<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:18:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تاجر برادری کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283651/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کراچی کی تاجر برادری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم قرار دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری لاگت بڑھے گی اور ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ فی لیٹر 55 روپے (تقریباً 20 فیصد) اضافہ پہلے سے پریشان حال عوام اور معیشت کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین، بھارت اور جاپان جیسی بڑی معیشتیں اپنی ضرورت کا بڑا حصہ خلیج سے درآمد کرنے کے باوجود قیمتوں کا اتنا بوجھ فوری طور پر عوام پر نہیں ڈالتیں۔ انہوں نے قیمتوں کے تعین کی مدت 15 دن سے کم کر کے ایک ہفتہ کرنے پر بھی تنقید کی، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائٹ  ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن فدا نے مطالبہ کیا کہ حکومت عالمی قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکسز میں کمی کر کے خود برداشت کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے کنوینر سید امان شاہ نے بھی اس اضافے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی حالات کا بہانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے تقابلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں جب عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تھیں، تب پاکستان میں پیٹرول تقریباً 110 روپے فی لیٹر دستیاب تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کراچی کی تاجر برادری نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ بڑے اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے عوام پر پیٹرول بم قرار دیا ہے۔ تاجروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری لاگت بڑھے گی اور ملک میں مہنگائی کا نیا طوفان آئے گا۔</strong></p>
<p>کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) کے صدر محمد اکرام راجپوت نے کہا کہ فی لیٹر 55 روپے (تقریباً 20 فیصد) اضافہ پہلے سے پریشان حال عوام اور معیشت کے لیے تشویشناک ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ چین، بھارت اور جاپان جیسی بڑی معیشتیں اپنی ضرورت کا بڑا حصہ خلیج سے درآمد کرنے کے باوجود قیمتوں کا اتنا بوجھ فوری طور پر عوام پر نہیں ڈالتیں۔ انہوں نے قیمتوں کے تعین کی مدت 15 دن سے کم کر کے ایک ہفتہ کرنے پر بھی تنقید کی، جس سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔</p>
<p>سائٹ  ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمن فدا نے مطالبہ کیا کہ حکومت عالمی قیمتوں کا بوجھ عوام پر ڈالنے کے بجائے پیٹرولیم ٹیکسز میں کمی کر کے خود برداشت کرے۔</p>
<p>عوام پاکستان پارٹی بلوچستان کے کنوینر سید امان شاہ نے بھی اس اضافے کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ حکومت عالمی حالات کا بہانہ بنا رہی ہے۔ انہوں نے تقابلی ڈیٹا پیش کرتے ہوئے بتایا کہ 2014 میں جب عالمی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تھیں، تب پاکستان میں پیٹرول تقریباً 110 روپے فی لیٹر دستیاب تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283651</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 17:15:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com ()</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/08170949b4c77d2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/08170949b4c77d2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
