<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets - Energy</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا اسرائیل اور ایران جنگ کے پھیلاؤ سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 25 فیصد سے زائد بڑھ گئیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283663/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;خام تیل کی قیمتیں پیر کے روز 25 فیصد سے زائد بڑھ گئیں اور جولائی 2022 کے بعد کی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئیں، کیونکہ کچھ بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے سپلائی کم کر دی اور امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کی وجہ سے شپنگ میں طویل رکاوٹوں کے خدشات نے مارکیٹ کو گھیر لیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;توانائی کی مارکیٹیں خاص طور پر بحران کا شکار ہیں کیونکہ یہ بحران آبنائے ہرمز کے گرد گھوم رہا ہے، جہاں سے دنیا میں تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور بڑھتے ہوئے حفاظتی خطرات نے شپنگ سرگرمی کو سست کر دیا ہے، جس سے ایشیائی خریدار خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ مشرق وسطی کے خام تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برینٹ کروڈ فیوچرز 27 فیصد اضافے کے ساتھ 117.65 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 28.3 فیصد اضافے کے ساتھ 116.62 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جبکہ قطر نے ایل این جی کی سپلائی کم کر دی تھی، جس سے مشرق وسطی سے شپمنٹس متاثر ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد پیداوار کم کرنی پڑے گی کیونکہ ان کے تیل کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایران میں علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری بھی قیمتوں کو بڑھا رہی ہے، جس سے ہارڈ لائنر قیادت کی مضبوطی کا اشارہ ملتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رہیں گے، جس سے قیمتیں 120 ڈالر سے 130 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی صارفین اور کاروبار ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ سپلائرز نقصان شدہ سہولیات، نقل و حمل میں رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے شپنگ کے خطرات سے نبرد آزما ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریں اثنا، امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے تیل جاری کریں تاکہ مارکیٹ مستحکم ہو اور قیمتوں میں کمی آئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>خام تیل کی قیمتیں پیر کے روز 25 فیصد سے زائد بڑھ گئیں اور جولائی 2022 کے بعد کی بلند ترین سطحوں پر پہنچ گئیں، کیونکہ کچھ بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک نے سپلائی کم کر دی اور امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگ کی وجہ سے شپنگ میں طویل رکاوٹوں کے خدشات نے مارکیٹ کو گھیر لیا۔</strong></p>
<p>توانائی کی مارکیٹیں خاص طور پر بحران کا شکار ہیں کیونکہ یہ بحران آبنائے ہرمز کے گرد گھوم رہا ہے، جہاں سے دنیا میں تیل کی تجارت کا پانچواں حصہ گزرتا ہے، آبنائے ہرمز میں ٹینکرز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ اور بڑھتے ہوئے حفاظتی خطرات نے شپنگ سرگرمی کو سست کر دیا ہے، جس سے ایشیائی خریدار خاص طور پر متاثر ہو رہے ہیں کیونکہ وہ مشرق وسطی کے خام تیل پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔</p>
<p>برینٹ کروڈ فیوچرز 27 فیصد اضافے کے ساتھ 117.65 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئے جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (ڈبلیو ٹی آئی) فیوچرز 28.3 فیصد اضافے کے ساتھ 116.62 ڈالر فی بیرل ہو گئے۔</p>
<p>عراق اور کویت نے تیل کی پیداوار میں کمی شروع کر دی ہے، جبکہ قطر نے ایل این جی کی سپلائی کم کر دی تھی، جس سے مشرق وسطی سے شپمنٹس متاثر ہوئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو بھی جلد پیداوار کم کرنی پڑے گی کیونکہ ان کے تیل کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں۔</p>
<p>ایران میں علی خامنہ ای کے جانشین کے طور پر مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری بھی قیمتوں کو بڑھا رہی ہے، جس سے ہارڈ لائنر قیادت کی مضبوطی کا اشارہ ملتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور دیگر تیل پیدا کرنے والے ممالک کے انفراسٹرکچر پر حملے جاری رہیں گے، جس سے قیمتیں 120 ڈالر سے 130 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہیں۔</p>
<p>عالمی صارفین اور کاروبار ہفتوں یا مہینوں تک مہنگے ایندھن کے بحران کا سامنا کر سکتے ہیں، کیونکہ سپلائرز نقصان شدہ سہولیات، نقل و حمل میں رکاوٹیں اور بڑھتے ہوئے شپنگ کے خطرات سے نبرد آزما ہوں گے۔</p>
<p>دریں اثنا، امریکی سینیٹ کے ڈیموکریٹک لیڈر چک شومر نے صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو سے تیل جاری کریں تاکہ مارکیٹ مستحکم ہو اور قیمتوں میں کمی آئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283663</guid>
      <pubDate>Mon, 09 Mar 2026 11:31:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0908310750d0d6f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0908310750d0d6f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
