<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:09:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283679/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت آئندہ 3 ماہ (مارچ سے مئی) کے دوران سیکیورٹی بانڈز کی فروخت کے ذریعے 6.525 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ انکشاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان  میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کا ایجنڈا ’کیش لیس (نقدی کے بغیر) معیشت کو فروغ دینا تھا۔ اس حوالے سے تین مشاہدات اہم ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سب سے پہلی اور اہم بات بانڈز کی فروخت کا وقت ہے چونکہ پاکستان میں بجٹ جون (مالی سال کے آخری مہینے) میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے یہ فروخت رواں سال کی آمدن اور اخراجات کے درمیان ایک متوقع شارٹ فال (خسارے) کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کا 93 فیصد حصہ کرنٹ ایکسپنڈیچر (بنیادی اخراجات) کے لیے مختص کیا گیا ہے, جیسا کہ ہمارے بجٹ کا معمول ہے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ترقیاتی اخراجات کی ادائیگیوں میں پہلے ہی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کٹوتی کی جا چکی ہے (ایک ایسا رجحان جو پچھلے بجٹ میں بھی عیاں تھا اور موجودہ مالی سال کے باقی چار مہینوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے)، تو یہ باآسانی فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تمام رقم (6.5 ٹریلین روپے) ایسے اخراجات کے لیے استعمال ہوگی جس کے پیچھے پیداواری صلاحیت  میں کوئی اضافہ نہیں ہے جو کہ ایک انتہائی مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری بات یہ ہے کہ ماضی کی نظیروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے (جس کا ذکر آئی ایم ایف کے سابقہ اور موجودہ پروگراموں کے قرضوں میں بھی ملتا ہے)، مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کا عملہ ممکنہ طور پر اسٹیٹ بینک پر زور دے گا کہ وہ موجودہ 10.5 فیصد کی شرح سود میں مزید اضافہ کرے۔ اس شرح کو پہلے ہی ملک کی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی صنعت اپنے علاقائی حریفوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کر رہی ہے، جنہیں پاکستان کی موجودہ شرح کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم شرح سود کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہماری مانیٹری پالیسی میں مزید سختی تقریباً یقینی طور پر ملکی مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو کو متاثر کرے گی جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اور آخر میں رواں سال کے بجٹ میں پورے سال کے لیے بینکوں سے قرض لینے (ٹریژری بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک اور سیکیورٹی بانڈز کے ذریعے) کی حد 3.436 ٹریلین روپے رکھی گئی تھی۔ اس تناظر میں صرف تین مہینوں کے اندر 6.525 ٹریلین روپے جمع کرنے کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ یہ بجٹ میں طے شدہ رقم سے 90 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے ملکی قرضوں کا دستیاب ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ جون 2025 کے آخر تک قرضہ 54.472 ٹریلین روپے تھا جو دسمبر 2025 کے آخر تک بڑھ کر 55.363 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی پہلے چھ ماہ میں 891 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ میں طے شدہ رقم میں سے ابھی 2.545 ٹریلین روپے ادھار لینا باقی تھا۔ جنوری اور فروری 2026 کا ڈیٹا ابھی دستیاب نہیں ہے، اس لیے مزید وضاحت درکار ہے کہ اگلے تین مہینوں میں لیے جانے والے 6.525 ٹریلین روپے میں سے کتنی رقم بجٹ کا حصہ ہے اور کتنی اضافی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;“اس حوالے سے بھی مزید وضاحت درکار ہے کہ ان نئے بانڈز پرشرحِ سود کیا لاگو ہوگی (خاص طور پر جب اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مختصر مدت کے حکومتی بانڈز کے ’کٹ آف ییلڈز‘ میں 39 بیسس پوائنٹس تک کا اضافہ ہو چکا ہے)۔ اس وضاحت سے ملکی قرضوں پر مارک اپ  میں ہونے والے اضافے کا اندازہ لگایا جا سکے گا جو کہ کرنٹ ایکسپنڈیچر  کا ایک ایسا حصہ ہے جو بجٹ میں مسلسل بڑھ رہا ہے، اگرچہ رواں سال اس میں کمی کر کے اسے 7,197,335 ملین روپے (تقریباً 7.2 ٹریلین) رکھا گیا تھا جبکہ گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینے 7,906,733 ملین روپے (تقریباً 7.9 ٹریلین) تھے۔سود کی ادائیگیوں میں یہ (متوقع) کمی دسمبر 2025 کے آخر تک شرحِ سود میں متوقع کمی سے مشروط تھی، یہ وہ دعویٰ تھا جو معاشی ٹیم کے دو اہم سربراہان، بالخصوص وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پارلیمنٹ کے اراکین سے کیا تھا۔ تاہم، اگرچہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی تو کی، لیکن یہ کمی صرف 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) تک محدود رہی، جو کہ بجٹ میں طے شدہ سود کی ادائیگیوں (مارک اپ) میں نمایاں کمی لانے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بزنس ریکارڈر نے مستقل بنیادوں پر حکومت کی جانب سے کرنٹ ایکسپنڈیچر (روزمرہ کے اخراجات) کو کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم یہ کوششیں اب تک صرف لفظی دعووں تک محدود رہی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس نیک مقصد کے حصول کے لیے اب عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت آئندہ 3 ماہ (مارچ سے مئی) کے دوران سیکیورٹی بانڈز کی فروخت کے ذریعے 6.525 ٹریلین روپے جمع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، یہ انکشاف اسٹیٹ بینک آف پاکستان  میں ہونے والے ایک اعلیٰ سطح جائزہ اجلاس کے بعد سامنے آیا، جس کا ایجنڈا ’کیش لیس (نقدی کے بغیر) معیشت کو فروغ دینا تھا۔ اس حوالے سے تین مشاہدات اہم ہیں۔</strong></p>
<p>سب سے پہلی اور اہم بات بانڈز کی فروخت کا وقت ہے چونکہ پاکستان میں بجٹ جون (مالی سال کے آخری مہینے) میں پیش کیا جاتا ہے، اس لیے یہ فروخت رواں سال کی آمدن اور اخراجات کے درمیان ایک متوقع شارٹ فال (خسارے) کو ظاہر کرتی ہے۔ اس بات کو مدِنظر رکھتے ہوئے کہ مالی سال 26-2025 کے بجٹ کا 93 فیصد حصہ کرنٹ ایکسپنڈیچر (بنیادی اخراجات) کے لیے مختص کیا گیا ہے, جیسا کہ ہمارے بجٹ کا معمول ہے اور یہ دیکھتے ہوئے کہ ترقیاتی اخراجات کی ادائیگیوں میں پہلے ہی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران کٹوتی کی جا چکی ہے (ایک ایسا رجحان جو پچھلے بجٹ میں بھی عیاں تھا اور موجودہ مالی سال کے باقی چار مہینوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے)، تو یہ باآسانی فرض کیا جا سکتا ہے کہ یہ تمام رقم (6.5 ٹریلین روپے) ایسے اخراجات کے لیے استعمال ہوگی جس کے پیچھے پیداواری صلاحیت  میں کوئی اضافہ نہیں ہے جو کہ ایک انتہائی مہنگائی پیدا کرنے والی پالیسی ہے۔</p>
