<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:14:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آپریشن غضب للحق : 583 افغان طالبان ہلاک، 795 سے زائد زخمی، عطا اللہ تارڑ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283654/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضبِ للحق کے حوالے سے اہم آپریشنل اپ ڈیٹ جاری کی ہے، جس میں افغان طالبان کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک 583 افغان طالبان ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
    &lt;figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/2030587917312135421?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2030587917312135421%7Ctwgr%5E00117ad0566d2985c5b9a5532a062d9a9912554a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40410663'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/2030587917312135421?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2030587917312135421%7Ctwgr%5E00117ad0566d2985c5b9a5532a062d9a9912554a%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40410663"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں میں 242 چیک پوسٹیں کامیابی سے تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ مزید 38 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اطلاعات کی رپورٹ میں بھاری فوجی ساز و سامان کی تباہی کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں، جن میں 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے شامل ہیں۔ ان تزویراتی کامیابیوں کو درست نشانے پر مبنی فضائی کارروائیوں سے تقویت ملی اور وزیر نے تصدیق کی کہ افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان اعداد و شمار کا انکشاف آپریشن غضبِ للحق کے ایک فیصلہ کن مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجی آلات کی تباہی اور چیک پوسٹوں کو ناکارہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدف بنائے گئے علاقوں میں افغان طالبان کی آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب عالمی برادری نے اس تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات پر زور دیا ہے۔ حکام کے مطابق طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 27 فروری کو پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت طالبان کی فوجی تنصیبات اور پوسٹوں کو نشانہ بنایا، جو حالیہ برسوں میں مغربی پڑوسی ملک کی حدود میں پاکستان کی سب سے گہری کارروائیوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کر رہے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی ان کارروائیوں کو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا جواب قرار دیا، جبکہ کابل نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابل کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن کسی بھی بڑے تنازع کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس لڑائی نے 2,600 کلومیٹر طویل ناہموار سرحد پر طویل مدتی تنازع کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے آپریشن غضبِ للحق کے حوالے سے اہم آپریشنل اپ ڈیٹ جاری کی ہے، جس میں افغان طالبان کو پہنچنے والے جانی اور مالی نقصان کی تفصیلات فراہم کی گئی ہیں۔</strong></p>
<p>سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنی پوسٹ میں وزیر اطلاعات نے بتایا کہ آپریشن کے آغاز سے اب تک 583 افغان طالبان ہلاک جبکہ 795 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</p>
    <figure class='media  w-full sm:w-full  media--center    media--uneven  media--stretch' data-original-src='https://x.com/TararAttaullah/status/2030587917312135421?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2030587917312135421%7Ctwgr%5E00117ad0566d2985c5b9a5532a062d9a9912554a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40410663'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TararAttaullah/status/2030587917312135421?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E2030587917312135421%7Ctwgr%5E00117ad0566d2985c5b9a5532a062d9a9912554a%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https%3A%2F%2Fwww.brecorder.com%2Fnews%2F40410663"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure>
<p>انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں میں 242 چیک پوسٹیں کامیابی سے تباہ کر دی گئی ہیں جبکہ مزید 38 پوسٹوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے۔</p>
<p>وزیر اطلاعات کی رپورٹ میں بھاری فوجی ساز و سامان کی تباہی کی تفصیلات بھی دی گئی ہیں، جن میں 213 ٹینک، بکتر بند گاڑیاں اور توپ خانے شامل ہیں۔ ان تزویراتی کامیابیوں کو درست نشانے پر مبنی فضائی کارروائیوں سے تقویت ملی اور وزیر نے تصدیق کی کہ افغانستان بھر میں 64 مقامات کو فضائی حملوں میں مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا گیا ہے۔</p>
<p>ان اعداد و شمار کا انکشاف آپریشن غضبِ للحق کے ایک فیصلہ کن مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ اتنی بڑی تعداد میں فوجی آلات کی تباہی اور چیک پوسٹوں کو ناکارہ بنانا اس بات کا ثبوت ہے کہ ہدف بنائے گئے علاقوں میں افغان طالبان کی آپریشنل صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب عالمی برادری نے اس تنازع پر بڑھتی ہوئی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فوری مذاکرات پر زور دیا ہے۔ حکام کے مطابق طالبان فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 27 فروری کو پاکستان نے کابل اور قندھار سمیت طالبان کی فوجی تنصیبات اور پوسٹوں کو نشانہ بنایا، جو حالیہ برسوں میں مغربی پڑوسی ملک کی حدود میں پاکستان کی سب سے گہری کارروائیوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>اسلام آباد کا الزام ہے کہ طالبان تحریکِ طالبان پاکستان کے دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں جو پاکستان کے اندر دہشت گردی کر رہے ہیں، تاہم طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔ پاکستان نے اپنی ان کارروائیوں کو سرحد پار سے ہونے والے حملوں کا جواب قرار دیا، جبکہ کابل نے انہیں اپنی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی ہے۔</p>
<p>کابل کا کہنا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن کسی بھی بڑے تنازع کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ اس لڑائی نے 2,600 کلومیٹر طویل ناہموار سرحد پر طویل مدتی تنازع کا خطرہ بڑھا دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283654</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 21:52:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/08212443e4e798e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/08212443e4e798e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
