<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشرق وسطیٰ کی جنگ میں توانائی بحران کے باعث بنگلہ دیش میں ایندھن کی راشننگ کا آغاز</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283658/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے بحران میں شدت آنے پر بنگلہ دیش نے  ایندھن کی راشننگ کا آغاز کر دیا، جس کی وجہ سے فلنگ اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوامی غصہ پھٹ پڑا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;17 کروڑ آبادی والا یہ ملک اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا 95 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور خلیج میں تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد  بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) نے زیادہ تر گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فروخت محدود کر دی ہے۔ فراہمی میں ممکنہ تعطل کی وارننگ کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے حکام نے مختلف گاڑیوں کے لیے ایندھن کی خریداری کی حد مقرر کر دی ہے، مثال کے طور پر موٹر سائیکل سوار اب ایک وقت میں صرف دو لیٹر پیٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی پی سی نے ایک بیان میں کہا کہ بحرانی صورتحال میں صارفین معمول سے زیادہ خریداری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ہفتے کی رات جنوبی ضلع جھنائیدہ میں ایندھن کے حصول پر ہونے والے جھگڑے میں ایک 25 سالہ نوجوان نیروب حسین جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے تین بسوں کو آگ لگا دی اور ایک فلنگ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ ہی دارالحکومت ڈھاکہ میں پیٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ ایک موٹر سائیکل سوار محمد الامین نے بتایا کہ اسے صرف دو لیٹر پیٹرول کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا، جبکہ ایک ڈاکٹر  اے کے ایم روح الامین نے شکایت کی کہ وہ صرف 10 لیٹر ایندھن حاصل کر سکے جو کافی نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈسٹری بیوٹر میگھنا پیٹرولیم لمیٹڈ کے مطابق گاہکوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کیمیکل انڈسٹریز کارپوریشن کے عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ کشیدگی کی وجہ سے ملک کے چھ میں سے پانچ فرٹیلائزر (کھاد) کارخانے 18 مارچ تک بند کر دیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے باعث توانائی کے بحران میں شدت آنے پر بنگلہ دیش نے  ایندھن کی راشننگ کا آغاز کر دیا، جس کی وجہ سے فلنگ اسٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں اور عوامی غصہ پھٹ پڑا۔</strong></p>
<p>17 کروڑ آبادی والا یہ ملک اپنی تیل اور گیس کی ضروریات کا 95 فیصد حصہ درآمد کرتا ہے۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں اور خلیج میں تہران کی جوابی کارروائیوں کے بعد  بنگلہ دیش پیٹرولیم کارپوریشن (بی پی سی) نے زیادہ تر گاڑیوں کے لیے ایندھن کی فروخت محدود کر دی ہے۔ فراہمی میں ممکنہ تعطل کی وارننگ کے بعد پیدا ہونے والی افراتفری اور ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے حکام نے مختلف گاڑیوں کے لیے ایندھن کی خریداری کی حد مقرر کر دی ہے، مثال کے طور پر موٹر سائیکل سوار اب ایک وقت میں صرف دو لیٹر پیٹرول حاصل کر سکتے ہیں۔</p>
<p>بی پی سی نے ایک بیان میں کہا کہ بحرانی صورتحال میں صارفین معمول سے زیادہ خریداری کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ ہفتے کی رات جنوبی ضلع جھنائیدہ میں ایندھن کے حصول پر ہونے والے جھگڑے میں ایک 25 سالہ نوجوان نیروب حسین جاں بحق ہو گیا، جس کے بعد مشتعل ہجوم نے تین بسوں کو آگ لگا دی اور ایک فلنگ اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی۔</p>
<p>اتوار کو پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ ہی دارالحکومت ڈھاکہ میں پیٹرول پمپوں کے باہر گاڑیوں کی لمبی لائنیں لگ گئیں۔ ایک موٹر سائیکل سوار محمد الامین نے بتایا کہ اسے صرف دو لیٹر پیٹرول کے لیے ایک گھنٹے سے زیادہ انتظار کرنا پڑا، جبکہ ایک ڈاکٹر  اے کے ایم روح الامین نے شکایت کی کہ وہ صرف 10 لیٹر ایندھن حاصل کر سکے جو کافی نہیں ہے۔</p>
<p>ڈسٹری بیوٹر میگھنا پیٹرولیم لمیٹڈ کے مطابق گاہکوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو چکی ہے۔ ادھر بنگلہ دیش کیمیکل انڈسٹریز کارپوریشن کے عہدیدار نے بتایا کہ موجودہ کشیدگی کی وجہ سے ملک کے چھ میں سے پانچ فرٹیلائزر (کھاد) کارخانے 18 مارچ تک بند کر دیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283658</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 22:04:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/08215726e891fda.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/08215726e891fda.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
