<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:19:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کا بحران: پاکستان اور بھارت ہائی رسک زون میں، معاشی مشکلات بڑھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو ابتدائی تجارت کے دوران تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو جولائی 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے بعض بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے سپلائی میں کٹوتی کردی ہے جس سے آبنائے ہرمزکے ذریعے بحری ترسیل میں طویل مدتی تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فِچ سولیوشنز کی ذیلی کمپنی بی ایم آئی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی ایم آئی کے مطابق ہمارا بنیادی منظرنامہ یہ ہے کہ ایران میں تنازع بڑے پیمانے پر لیکن مختصر مدت کا ہوگا، اگرچہ ایک طویل جنگ کا واضح خطرہ موجود ہے۔ ایمرجنگ مارکیٹوں میں اس کے معاشی اثرات خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک میں سب سے زیادہ نمایاں ہوں گے، جو تجارت، لاجسٹکس، سیاحت اور سرمایہ کاری پر اس صدمے کے منفی اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا یہ کہ پاکستان اور بھارت سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ممالک توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں اور ان کا آبنائے ہرمز  پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ دوسرا یہ کہ تجارتی راستوں کی بندش کے علاوہ مصر اور ترکیہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ ان کا توانائی کا بھاری درآمدی بل، نازک بیرونی معاشی پوزیشن، ایندھن پر دی جانے والی بڑی سبسڈیز اور بے قابو مہنگائی ہے۔ تیسرا یہ کہ، سب صحارا افریقہ اور لاطینی امریکہ کی وہ معیشتیں جو خود خام مال  پیدا کرتی ہیں، جیسے نائیجیریا، گھانا اور پیرو، وہ سب سے کم خطرے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ڈینئیل ہائنز، سینئر کموڈٹی اسٹریٹیجسٹ، اے این زیڈ سڈنی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈینئیل ہائنز کے مطابق میرا خیال ہے کہ آج صبح قیمتوں میں اضافہ اس رپورٹ کے اثر سے ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اب اپنی پیداوار کم کر رہے ہیں کیونکہ ان کے ذخیرہ کرنے کے وسائل تیزی سے بھر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیدا کنندگان کی جانب سے پیداوار میں کٹوتی کا خدشہ قیمتوں کو بلند رکھے گا۔ اگلا اہم اشارہ یہ ہوگا کہ آیا نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ انہیں تیل کے کنویں مستقل بند کرنے پڑ جائیں، یہ نہ صرف پیداوار کو مزید متاثر کرے گا بلکہ تنازع ختم ہونے کے بعد بحالی کے عمل میں بھی تاخیر کا باعث بنے گا۔ ایسی صورتحال قیمتوں کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وشنُو وراتھن، ہیڈ آف میکرو ریسرچ (ایشیا سوائے جاپان)، میزوہو ، سنگاپور&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وشنُو وراتھن  کے مطابق تیل کی رسد (سپلائی) میں اچانک آنے والا صدمہ محض توانائی برآمد یا درآمد کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دور تک جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قیمتوں کے علاوہ سپلائی چین پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں جو منافع  کو کھا جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انڈونیشیا جیسے مقامات پر بھی، جہاں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر سڑکوں پر احتجاج کوئی غیر معمولی بات نہیں، اثر پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیا کو تیل کی قیمتوں میں اس شدید اضافے کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، اور بچنے یا چھپنے کے لیے بہت کم جگہیں رہ جائیں گی۔ ڈالر کی کارکردگی ہی سب سے بہتر رہے گی، کیونکہ جاپان اور کوریا کو یہاں شدید خطرات لاحق ہیں اور برینٹ کروڈ کے 107 ڈالر تک پہنچنے سے شدید معاشی تکلیف کی توقع کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سول کاوونک، ہیڈ آف انرجی ریسرچ، ایم ایس ٹی مارکی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سول کاوونک کے مطابق مارکیٹ گزشتہ جمعہ تک جنگ کے دائرہ کار، دورانیے اور اس سے وابستہ سپلائی میں رکاوٹوں کے حوالے سے غفلت  کا شکار تھی۔ یہ تیل کی مارکیٹ کی مثال بالکل اس گڈریے جیسی ہے جو ’بھیڑیا آیا، بھیڑیا آیا‘ کی پکار لگاتا رہا۔ گزشتہ تین سال سے جیو پولیٹیکل رسک پریمیم میں اضافہ تو ہوتا رہا لیکن وہ سپلائی میں کسی بڑی رکاوٹ میں تبدیل نہ ہو سکا جس کی وجہ سے مارکیٹ موجودہ واقعات کے بارے میں بے فکر ہو گئی تھی۔ لیکن ایران کی یہ وجود کی جنگ توانائی  بحران کا وہ منظر نامہ ہے جس کی پچھلے 50 سال سے وار گیمنگ (پیشگی منصوبہ بندی) کی جارہی تھی اور اب یہ آخر کار سامنے آ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مائیکل ایم، چیف آپریٹنگ آفیسر، مو مو، سڈنی&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مائیکل ایم  کے مطابق ریفائنریوں پر حملوں کی دھمکیاں انتہائی تشویشناک ہیں، کیونکہ یہ بدترین معاشی حالات کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی تیل کی سپلائی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کٹ جانے سے نہ صرف عالمی سطح پر ہر معیشت کی رفتار سست ہو جائے گی، بلکہ یہ مہنگائی کے ایک شدید جھٹکے  کا باعث بھی بنے گا۔ اور مہنگائی کے ساتھ ترقی کی رفتار کا سست ہونا اسٹیگ فلیشن کہلاتا ہے جو کہ ایک معاشی تباہی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتوں میں پیر کو ابتدائی تجارت کے دوران تقریباً 20 فیصد اضافہ دیکھا گیا جو جولائی 2022 کے بعد اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔ ایران کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل کی پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے بعض بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے سپلائی میں کٹوتی کردی ہے جس سے آبنائے ہرمزکے ذریعے بحری ترسیل میں طویل مدتی تعطل کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔</strong></p>
<p><strong>فِچ سولیوشنز کی ذیلی کمپنی بی ایم آئی</strong></p>
<p>بی ایم آئی کے مطابق ہمارا بنیادی منظرنامہ یہ ہے کہ ایران میں تنازع بڑے پیمانے پر لیکن مختصر مدت کا ہوگا، اگرچہ ایک طویل جنگ کا واضح خطرہ موجود ہے۔ ایمرجنگ مارکیٹوں میں اس کے معاشی اثرات خلیج تعاون کونسل (جی سی سی ) کے ممالک میں سب سے زیادہ نمایاں ہوں گے، جو تجارت، لاجسٹکس، سیاحت اور سرمایہ کاری پر اس صدمے کے منفی اثرات کی عکاسی کرتے ہیں۔</p>
<p>پہلا یہ کہ پاکستان اور بھارت سب سے زیادہ متاثر ہوسکتے ہیں کیونکہ یہ دونوں ممالک توانائی کے بڑے درآمد کنندگان ہیں اور ان کا آبنائے ہرمز  پر انحصار بہت زیادہ ہے۔ دوسرا یہ کہ تجارتی راستوں کی بندش کے علاوہ مصر اور ترکیہ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں، جس کی وجہ ان کا توانائی کا بھاری درآمدی بل، نازک بیرونی معاشی پوزیشن، ایندھن پر دی جانے والی بڑی سبسڈیز اور بے قابو مہنگائی ہے۔ تیسرا یہ کہ، سب صحارا افریقہ اور لاطینی امریکہ کی وہ معیشتیں جو خود خام مال  پیدا کرتی ہیں، جیسے نائیجیریا، گھانا اور پیرو، وہ سب سے کم خطرے میں ہیں۔</p>
