<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 01:57:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 01:57:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایران میں علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای نئے سپریم لیڈر نامزد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283665/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کو نامزد کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ اشارہ ملا ہے کہ تہران میں سخت گیر قیادت بدستور اقتدار میں رہے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کو ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مجتبیٰ خامنہ ای مذہبی عالم ہیں اور اپنے والد کے دور میں ایران کی سکیورٹی فورسز اور بڑے کاروباری نیٹ ورکس میں خاص اثر و رسوخ رکھتے رہے ہیں۔ ان کے انتخاب سے قبل بھی انہیں اس عہدے کے مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری ماہرین کی اسمبلی کے پاس ہوتی ہے جو 88 علما پر مشتمل ادارہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسمبلی نے تہران کے وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ فیصلہ کن ووٹنگ کے بعد آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا تیسرا رہنما مقرر کیا گیا ہے۔ ایران کے نظام میں سپریم لیڈر کو ریاستی امور پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تقرری امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ واشنگٹن کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کردار ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر نئے رہنما کو امریکا کی منظوری نہ ملی تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایک ہفتہ قبل ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ ادھر امریکی فوج کے مطابق ایران کے جوابی حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور امریکی فوجی دم توڑ گیا ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک کم از کم 1,332 ایرانی شہری جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران جنگ بندی کا خواہاں نہیں اور حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگ کے نویں دن بھی اسرائیل نے ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق سپریم لیڈر کے فوجی دفتر کے سربراہ ابوالقاسم بابائیان ہفتے کے روز ایک حملے میں مارے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا تہران کے شہریوں نے بتایا کہ اتوار کو تیل کے ذخیرہ گاہوں پر حملوں کے بعد شہر کے اوپر سیاہ دھواں چھا گیا جبکہ رات کے وقت آسمان پر شعلوں کی روشنی دیکھی گئی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بڑے حملے کو جنگ کا خطرناک نیا مرحلہ قرار دیتے ہوئے اسے جنگی جرم کہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ذخیرہ گاہیں ایران کی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کرتی تھیں اور اس لیے وہ جائز فوجی ہدف تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور حکومت کے پاس اس مقصد کے لیے ایک منظم منصوبہ موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، جبکہ جنگ کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور فضائی سفر متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایران میں سپریم لیڈر کے عہدے کے لیے مجتبیٰ خامنہ ای کو نامزد کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ اشارہ ملا ہے کہ تہران میں سخت گیر قیادت بدستور اقتدار میں رہے گی۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری جنگ کو ایک ہفتے سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔</strong></p>
<p>مجتبیٰ خامنہ ای مذہبی عالم ہیں اور اپنے والد کے دور میں ایران کی سکیورٹی فورسز اور بڑے کاروباری نیٹ ورکس میں خاص اثر و رسوخ رکھتے رہے ہیں۔ ان کے انتخاب سے قبل بھی انہیں اس عہدے کے مضبوط امیدواروں میں شمار کیا جا رہا تھا۔ ایران میں سپریم لیڈر کے انتخاب کی ذمہ داری ماہرین کی اسمبلی کے پاس ہوتی ہے جو 88 علما پر مشتمل ادارہ ہے۔</p>
<p>اسمبلی نے تہران کے وقت کے مطابق آدھی رات کے بعد جاری بیان میں کہا کہ فیصلہ کن ووٹنگ کے بعد آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کو اسلامی جمہوریہ ایران کے مقدس نظام کا تیسرا رہنما مقرر کیا گیا ہے۔ ایران کے نظام میں سپریم لیڈر کو ریاستی امور پر حتمی اختیار حاصل ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ تقرری امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سامنے آئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سے قبل کہا تھا کہ واشنگٹن کا ایران کے نئے سپریم لیڈر کے انتخاب میں کردار ہونا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا تھا کہ اگر نئے رہنما کو امریکا کی منظوری نہ ملی تو وہ زیادہ عرصہ اقتدار میں نہیں رہ سکیں گے۔</p>
<p>ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای ایک ہفتہ قبل ایران پر ہونے والے ابتدائی حملوں میں شہید ہو گئے تھے۔ ادھر امریکی فوج کے مطابق ایران کے جوابی حملے میں زخمی ہونے والا ایک اور امریکی فوجی دم توڑ گیا ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد سات ہو گئی ہے۔</p>
<p>ایران کے اقوام متحدہ میں سفیر کے مطابق امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں اب تک کم از کم 1,332 ایرانی شہری جاں بحق جبکہ ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں۔ دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ تہران جنگ بندی کا خواہاں نہیں اور حملہ آوروں کو سزا دی جائے گی۔</p>
<p>جنگ کے نویں دن بھی اسرائیل نے ایران کے اعلیٰ عہدیداروں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق سپریم لیڈر کے فوجی دفتر کے سربراہ ابوالقاسم بابائیان ہفتے کے روز ایک حملے میں مارے گئے۔</p>
<p>دریں اثنا تہران کے شہریوں نے بتایا کہ اتوار کو تیل کے ذخیرہ گاہوں پر حملوں کے بعد شہر کے اوپر سیاہ دھواں چھا گیا جبکہ رات کے وقت آسمان پر شعلوں کی روشنی دیکھی گئی۔ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بڑے حملے کو جنگ کا خطرناک نیا مرحلہ قرار دیتے ہوئے اسے جنگی جرم کہا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ترجمان نے مؤقف اختیار کیا کہ یہ ذخیرہ گاہیں ایران کی جنگی مشینری کو ایندھن فراہم کرتی تھیں اور اس لیے وہ جائز فوجی ہدف تھیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ ایران کی قیادت کو عدم استحکام کا شکار بنانے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں گی اور حکومت کے پاس اس مقصد کے لیے ایک منظم منصوبہ موجود ہے۔</p>
<p>امریکی صدر ٹرمپ نے بھی واضح کیا ہے کہ وہ اس تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات کے خواہاں نہیں ہیں، جبکہ جنگ کے باعث عالمی توانائی قیمتوں میں اضافہ، کاروباری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور فضائی سفر متاثر ہو رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283665</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 12:26:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/09085046f08ee31.webp" type="image/webp" medium="image" height="640" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/09085046f08ee31.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