<p>دوسری بات یہ ہے کہ ماضی کی نظیروں کو مدِنظر رکھتے ہوئے (جس کا ذکر آئی ایم ایف کے سابقہ اور موجودہ پروگراموں کے قرضوں میں بھی ملتا ہے)، مہنگائی بڑھنے کے ساتھ ہی آئی ایم ایف کا عملہ ممکنہ طور پر اسٹیٹ بینک پر زور دے گا کہ وہ موجودہ 10.5 فیصد کی شرح سود میں مزید اضافہ کرے۔ اس شرح کو پہلے ہی ملک کی لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی صنعت اپنے علاقائی حریفوں کے ساتھ مقابلہ کرنے کی صلاحیت میں ایک بڑی رکاوٹ کے طور پر پیش کر رہی ہے، جنہیں پاکستان کی موجودہ شرح کے مقابلے میں آدھی سے بھی کم شرح سود کا سامنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، ہماری مانیٹری پالیسی میں مزید سختی تقریباً یقینی طور پر ملکی مجموعی قومی پیداوار کی شرحِ نمو کو متاثر کرے گی جس میں مشرقِ وسطیٰ کے جاری تنازع کی وجہ سے پہلے ہی کمی کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>اور آخر میں رواں سال کے بجٹ میں پورے سال کے لیے بینکوں سے قرض لینے (ٹریژری بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک اور سیکیورٹی بانڈز کے ذریعے) کی حد 3.436 ٹریلین روپے رکھی گئی تھی۔ اس تناظر میں صرف تین مہینوں کے اندر 6.525 ٹریلین روپے جمع کرنے کا فیصلہ انتہائی تشویشناک ہے، کیونکہ یہ بجٹ میں طے شدہ رقم سے 90 فیصد زیادہ ہے۔ رواں سال کے پہلے چھ ماہ کے ملکی قرضوں کا دستیاب ڈیٹا ظاہر کرتا ہے کہ جون 2025 کے آخر تک قرضہ 54.472 ٹریلین روپے تھا جو دسمبر 2025 کے آخر تک بڑھ کر 55.363 ٹریلین روپے ہو گیا، یعنی پہلے چھ ماہ میں 891 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بجٹ میں طے شدہ رقم میں سے ابھی 2.545 ٹریلین روپے ادھار لینا باقی تھا۔ جنوری اور فروری 2026 کا ڈیٹا ابھی دستیاب نہیں ہے، اس لیے مزید وضاحت درکار ہے کہ اگلے تین مہینوں میں لیے جانے والے 6.525 ٹریلین روپے میں سے کتنی رقم بجٹ کا حصہ ہے اور کتنی اضافی ہے۔</p>
<p>“اس حوالے سے بھی مزید وضاحت درکار ہے کہ ان نئے بانڈز پرشرحِ سود کیا لاگو ہوگی (خاص طور پر جب اسٹیٹ بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مختصر مدت کے حکومتی بانڈز کے ’کٹ آف ییلڈز‘ میں 39 بیسس پوائنٹس تک کا اضافہ ہو چکا ہے)۔ اس وضاحت سے ملکی قرضوں پر مارک اپ  میں ہونے والے اضافے کا اندازہ لگایا جا سکے گا جو کہ کرنٹ ایکسپنڈیچر  کا ایک ایسا حصہ ہے جو بجٹ میں مسلسل بڑھ رہا ہے، اگرچہ رواں سال اس میں کمی کر کے اسے 7,197,335 ملین روپے (تقریباً 7.2 ٹریلین) رکھا گیا تھا جبکہ گزشتہ سال کے ترمیمی تخمینے 7,906,733 ملین روپے (تقریباً 7.9 ٹریلین) تھے۔سود کی ادائیگیوں میں یہ (متوقع) کمی دسمبر 2025 کے آخر تک شرحِ سود میں متوقع کمی سے مشروط تھی، یہ وہ دعویٰ تھا جو معاشی ٹیم کے دو اہم سربراہان، بالخصوص وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے پارلیمنٹ کے اراکین سے کیا تھا۔ تاہم، اگرچہ مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 15 دسمبر 2025 کو ہونے والے اپنے اجلاس میں شرحِ سود میں کمی تو کی، لیکن یہ کمی صرف 50 بیسس پوائنٹس (0.5 فیصد) تک محدود رہی، جو کہ بجٹ میں طے شدہ سود کی ادائیگیوں (مارک اپ) میں نمایاں کمی لانے کے لیے کافی نہیں ہوسکتی۔</p>
<p>بزنس ریکارڈر نے مستقل بنیادوں پر حکومت کی جانب سے کرنٹ ایکسپنڈیچر (روزمرہ کے اخراجات) کو کم کرنے کی کوششوں کی حمایت کی ہے، تاہم یہ کوششیں اب تک صرف لفظی دعووں تک محدود رہی ہیں۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اس نیک مقصد کے حصول کے لیے اب عملی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283679</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 14:02:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/09140059657bca4.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/09140059657bca4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
