<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:54:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>عالمی سطح پر تیل نرخ بڑھنے کے خدشات، سندھ اور وفاقی حکومت کا ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283649/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزراء نے اتوار کو ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیشِ نظر ہنگامی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ساتھ سینئر وفاقی اور صوبائی حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری اور دیگر حکام شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وفد میں پیٹرولیم ڈویژن، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہیں۔ اجلاس میں ایندھن کی بچت کے ہنگامی اقدامات اور توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر بحث کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوامی تعاون کے ساتھ توانائی کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بناتے ہوئے قومی معیشت کو رواں رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز کو مزید غور و خوض کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت عالمی توانائی کی منڈیوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کر رہی ہے۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کا ماہانہ تیل کی درآمد کا بل تقریباً 600 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر زور دیا، تاکہ موجودہ ذخائر طویل عرصے تک چل سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیٹرول کی تین ترسیلات  پیر تک پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرکاء کو پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے خدشات سے بھی آگاہ کیا گیا، جس پر وفاقی اور صوبائی حکام نے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے ایندھن کی فراہمی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر سپلائی روٹس کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ توانائی کی ابھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور وفاقی وزراء نے اتوار کو ملک میں ایندھن کی فراہمی کی صورتحال کا جائزہ لیا اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے خدشات کے پیشِ نظر ہنگامی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔</strong></p>
<p>وزیراعلیٰ ہاؤس میں ہونے والے اس اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کے ساتھ ساتھ سینئر وفاقی اور صوبائی حکام نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کے ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق اجلاس میں سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سیکریٹری توانائی شہاب انصاری اور دیگر حکام شریک ہوئے، جبکہ وفاقی وفد میں پیٹرولیم ڈویژن، آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اور سوئی سدرن گیس کمپنی کے اعلیٰ حکام شامل تھے۔</p>
<p>حکام نے اجلاس کو بریفنگ دی کہ اگر مشرقِ وسطیٰ کا تنازع شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 120 ڈالر فی بیرل تک بڑھ سکتی ہیں۔ اجلاس میں ایندھن کی بچت کے ہنگامی اقدامات اور توانائی کے ممکنہ بحران سے نمٹنے کے لیے ذمہ دارانہ استعمال کی ضرورت پر بحث کی گئی۔</p>
<p>مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت کی ترجیح عوامی تعاون کے ساتھ توانائی کے دانشمندانہ استعمال کو یقینی بناتے ہوئے قومی معیشت کو رواں رکھنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اجلاس میں زیرِ بحث آنے والی تجاویز کو مزید غور و خوض کے لیے صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔</p>
<p>وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ وفاقی حکومت عالمی توانائی کی منڈیوں کی کڑی نگرانی کر رہی ہے اور تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے مالی اثرات سے نمٹنے کے لیے متبادل منصوبے تیار کر رہی ہے۔ حکام نے اجلاس کو بتایا کہ عالمی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کا ماہانہ تیل کی درآمد کا بل تقریباً 600 ملین ڈالر تک بڑھ سکتا ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے ایندھن کی بچت کے اقدامات پر زور دیا، تاکہ موجودہ ذخائر طویل عرصے تک چل سکیں۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ پیٹرول کی تین ترسیلات  پیر تک پاکستان پہنچنے کی توقع ہے۔</p>
<p>شرکاء کو پیٹرول پمپوں پر ایندھن کی ممکنہ ذخیرہ اندوزی کے خدشات سے بھی آگاہ کیا گیا، جس پر وفاقی اور صوبائی حکام نے ذخیرہ اندوزی کو روکنے کے لیے تعاون بڑھانے کا فیصلہ کیا۔ اجلاس میں مزید بتایا گیا کہ پاکستان سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی رابطوں کے ذریعے ایندھن کی فراہمی کے متبادل ذرائع تلاش کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز کے علاوہ دیگر سپلائی روٹس کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔</p>
<p>وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ وفاقی حکومت پیٹرولیم لیوی میں ریلیف حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے رجوع کرنے کا بھی ارادہ رکھتی ہے۔ یہ فیصلہ کیا گیا کہ توانائی کی ابھرتی ہوئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان قریبی رابطہ برقرار رکھا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283649</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 16:30:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/08154047f25e745.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/08154047f25e745.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
