<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 06 Jun 2026 01:53:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 06 Jun 2026 01:53:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خام تیل کی بڑھتی قیمتوں نے ڈالر کو مضبوط کردیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283668/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مسلسل بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث پیر کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں تیز اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سرمایہ کار عالمی توانائی کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ اور عالمی معاشی ترقی پر پڑنے والے اثرات کے خدشات کے پیش نظر نقد رقم حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تیزی سے مضبوط ہونے والے ڈالر کے مقابلے میں یورو اور اسٹرلنگ تقریبا ایک فیصد کمی کے ساتھ ایشیا میں کمزور ہوئے، جبکہ آسٹریلین اور سوئس فرانک بھی ڈالر کے مقابلے میں نیچے آئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کے توانائی کے خالص برآمد کنندہ ہونے کی حیثیت اور محفوظ کرنسی ہونے کے اثرات نے ڈالر کو عالمی منڈی میں برتری دلائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی منڈی میں اس کے نتیجے میں اسٹاکس، بانڈز اور قیمتی دھاتوں میں بے ترتیب فروخت دیکھنے میں آئی، کیونکہ سرمایہ کار بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے خوفزدہ ہو کر اپنے خطرے والے اثاثے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو 1.1517 ڈالر پر اور اسٹرلنگ 1.3294 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ سوئس فرانک کے مقابلے میں ڈالر 0.7817 رہا۔ آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر بالترتیب 0.77 اور 0.5 فیصد نیچے گئے۔ ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 158.70 اور جنوبی کوریا کے وون کے مقابلے میں 1,496.40 پر پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی خطے کے لیے توانائی کی بلند قیمتوں کا اثر زیادہ شدید ہو سکتا ہے کیونکہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا ہے، جس سے سخت گیر قیادت کا تسلسل برقرار رہنے کا اشارہ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کی وجہ سے عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کی تقریبا پانچویں حصہ سپلائی معطل ہو گئی ہے جبکہ خلیجی ممالک توانائی کی برآمدات بند کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کو بڑھا سکتی ہیں اور سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کمی سے گریز کر سکتے ہیں۔ امریکی کمزور روزگار کے اعداد و شمار نے مختصر طور پر ڈالر کی قدر کو محدود کیا لیکن پیر تک اس اثر میں کمی آ گئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مسلسل بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے باعث پیر کے روز امریکی ڈالر کی قدر میں تیز اضافہ دیکھنے میں آیا، کیونکہ سرمایہ کار عالمی توانائی کی سپلائی میں ممکنہ رکاوٹ اور عالمی معاشی ترقی پر پڑنے والے اثرات کے خدشات کے پیش نظر نقد رقم حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔</strong></p>
<p>اس تیزی سے مضبوط ہونے والے ڈالر کے مقابلے میں یورو اور اسٹرلنگ تقریبا ایک فیصد کمی کے ساتھ ایشیا میں کمزور ہوئے، جبکہ آسٹریلین اور سوئس فرانک بھی ڈالر کے مقابلے میں نیچے آئے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا کے توانائی کے خالص برآمد کنندہ ہونے کی حیثیت اور محفوظ کرنسی ہونے کے اثرات نے ڈالر کو عالمی منڈی میں برتری دلائی ہے۔</p>
<p>عالمی منڈی میں اس کے نتیجے میں اسٹاکس، بانڈز اور قیمتی دھاتوں میں بے ترتیب فروخت دیکھنے میں آئی، کیونکہ سرمایہ کار بڑھتی ہوئی تیل کی قیمتوں کے اثرات سے خوفزدہ ہو کر اپنے خطرے والے اثاثے فروخت کر کے نقد رقم حاصل کرنے پر مجبور ہوئے۔</p>
<p>یورو 1.1517 ڈالر پر اور اسٹرلنگ 1.3294 ڈالر پر ٹریڈ ہوا جبکہ سوئس فرانک کے مقابلے میں ڈالر 0.7817 رہا۔ آسٹریلین اور نیوزی لینڈ ڈالر بالترتیب 0.77 اور 0.5 فیصد نیچے گئے۔ ڈالر جاپانی ین کے مقابلے میں 158.70 اور جنوبی کوریا کے وون کے مقابلے میں 1,496.40 پر پہنچ گیا۔</p>
<p>ایشیائی خطے کے لیے توانائی کی بلند قیمتوں کا اثر زیادہ شدید ہو سکتا ہے کیونکہ یہ خطہ مشرق وسطیٰ سے تیل اور گیس پر زیادہ انحصار کرتا ہے۔ ایران نے مجتبیٰ خامنہ ای کو سپریم لیڈر مقرر کیا ہے، جس سے سخت گیر قیادت کا تسلسل برقرار رہنے کا اشارہ ملا ہے۔</p>
<p>جنگ کی وجہ سے عالمی خام تیل اور قدرتی گیس کی تقریبا پانچویں حصہ سپلائی معطل ہو گئی ہے جبکہ خلیجی ممالک توانائی کی برآمدات بند کرنے پر غور کر رہے ہیں، جس سے تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔</p>
<p>تیل کی بلند قیمتیں مہنگائی کو بڑھا سکتی ہیں اور سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ مرکزی بینک شرح سود میں کمی سے گریز کر سکتے ہیں۔ امریکی کمزور روزگار کے اعداد و شمار نے مختصر طور پر ڈالر کی قدر کو محدود کیا لیکن پیر تک اس اثر میں کمی آ گئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283668</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 09:14:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/09091248342cccf.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/09091248342cccf.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
