<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:00:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سندھ حکومت کی موٹر وہیکلز ایکٹ میں ترمیم، تھرڈ پارٹی انشورنس لازمی قرار</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40283633/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سندھ حکومت نے موٹر وہیکلز (ترمیم) ایکٹ 2026 میں ترمیمات متعارف کراتے ہوئے صوبے میں رجسٹرڈ تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ سڑک حادثات کے شکار افراد کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ قانونی فریم ورک کو مضبوط بنایا جا سکے اور ملک بھر میں لازمی موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کو مؤثر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کے تحت نیا سیکشن 67-ایچ شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس لازمی قرار دی گئی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت بغیر بیمہ پالیسی کے کوئی گاڑی رجسٹر، منتقل یا سالانہ ٹوکن ٹیکس ادا نہیں کر سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس ایک بنیادی اور سستی پالیسی ہے جو حادثے کی صورت میں کسی دوسرے شخص کی جائیداد کے نقصان، چوٹ یا موت کی قانونی ذمہ داری کو کور کرتی ہے۔ ترمیم میں بغیر قصور کے بنیاد پر متعین معاوضے کی حدیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ متاثرین یا ان کے قانونی وارثین کو بروقت مالی ریلیف مل سکے۔ اس میں موت کی صورت میں 700,000 روپے اور مستقل معذوری کی صورت میں 500,000 روپے کی رقم شامل ہے، جو  صارفین کے تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اصلاح کے ساتھ، سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جو مضبوط قانونی فریم ورک کے تحت تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کو مؤثر طور پر نافذ کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نفاذ اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ایس ای سی پی نے موٹر انشورنس ریپوزیٹری (ایم آئی آر) کو فعال کیا ہے، جو ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہے جس میں بیمہ کمپنیوں کی طرف سے جاری موٹر انشورنس پالیسیز کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے انشورنس پالیسیز کی ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہے اور گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت قانونی کم از کم شرائط کی تعمیل یقینی بنائی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ای سی پی پنجاب پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ گاڑیوں کے روٹ پرمٹ نظام کو موٹر انشورنس ریپوزیٹری سے آن لائن جوڑا جا سکے، جس سے ملک بھر میں نفاذ کے اقدامات مزید مضبوط ہوں گے۔ کمیشن نے سندھ حکومت کی اس اہم صارف تحفظ اور سڑک سیفٹی اقدام پر تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی اسی طرح کے اقدامات اپنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>سندھ حکومت نے موٹر وہیکلز (ترمیم) ایکٹ 2026 میں ترمیمات متعارف کراتے ہوئے صوبے میں رجسٹرڈ تمام گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کو لازمی قرار دے دیا ہے تاکہ سڑک حادثات کے شکار افراد کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ قانونی فریم ورک کو مضبوط بنایا جا سکے اور ملک بھر میں لازمی موٹر تھرڈ پارٹی انشورنس کے نفاذ کو مؤثر بنایا جا سکے۔</p>
<p>صوبائی موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں ترمیم کے تحت نیا سیکشن 67-ایچ شامل کیا گیا ہے، جس کے تحت گاڑیوں کے لیے تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس لازمی قرار دی گئی ہے۔ نئے فریم ورک کے تحت بغیر بیمہ پالیسی کے کوئی گاڑی رجسٹر، منتقل یا سالانہ ٹوکن ٹیکس ادا نہیں کر سکتی۔</p>
<p>تھرڈ پارٹی موٹر انشورنس ایک بنیادی اور سستی پالیسی ہے جو حادثے کی صورت میں کسی دوسرے شخص کی جائیداد کے نقصان، چوٹ یا موت کی قانونی ذمہ داری کو کور کرتی ہے۔ ترمیم میں بغیر قصور کے بنیاد پر متعین معاوضے کی حدیں بھی شامل کی گئی ہیں تاکہ متاثرین یا ان کے قانونی وارثین کو بروقت مالی ریلیف مل سکے۔ اس میں موت کی صورت میں 700,000 روپے اور مستقل معذوری کی صورت میں 500,000 روپے کی رقم شامل ہے، جو  صارفین کے تحفظ کو نمایاں طور پر مضبوط کرتی ہے۔</p>
<p>اس اصلاح کے ساتھ، سندھ پاکستان کا پہلا صوبہ بن گیا ہے جو مضبوط قانونی فریم ورک کے تحت تھرڈ پارٹی لائیبلٹی انشورنس کو مؤثر طور پر نافذ کر رہا ہے۔</p>
<p>نفاذ اور شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے ایس ای سی پی نے موٹر انشورنس ریپوزیٹری (ایم آئی آر) کو فعال کیا ہے، جو ایک مرکزی ڈیجیٹل ڈیٹا بیس ہے جس میں بیمہ کمپنیوں کی طرف سے جاری موٹر انشورنس پالیسیز کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے انشورنس پالیسیز کی ڈیجیٹل تصدیق ممکن ہے اور گاڑی کی رجسٹریشن کے وقت قانونی کم از کم شرائط کی تعمیل یقینی بنائی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ایس ای سی پی پنجاب پروونشل ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے ساتھ کام کر رہا ہے تاکہ گاڑیوں کے روٹ پرمٹ نظام کو موٹر انشورنس ریپوزیٹری سے آن لائن جوڑا جا سکے، جس سے ملک بھر میں نفاذ کے اقدامات مزید مضبوط ہوں گے۔ کمیشن نے سندھ حکومت کی اس اہم صارف تحفظ اور سڑک سیفٹی اقدام پر تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ دیگر صوبے بھی اسی طرح کے اقدامات اپنائیں گے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2026</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40283633</guid>
      <pubDate>Sun, 08 Mar 2026 09:59:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2026/03/0809581983d0230.webp" type="image/webp" medium="image" height="448" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2026/03/0809581983d0230.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