<p><strong>ڈینئیل ہائنز، سینئر کموڈٹی اسٹریٹیجسٹ، اے این زیڈ سڈنی</strong></p>
<p>ڈینئیل ہائنز کے مطابق میرا خیال ہے کہ آج صبح قیمتوں میں اضافہ اس رپورٹ کے اثر سے ہوا کہ مشرقِ وسطیٰ کے تیل پیدا کرنے والے ممالک اب اپنی پیداوار کم کر رہے ہیں کیونکہ ان کے ذخیرہ کرنے کے وسائل تیزی سے بھر رہے ہیں۔</p>
<p>میں یقیناً سمجھتا ہوں کہ مشرقِ وسطیٰ کے پیدا کنندگان کی جانب سے پیداوار میں کٹوتی کا خدشہ قیمتوں کو بلند رکھے گا۔ اگلا اہم اشارہ یہ ہوگا کہ آیا نوبت یہاں تک پہنچتی ہے کہ انہیں تیل کے کنویں مستقل بند کرنے پڑ جائیں، یہ نہ صرف پیداوار کو مزید متاثر کرے گا بلکہ تنازع ختم ہونے کے بعد بحالی کے عمل میں بھی تاخیر کا باعث بنے گا۔ ایسی صورتحال قیمتوں کو طویل عرصے تک بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہے۔</p>
<p><strong>وشنُو وراتھن، ہیڈ آف میکرو ریسرچ (ایشیا سوائے جاپان)، میزوہو ، سنگاپور</strong></p>
<p>وشنُو وراتھن  کے مطابق تیل کی رسد (سپلائی) میں اچانک آنے والا صدمہ محض توانائی برآمد یا درآمد کرنے والے ممالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے اثرات دور تک جاتے ہیں۔</p>
<p>قیمتوں کے علاوہ سپلائی چین پر اس کے شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں جو منافع  کو کھا جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ انڈونیشیا جیسے مقامات پر بھی، جہاں پٹرول کی قیمتیں بڑھنے پر سڑکوں پر احتجاج کوئی غیر معمولی بات نہیں، اثر پڑے گا۔</p>
<p>ایشیا کو تیل کی قیمتوں میں اس شدید اضافے کا سب سے زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا، اور بچنے یا چھپنے کے لیے بہت کم جگہیں رہ جائیں گی۔ ڈالر کی کارکردگی ہی سب سے بہتر رہے گی، کیونکہ جاپان اور کوریا کو یہاں شدید خطرات لاحق ہیں اور برینٹ کروڈ کے 107 ڈالر تک پہنچنے سے شدید معاشی تکلیف کی توقع کی جا سکتی ہے۔</p>
<p><strong>سول کاوونک، ہیڈ آف انرجی ریسرچ، ایم ایس ٹی مارکی</strong></p>
<p>سول کاوونک کے مطابق مارکیٹ گزشتہ جمعہ تک جنگ کے دائرہ کار، دورانیے اور اس سے وابستہ سپلائی میں رکاوٹوں کے حوالے سے غفلت  کا شکار تھی۔ یہ تیل کی مارکیٹ کی مثال بالکل اس گڈریے جیسی ہے جو ’بھیڑیا آیا، بھیڑیا آیا‘ کی پکار لگاتا رہا۔ گزشتہ تین سال سے جیو پولیٹیکل رسک پریمیم میں اضافہ تو ہوتا رہا لیکن وہ سپلائی میں کسی بڑی رکاوٹ میں تبدیل نہ ہو سکا جس کی وجہ سے مارکیٹ موجودہ واقعات کے بارے میں بے فکر ہو گئی تھی۔ لیکن ایران کی یہ وجود کی جنگ توانائی  بحران کا وہ منظر نامہ ہے جس کی پچھلے 50 سال سے وار گیمنگ (پیشگی منصوبہ بندی) کی جارہی تھی اور اب یہ آخر کار سامنے آ گیا ہے۔</p>
<p><strong>مائیکل ایم، چیف آپریٹنگ آفیسر، مو مو، سڈنی</strong></p>
<p>مائیکل ایم  کے مطابق ریفائنریوں پر حملوں کی دھمکیاں انتہائی تشویشناک ہیں، کیونکہ یہ بدترین معاشی حالات کا خطرہ پیدا کرتی ہیں۔ دنیا کی تیل کی سپلائی کا 15 سے 20 فیصد حصہ کٹ جانے سے نہ صرف عالمی سطح پر ہر معیشت کی رفتار سست ہو جائے گی، بلکہ یہ مہنگائی کے ایک شدید جھٹکے  کا باعث بھی بنے گا۔ اور مہنگائی کے ساتھ ترقی کی رفتار کا سست ہونا اسٹیگ فلیشن کہلاتا ہے جو کہ ایک معاشی تباہی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283677</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 12:33:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/09115343aee486e.webp" type="image/webp" medium="image" height="432" width="768">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/09115343aee486e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
