیرِ بحری امور کے پاس، جنہیں مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے منفی اثرات کا جائزہ لینے اور اسے کم کرنے کے لیے اقدامات تجویز کرنے کا ٹاسک دیا گیا تھا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت پاکستان کو درپیش مسائل سے مکمل آگاہ ہے اور اس کوشش کو سراہنا چاہیے۔ تاہم، حکومت کو یہ بھی غور کرنا چاہیے کہ موجودہ اخراجات میں کمی کی جائے، نہ کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جو ملک میں غربت کی شرح کو مزید بڑھا دیں، جو عالمی بینک کی جون 2025 کی رپورٹ کے مطابق پہلے ہی تشویشناک 44.7 فیصد ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283688</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 17:09:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0916244855a91dc.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0916244855a91dc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
